جمال خاشقجی قتل کی آڈیو امریکہ کو فراہم کردی، ترک صدر

ترک صدر

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی عرب کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے کہ وہ خاشقجی قتل کیس کی تحقیقات میں تعاون کرے

  سعودی صحافی کے قتل سے چند منٹ قبل کی آڈیو ریکارڈنگ امریکہ اور دیگر ممالک کو فراہم کردی۔ تفصیلات کے مطابق رجب طیب اردوان نے ہفتے کو سرکاری ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بار جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق بات کی اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ سعودی حکومت اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو مٹانے کے لیے ہمارے ساتھ تفتیش میں تعاون کرے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ سعودی حکومت آگے بڑھتے ہوئے تفتیش میں خود ہی تعاون کرے اور اپنے اوپر لگنے والے داغ کو ہٹائے کیونکہ اُن کی خاموشی بہت سارے سوالات کو جنم دے رہی ہیں۔

رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ہم نے خاشقجی قتل سے قبل ہونے والی آڈیو ریکارڈنگ امریکا، سعودی عرب، جرمنی اور دیگر ممالک کو بھیج دیں اب وہ سُن سکتے ہیں کہ استنبول کے قونصل خانے میں کیا کچھ ہوا۔

loading...

اُن کا کہنا تھا کہ ’سعودی صحافی استنبول قونصل خانے میں اپنی شادی کے کاغذات لینے کے لیے داخل ہوا تھا، اُس کے بعد جمال خاشقجی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جن ممالک کو آڈیو ریکارڈنگ بھیجی گئیں اب وہ سُن سکتے ہیں کہ کیا ہوا‘۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ اگر تفتیش میں تعاون نہ کیا گیا تو حکومت اس آڈیو کی سی ڈیز بناکر عوام میں بھی تقسیم کردے گی۔ یہ خطاب رجب طیب اردگان نے پیرس میں منعقد ہونے والی ’ورلڈ وار‘ عالمی کانفرنس میں روانگی سے قبل کیں جنہیں انتہائی اہم تصور کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جانے کے بعد سے لاپتہ تھے، ترک حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں ہی قتل کرکے ان کی لاش کے ٹکڑے کردئیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ترک پراسیکیوٹر جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں گلا دبا کر قتل کردیا گیا تھا اور پھر ان کی لاش کو ٹھکانے لگادیا گیا۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں