روئی کی قیمت 8500 روپے من کی بلند سطح پر,مزید اضافے کا امکان

روئی

درآمد پر5فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہونے ،روپے کی بے قدری اور بعض ممالک کی جانب سے انکوائریاں بلند قیمتوں کی وجہ قرار

کراچی: ملک میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کا رجحان ہے اورروئی کی قیمتیں100روپے من اضافے کے ساتھ گزشتہ 7 سال کی نئی بلند ترین سطح8ہزار500روپے فی من تک پہنچ گئیں۔

جبکہ آئندہ چند روز کے دوران مزید تیزی کا امکان ہے ،چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے روئی کی درآمد پر پانچ فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہونے ،بعض ممالک کی جانب سے پاکستان سے روئی کی خریداری کے بارے انکوائریاں شروع ہونے اور روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر میں مسلسل اضافے کے رجحان کے باعث پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان سامنے آیا ہے۔

جسکے باعث پھٹی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے کاشتکاروں میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چین کی جانب سے امریکی روئی کی درآمد پربھاری ڈیوٹیز کے نفاذکے باعث توقع ہے کہ پاکستان سے رواں سال چین بڑے پیمانے پر سوتی دھاگہ درآمد کرے گا جس سے روئی کی قیمتوں میں مزید تیزی متوقع ہے ،انہوں نے بتایا کہ پھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈ تیزی کے باعث سندھ میں بعض جننگ فیکٹریاں بھی عارضی طور پر بند ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے فعال جننگ فیکٹریوں میں پھٹی کی آمد بہتر ہو گئی ہے ۔

تاہم بارشوں کے نئے متوقع سلسلے سے پھٹی کی چنائی متاثر ہو سکتی ہے ،انہوں نے زمینداروں پر زور دیا کہ کھیتوں سے پانی باہر جانے والے راستے ہر حال میں صاف اور کھلے رکھے جائیں تاکہ بارشوں کی صورت میں پانی فوری طور پر کھیتوں سے باہر نکالا جا سکے۔

مزید پڑھیں۔  پاکستانی فلم کوکوئی آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا،مہرین سید

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں