حکومت سندھ سے مختلف محکموں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب

کومت سندھ

کراچی: منی لانڈرنگ کیس میں سپریم کورٹ کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے حکومت سندھ سے مختلف محکموں کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کی جانب سے حکومت سندھ سے سال 2013 سے 2018 تک مختلف ترقیاتی اسکیموں کے پروجیکٹ چارٹر ، مختص بجٹ، جاری کردہ رقم، ریوائز اسکیم کی معلومات اور اخراجات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جےآئی ٹی نے چیف سیکریٹری سندھ سے 12 نومبر تک تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ جے آئی ٹی کی درخواست کے بعد چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ منصوبہ بندی، خزانہ، توانائی، آبپاشی، ورکس، صحت، تعلیم، زراعت اور دیگر کو پیر تک فراہم کردہ پروفارمے پر تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
اس سے قبل جے آئی ٹی نے سندھ حکومت کو لکھے گئے خط میں صوبائی حکومت کے زیراستعمال تمام بینک اکاؤنٹس کی 10 سالہ تفصیلات طلب کی تھیں۔
جے آئی ٹی کی جانب سے 10 سال میں محکمہ آبپاشی اور کمیونیکشن ورکس کے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ 10 سال میں دونوں محکموں میں کتنی مالیت کے اور کتنے ٹھیکے دیے گئے، اس حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کی جائے۔
یاد رہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ نے 6 ستمبر کو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احسان صادق کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔
جے آئی ٹی کے ممبران میں کمشنر کارپوریٹ ٹیکس آفس عمران لطیف منہاس، ڈائریکٹر نیب نعمان اسلم، ایس ای سی پی کے ڈائریکٹر محمد افضل اور آئی ایس آئی کے بریگیڈیر شاہد پرویز شامل ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں