مدرزڈے اور اسلام میں ماں کا مقام

ماں

اسلام نے عورت کو ماں کی حیثیت سے جو مقام دیا وہ انسانیت کی معراج ہے۔

تحریر:عبدلررزاق میو

جیسا کے قران پا ک کی سورت (بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23۔24) میں ارشاد ربانی ہے ”

اور تیرے رب نے حکم کردیا ہے کہ سوائے اس کے کسی کی عبادت مت کرو تم (اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یادونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت وانکسار کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرما جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کی ہے)۔

ماں ایک ایسا رشتہ ہے جو بغیر کسی لالچ کے ہماری ضروریات پوری کرنے کی بھرپور کوشش کرتاہے ہمارے ہرُ دکھ سُکھ کا ساتھی ہوتاہے۔
اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے، جس نے سال بعد مدرڈے منانے کے بجائے ہر دن ہر لمحے کو ہی مدر ڈے بنا دیا۔ آج دنیا بھر میں مدرڈے کے حوالہ سے ایک دن کو مخصو ص کر دیا گیا ہے۔جب بچے اپنے والدین کو سال بعد ملنے کا اہتمام کرتے ہیں، اور اس کے بعد وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے والدین بھی ہیں۔ اور ان کے کوئی حقوق بھی ہیں، وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ اُن کے والدین اِن کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ ان کو اپنے دکھ سکھ کا ساتھی بنانا چاہتے ہیں، لیکن اسلام نے تو ماں کی عظمت کو اتنا بلند کر دیا کہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔

جیسے کے حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ

حضرت جاہمہ نے عرض کیا کہ یارسول ﷺمیں غزوے کا ارادہ رکھتا ہوں اور حضورﷺ سے مشورہ کرنے حاضر ہوا ہوں، حضور ﷺ نے دریافت کیا، تمہاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا: ہاں فرمایا،،اسی کی خدمت میں رہو، جنت اس کے قدموں تلے ہے۔

مزید پڑھیں۔  فوج کسی بھی طرح اپنے دامن پر لگا داغ دھوئے ،اسفندیار ولی خان

ماں بھی اپنی اولاد کی پرورش احسن طریقے سے انجام دینے میں مصروف رہتی ہے۔ اپنی اولاد کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے ہر وہ کام کر گزرتی ہے جو وہ کرسکتی ہے۔ کیونکہ ماؤں کی بہترین پرورش سے ایک عمدہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔
ما ں اپنی ا ولاد کے لیے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور دُعا کرتی رہتی ہے۔ وہ ہمیشہ چاہتی ہے میرا بیٹایا بیٹی خوش رہیں دنیا کی آسائش ان کے قدموں میں ہو۔ ماں 9 مہینے تک بچے کو اپنے پیٹ میں رکھتی ہے طرح طرح کی تکالیف برداشت کرتی ہے، جب بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو بچے کی دیکھ بھال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتی، سردیوں کی ٹھنڈی رات ہو یا گرمیوں تپتی دھوپ ماں ہمیشہ اپنے بچے کو محفوط رکھتی ہے۔ جب کبھی بچہ بیمار ہوجاتاہے تو اس کے علاج کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کوتیار ہوتی ہے۔جہاں بھی اچھا ڈاکٹر ملے اس کا علاج کرواتی ہے۔ اگر کسی خاتون کا شوہر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر دنیا سے وفات پا جاتاہے۔ تو وہ خاتون اپنی اولاد کی پرورش کے لیے دیہاڑی مزدوری کرتی ہے۔ کپڑے سلائی کرتی ہے۔یہاں تک کہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں برتن دھونے او ر صاف صفائی کا کام تک کر تی ہے۔ صر ف اس لیے کہ میرے بچوں کی اچھی پرورش ہو سکے، اچھے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔

لیکن ہمارے اس معاشرے میں ایسے بھی بے حِس بیٹے موجود ہیں، جب یہ جوان ہوتے ہیں تو اپنی ماں کو اہمیت نہیں دیتے کیونکہ یہ اس کے تمام احسانات کو فراموش کرچکے ہوتے ہیں۔ جب شادی ہو جاتی ہے تو صر ف بیوی کو ہی حرفِ آخر سمجھتے ہوئے ماں سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔ بیوی کے کہنے پر دھکے مار کر گھر سے نکال دیتے ہیں۔ گالم گلوچ کرتے ہیں۔ لیکن ماں تو ماں ہے،وہ کبھی بھی اپنے اس نالائق بیٹے کو بددعا نہیں دیتی اور اپنے رب سے اس کی لمبی عمر کی دعائیں مانگتی رہتی ہیں۔ آج کے اس جدید دورمیں اکثر لوگوں نے گھروں میں ماربل لگارکھے ہیں۔ جب ماں اپنے گھر میں داخل ہوتی ہے تو اس کی بہو زور دار آواز ڈانٹتے ہوئے کہتی ہے اپنے جوتے اتار کر اندر داخل ہوا کریں فرش گندہ ہوجاتاہے۔ لیکن بے حِس بیٹا اپنی بیوی کے سامنے اف تک نہیں کہتا، بلکہ الٹا ماں سے ہی کہتا ہے آ پ کو نظر نہیں آتا آپ کے جوتے گندے ہیں ٹھیک تو کہہ رہی ہے آپ کی بہو،ما ں بیچاری اپنے آنسو پونچھتے ہوئے جوتے ہا تھ لے کر اپنے کمرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس میں گھر کا کباڑ پڑا ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں۔  خواتین اور بچوں نے فائرنگ سے بچنے کے لیے کچن کے ایک کونے میں پناہ لی

اس بیچاری کو زندگی کے آخری دن گزارنے مشکل ہو جاتے ہیں۔لیکن ما ں کبھی اپنی اولاد کی کسی کے سامنے بُرائی نہیں کرتی، بلکہ اپنے ہمسائیوں کو یہی بتاتی ہے کہ میرے بہو بیٹے بہت اچھے ہیں میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔ماں اپنے بچوں کی تعریف اس لیے کرتی ہے کہ کہیں دنیا کے سامنے میری اولاد کا نا م خراب نا ہو جائے۔کوئی ان کو بُرا نہ کہے۔ میری آپ تمام قارئین سے مودبانہ التماس ہے کہ سال میں ایک دفعہ مدرڈے منانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم سب کو چاہیے کہ جس کی ماں دنیا میں زندہ ہے اس کی خدمت کرے،دنیا کو دیکھانے کے لیے تو ہم ماں کی تعریف کرتے ہوئے نہیں تھکتے، لیکن حقیقت میں ہم ماں کا مقام بھو ل چکے ہیں۔ ماں کی عزت اور احترام جو ہمارے پیارے مذہب اسلام نے اس کو عطا کیا۔ جو ہمیں ہر حال میں ادا کرنا چاہیے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں