عمران خان نے 18 جنوری سے طاہر القادری کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کر دیا!

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا۔ ااس سانحے کے بعد پوری قوم اکٹھی ہوگئی تھی اور اب زینب کے قتل کے بعد قوم ایک مرتبہ پھر متحد نظر آ رہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ زینب کے قتل کی وجہ سے پوری قوم غمزدہ ہے۔ ماضی میں بھی ملک میں ایسے خوفناک واقعات ہوئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ زینب تو چلی گئی لیکن کیا ہم اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کر سکتے ہیں؟ آگے کوئی ایسا واقعہ نہ ہو اس کے لیے کوئی نظام بنائیں گے۔ زینب کے والد نے کہا کہ انہیں پولیس اور حکومت سے انصاف نہیں ملے گا۔ ’زینب کے والد نے چیف جسٹس اور آرمی چیف سے انصاف کی اپیل کی۔ لوگوں کا پولیس پر سے اعتبار ہی اُٹھ گیا ہے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ آئی جی پنجاب کی رپورٹ کے مطابق پولیس بھرتیاں شریف برادران کے حکم پر کی گئیں اور مجرموں کو پولیس میں بھرتی کیا گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ سن 2016 اور 17 میں خیبر پختونخواہ میں 26 فیصد جرائم کم ہوئے ہیں۔ ’جرائم کیوں کم ہوئے؟ کیونکہ ہم ایک با اختیار آئی جی لے کر آئے۔ آئی جی خیبر پختونخواہ کو ہدایت کی کوئی سیاسی اثر و رسوخ قبول نہیں کرنے‘۔

انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے بھی اپیل کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا نوٹس لیں۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ 17 جنوری کو طاہر القادری سڑکوں پر نکل رہے ہیں، ’پوری طاقت کے ساتھ 18 جنوری کو طاہر القادری کے ساتھ ہوں گا‘۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں