فاتح بیت المقدس۔۔۔ سلطان صلاح الدین ایوبی

صلاح الدین ایوبی

سلطان صلاح الدین ایوبی (SALADIN) کے تاریخی الفاظ

‘مجھے یہ ڈر ہونے لگا ہے کہ مسلمان اگر زندہ رہے تو وہ ہمیشہ صلیبیوں کے غلام اور آلہ کار رہیں گے۔ وہ اسی پر خوش رہیں گے کہ زندہ ہیں۔ مگر قو م کی حیثیت سے وہ مر چکے ہوں گے۔ جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے۔ وہا ں دو چیزیں سستی ہو جاتی ہیں۔ عورت کی عزت اور مرد کی غیرت’

نجم الدین ایوب قوم کے اعتبار سے گر اور عماد الدین زنگی کی فوج میں سپہ سالار کا عہدہ رکھتا تھا۔ نجم الدین ایوب کے بیٹے صلاح الدین پر عماد الدین زنگی بہت مہربان تھا۔ اُس نے صلاح الدین کی تعلیم وتربیت کا انتظام اپنے اہتمام سے کیا تھا۔

نجم ایوبی کی وفات کے بعد نور الدین زنگی نے اس کے بھائی شیرہ کو اپنی فوج کا سپہ سالار تعینات کیا اور صلاح الدین ایوبی کو دمشق کا قلعہ دار رکھا۔ جب مصر کی جانب عاضد عبیدی کی درخواست پر فوج بھیجی گئی تو شیرکے ساتھ نورالدین کے بھتیجے صلاح الدین کو بھی بھیجا۔ 567 ہجری میں صلاح الدین بن نجم الدین ایوب عاضد عبیدی کے بعد مصر کا بادشاہ بن گیا 569 ہجری میں جب سلطان نورالدین زنگی کا انتقال ہوا۔ تو یہاں ارکان سلطنت میں تخت نشینی کے متعلق اختلاف ہوا۔

صلاح الدین نے مصر سے دمشق آکر سلطان نورالدین کے بیٹے ملک صالح الدین کو تخت نشین کیا اور اسی تاریخ سے شام کی سلطنت بھی سلطان صلاح الدین کے زیر اثر اور زیر اقتدار آگئی۔ جس کے بعد یمن اور حجاز میں بھی اس کی حکومت قائم ہوئی۔

یہ زمانہ عالم اسلام کے لیے نازک تھا۔ یورپ کے عیسائیوں نے متفقہ طاقت سے شام ومصر پر حملہ کر دیا۔ صلاح الدین نے پہاڑ کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا۔عیسائیوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ناکام رہے۔

آخر کار تمام سرداروں نے مل کر صلاح الدین کو ملک شام کا باقاعدہ بادشاہ تسلم کیا اور سلطان صلاح الدین بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑوانے کی کوشش شروع کی۔

583 ہجری میں سلطان صلاح الدین ایک جنگ عظیم کے بعد بیت المقدس کے عیسائی بادشاہ کو میدان جنگ میں گرفتار کر لیا اور پھر اس سے یہ اقرار لے کر کہ وہ سلطان کے مقابلے میں نہ آئے گا۔ چھوڑ دیا۔

صلاح الدین ایوبی
PC: youtube

اس کے بعد مکہ پر قبضہ کیا اور 588 ہجری میں بیت المقدس کو فتح کر لیا۔ اس طرح 98 سال تک بیت المقد س عیسائیوں کے قبضے میں رہا۔ فرانس سمیت دیگر ممالک نے مل کر براعظم ایشیا سے اسلام کا نام مٹانے کے لیے حملہ کیا۔ لیکن صلاح الدین ایوبی نے چار سال تک کئی سو لڑائیاں لڑکر عیسائیوں کے اس بے پایاں لشکر کو خاک وخون میں ملا دیا اور اپنے سامنے سے بھگا دیا۔ مگر بیت المقدس کی دیواروں تک نہیں پہہنچنے دیا۔

Saladin (1137/1138–1193) was a Muslim military and political leader who as sultan (or leader) led Islamic forces during the Crusades. Saladin’s greatest triumph over the European Crusaders came at the Battle of Hattin in 1187, which paved the way for Islamic re-conquest of Jerusalem and other Holy Land cities in the Near East. During the subsequent Third Crusade, Saladin was unable to defeat the armies led by England’s King Richard I (the Lionheart), reuslting in the loss of much of this conquered territory. However, he was able to negotiate a truce with Richard I that allowed for continued Muslim control of Jerusalem.

آخر کا ر ناکام ونامراد یہ عیسائی سلاطین نہایت ذلت کے ساتھ واپس ہوئے۔ ان مذکورہ لڑائیوں میں سلطان صلاح الدین نے جس شرافت وانسانیت کا برتاؤ کیا اور جس شجاعت وجفاکشی کا اس سے اظہار ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک بھی تما م یورپ سلطان صلاح الدین کو عزت وعظمت کے ساتھ یادکرتاہے۔

589 ہجری میں سلطان صلاح الدین نے وفات پائی اور اپنے تقوی اور پرہیز گاری کی وجہ سے  اللہ کے اولیاء کرام میں ان کا شمار ہوا۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں