سانحہ 12 مئی: 12 مئی کو کراچی میں ہوا کیا تھا؟

سانحہ 12 مئی

12مئی کو ہونے والے ان واقعات میں 130 سے زائد افراد زخمی 48 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں گاڑیاں اور املاک بھی نذر آتش کردی گئیں۔

سانحہ 12 مئی پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حثیث رکھتا ہے۔ اس دن کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔ عام آدمی کے لیے یہ دن آج بھی ایک معمہ ہے۔ آخر اس دن کیا  ہوا اور کس نے کیا؟ کہ اتنے لوگ مارے گئے۔ یہ وہ سوالات ہیں جو عام آدمی کے ذہن میں اٹھتے ہیں۔ لیکن انکا تسلی بخش جواب آج تک نہیں مل سکا۔ مقدمات داخل دفتر ہوئے کئی مہینے گزر چکے ہیں لیکن مجرمان کیفر کردار تک نہیں پہنچائے گئے۔

آیئے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ اس دن ہوا کیا تھا۔

سابق آمر پرویز مشرف کے دور حکومت میں عدلیہ تقریبا معزول کر دی گئی تھی اور مئی 2007 میں عدلییہ بحالی کے لیے وکلاء تحریک اپنے عروج پر تھی۔ 12 مئی 2007 کو اُس وقت کے غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سندھ ہائی کورٹ کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر کراچی آنا تھا۔

چیف جسٹس افختار محمد چوہدری جب کراچی پہنچے تو اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان استقبال کے لیے نکلے اور کئی مقامات پر اُس وقت کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں میں مسلح تصادم شروع ہوگیا تھا۔ اس تصادم نے شہرِکراچی کو خون میں نہلا دیا۔

loading...
سانحہ 12 مئی
فوٹو بشکریہ دنیا نیوز

شہر کی مختلف  شاہراہوں اور چوک چوراہوں پر اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا اور خون ریزی میں وکلاء سمیت 48 افراد شہر کی سڑکوں پر دن دہاڑے قتل کردیئے گئے۔ 12 مئی کو ہونے والے ان واقعات میں 130 سے زائد افراد زخمی 48 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں گاڑیاں اور املاک بھی نذر آتش کردی گئیں۔

سانحہ 12 مئی
فوٹو بشکریہ ڈان نیوز

جس کے بعد شہر کے مختلف تھانوں میں ان افراد کے قتل کے 7 مقدمات درج ہوئے۔ تقریباً 20 ماہ قبل پولیس نے ساتوں مقدمات کے چالان انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں جمع کرایا، جس میں اُس وقت کے مشیر داخلہ اور موجودہ میئر کراچی وسیم اختر اور رکن سندھ اسممبلی کامران فاروق سمیت 55 سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔

یہ تمام ملزمان ضمانت پر رہا ہیں اور ابھی تک ملزمان پر فرد جرم عائد نہیں ہوسکی۔ تاہم ابھی تک اس خون ریزی کا اصل ذمہ دار کون اس بات کا تاحال کوئی واضح جواب نہیں مل پایا۔ کراچی کی اُس وقت کی دو بڑی پارٹیاں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایک دوسرے پر اس سانحے کی ذمہ داری کے الزامات لگاتی ہیں

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں