ہزارہ برادری ٹارگٹ کلنگ کیس، قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو 15 دن میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم

ہزارہ برادری

ہزارہ برادری کے وکیل نے کہا کہ 20 برس دے ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، آج تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی

سپریم کورٹ نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دور ان قانون نافذ کرنے والے اداروں کو15 دن میں تمام معاملات کی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پولیس کو معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کے بغیر ہمارا وجود ممکن نہیں، ان کو دشمن نہ سمجھا جائے ٗحکومت ہزارہ برادری کو تحفظ نہیں دے سکتی تو انہیں جینے کا راستہ تو دے ٗسیکیورٹی پلان 2013 کو بہتر بناکر اس پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے میرے نزدیک ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ نسل کشی ہے جس پر سوموٹو لینا پڑا۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بینچ نے ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی، اس دوران سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ ٗایف سی کے نمائندے، انسپکٹر جنرل بلوچستان اور ہزارہ برادری کے وکیل پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں کہ ان بدقسمت واقعات کی مذمت کرسکیں ٗمیرے مطابق یہ نسل کشی ہے، جس پر مجھے ازخود نوٹس لینا پڑا۔

سماعت کے دوران ہزارہ برادری کے وکیل افتخار علی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ہمیں جانی و مالی نقصان دیا جارہا ہے ہمیں نوکریاں نہیں دی جاتی، ہمارے لوگ مجبور ہو کر آسٹریلیا چلے گئے۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئی جی ایف سی کہاں ہیں؟ جس پر نمائندہ ایف سی نے جواب دیا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں میں ان کے نمائندے کے طور پر موجود ہوں۔

مزید پڑھیں۔  سیاسی جماعتیں بمقابلہ مزہبی جماعت۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے ہزارہ برادری کے جان و مال کی حفاظت کرنی ہے، اس حوالے سے تمام ایجنسیاں رپورٹ دیں کہ کس طرح یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ دوران سماعت وکیل ہزارہ برادری نے بتایا کہ ان کے معتبرین سے بھی سیکیورٹی وپس لے لی گئی ہے، جس پر ڈی آئی جی کوئٹہ نے جواب دیا کہ ہم نے سیکیورٹی واپس نہیں لی ہے۔ ہزارہ برادری کے وکیل نے کہا کہ 20 برس دے ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، آج تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے رپورٹ بنائی ہے؟

loading...

جس پر آئی جی پولیس کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2012 سے اب تک مختلف مکاتب فکر کے 124 افراد، 106 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور 20 آبادگار کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی۔آئی جی پولیس نے بتایا کہ گزشتہ 6 برسوں میں 399 ہزارہ برادری کے افراد، 36 سنی، 29 آباد گاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اسی عرصے میں 344 سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور 19 اقلیتی برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی جبکہ 2013 میں سب سے زیادہ 208 ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی تاہم آئی جی پولیس کا عدالت میں بتایا کہ اب حالات میں کافی بہتری آگئی ہے، صوبے میں 4 ماہ کے دوران 9 ہزارہ برادری کے افراد کو نشانہ بنایا گیا جبکہ رواں سال 28 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شہید ہوئے۔

اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی شہادت کا ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ سے کیا تعلق ہے؟ اس پر آئی جی پولیس نے کہا کہ ہماری بہت محنت ہے، جس کی وجہ سے اعداد و شمار میں کمی آئی ہے، سی ٹی ڈی نے اغواء برائے تاوان کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت ہزارہ برادری کو تحفظ نہیں دے سکتی تو انہیں جینے کا راستہ تو دے، یہ بتائیں کس سطح پر ان معاملات کے لیے بات کی جائے۔

مزید پڑھیں۔  خواجہ سراوں کیلئے شناختی کارڈ کے اجراء کے عمل کو سادہ اور آسان بنایا جائیگا، چیف سیکرٹری پنجاب

اس پر وکیل افتخار علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمارے 2013 کے سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگراس پلان پر عملدرآمد ہو تو مسئلہ حل ہو جائے گا؟چیف جسٹس ثاقب نثار کے استفسار پر وکیل افتخار علی نے بتایا کہ اس پلان کو ازسر نو دیکھا جائے تو مزید بہتر ہوسکتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیکیورٹی پلان 2013 کو بہتر بناکر اس پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں