گوگل ہر ہفتے 250 سائیکل چوری ہونے پر پریشان

گوگل ہر ہفتے 250 سائیکل چوری ہونے پر پریشان

دینا بھر کا  مشہور انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل اپنے دفتر سے ہر ہفتے 250 سائیکل چوری ہونے پر  پریشان ۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گوگل جو اپنے ملازمین کو مراعات دینے کے حوالے سے مشہور ہے جس میں مفت سائیکلیں دینا بھی شامل ہے۔ لیکن گوگل اب انہی سائیکلوں کے چوری ہونے پر پریشان ہے۔ سائیکل واپس لانے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ۔

تفصیلات کےمطابق  دینا بھر کا  مشہور انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل جو اپنے ملازمین کو مراعات دینے کے حوالے سے مشہور ہے جس میں مفت سائیکلیں دینا بھی شامل ہے۔ لیکن گوگل اب انہی سائیکلوں کے چوری ہونے پر پریشان ہے۔ سائیکل واپس لانے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے ماؤنٹین ویو میں واقع گوگل کے ہیڈکوارٹر کو اپنی ان مفت سائیکلوں نے پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔

اس جگہ سے گوگل کی جی بائیکس نامی سائیکلیں ہر ہفتے سو سے ڈھائی سو کی تعداد میں چوری ہورہی ہیں اور کمپنی کو پریشان ہوکر حیران کن اقدامات کرنا پڑے ہیں۔ان اقدامات میں سب سے نمایاں تیس ملازمین اور پانچ وین پر مشتمل ایک ٹیم کی تشکیل ہے

loading...

جس کا کام پورے علاقے سے چوری شدہ سائیکلوں کو برآمد کرنا یا انہیں چوری ہونے سے بچانا ہے۔گوگل نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ سائیکلوں پر جی پی ایس ٹریکرز کی آزمائش بھی کی جنھیں کمپنی کے ملازمین ہی اپنے فون سے اوپن کرسکتے ہیں۔گوگل نے اپنے اس مفت سائیکل پروگرام کا آغاز 2007 میں کیا تھا اور 2009 میں رنگا رنگ جی بائیکس کو متعارف کرایا۔گوگل کا مقصد اپنے ہیڈکوارٹر والے علاقے کو کوپن ہیگن جیسے شہروں کی طرح لوگوں کے اندر سائیکل کے زیادہ استعمال کو فروغ دینا تھا۔تو یہی وجہ ہے کہ وہاں کے رہائشی ان سائیکلوں کو دوستانہ اقدام سمجھ کر جب دل کرتا ہے اٹھا کر اپنے گھر لے جاتے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ ماؤنٹین ویو کے میئر بھی یہاں سے ایک سائیکل لے کر جاچکے ہیں جبکہ گوگل کی مخالف کمپنی ارویکل کے ملازمین بھی اپنے دفتر جانے کے لیے یہاں کی سائیکلیں استعمال کرنے کے عادی ہیں۔وہاں کے میئر کا کہنا تھا کہ ہماری نظر میں یہ سائیکلیں درحقیقت بسوں سے نمٹنے کے لیے انعام ہے، یہ ان کی جانب سے گوگل کی ان سیکڑوں بسوں کا حوالہ تھا جس میں مختلف شہروں سے روزانہ ملازمین یہاں آتے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں