“کاش کہ وہ زمانہِ جاہلیت پھر لوٹ آئے”

"کاش کہ وہ زمانہِ جاہلیت پھر لوٹ آئے"
loading...

ہم نے جب آنکھ کھولی۔ تو ایک خوبصورت زمانہِ جاہلیت کا سامنا ہوا۔

تحریر: عائشہ شہزاد۔

ہمارا گاوں سڑک، بجلی اور ٹیلی فون جیسی سہولتوں سے تو محروم تھا ہی لیکن اطمینان اس قدر میسر تھا،جیسے زندگی کی ہر سہولت ہمیں میسر ہو۔ کائنات کی سب سے خوبصورت چیز جو میسرتھی وہ محبت تھی۔کوئی غیر نہیں سب اپنے تھے۔ ننھیال کے گاؤں والے سب مامے، ماسیاں، نانے نانیاں ہوا کرتے تھے۔ددھیال کی طرف والے سارے چاچے چاچیاں، پھوپھیاں دادے دادیاں ہوا کرتے تھے۔یہ تو جب ہمیں شعور ملا تو معلوم ہوا کہ وہ تو ہمارے چاچے مامے نہ تھے۔ بلکہ دوسری برادریوں کے لوگ تھے اور ہمارے بزرگ بھی بڑے نا سمجھ تھے۔ چاہے کام کسی کا ہی؛کیوں نہ ہوتا سب ملکر کرکیا کرتے تھے۔

سونے پہ سہاگہ یہ تھا کہ جن کے پاس بیل ہوتے وہ خود آکر دوسروں کی زمین کاشت کرتے اور کوئی معاوضہ بھی نہ طلب کرتے اور جب گندم کی کٹائی کے لیے گھر والوں کو دعوت دینے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ بلکہ گندم کاٹنے والے خود پیغام بھیجتے کہ ہم فلاں دن آ رہے ہیں اور کتنے معصوم تھے یہ لوگ گندم کی کٹائی پر بھی ڈھول بجاتے اور اپنی پوری طاقت لگا دیتے۔ جیسے انہیں کوئی انعام ملنے والا ہو۔ان کی معصومیت کا اندازہ آپ اس سے بھی کر سکتے ہیں کہ جب کوئی اپنا گھر بناتا تو جنگل سے کئی من وزنی لکڑی دشوارگزار راستوں سے چلتے ہوئے اپنے کندھوں پر اٹھا کے لاتے۔ پھر کئی ٹن مٹی چھت پر ڈالتے اور شام کو گھی شکر کے مزے لوٹ کر واپس گھروں کو لوٹ جاتے۔

مزید پڑھیں۔  الیکٹرانک میڈیا اور طوائفیں

جب کسی کی شادی ہو تو دولہے کو تو مہندی لگتی ہی تھی لیکن باقی گھر والے بھی جیسے مہندی لگائے ہوں کیونکہ کام سب گاوں والے ایسے ملکر کر لیتے جیسے ان کے اپنے گھر کی شادی ہو دولہا یا دولہن کے گھر والوں پر بوجھ نہیں بنتے تھے۔ اتنے مخلص تھے کہ اگر کسی سے دوستی کر لیتے تو اسے ایسے نبھاتے۔جیسے سسی نے کچے گڑھے پر دریا میں چھلانگ لگا کر نبھائی۔گندم کی گہائی پر تپتی دھوپ میں بیلوں کے ساتھ ایسے چکرلگاتے جیسے کوئی سزا بھگت رہے ہوں۔ اگر کوئی وفات پا جاتا تو سب دھاڑیں مار مار کر ایسے روتے کہ پہچان ہی نہ ہو پاتی کہ مرنے والے کا سگاکون ہے۔ گاؤں والے ہی قبر کی کھدائی کرتے اورکفن دفن کا مکمل انتظام رکرتے، یہاں تک کے سوگوار خاندان کے ہاں ہفتہ بھر چولہا نہیں جلتا تھا۔گاؤں والے ہی ان کے کھانے کا انتظام کرتے تھے۔

آج صورتحال یکسر مختلف ہے اور بد سے بدتر کی طرف جا رہی ہے۔ کاش کہ ہم زندگی جیسی قیمتی نعمت کو سمجھ سکیں۔ اس کائنات کے حسن سے لطف اندوز ہو سکیں ،اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کر سکیں کہ وہ شعور، عمل و کردار کی ان بلندیوں پر جائیں کہ وہ خوبصورت اور بیتے ہوئے لمحے پھر لوٹ آئے،جس نے انسانوں کو اعلیٰ اخلاق کے درجے پر کھڑا کر رکھا تھا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں