یوم شہدائے کشمیر (کل)جمعہ کوانتہائی عقیدت واحترام سے منایا جائے گا

کشمیر

شواہد پر مبنی رپورٹ نے بھارت کی سیاسی عسکری قیادت اور پالیسی سازوں کے ایوانوں میں بھونچال برپا کر دیا ہے

مظفرآباد: ریاست جموں وکشمیر کے دونوں اطراف، پاکستان کے چاروں صوبوں گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر میں یوم شہدائے کشمیر (کل)جمعہ کوانتہائی عقیدت واحترام ، قومی یکجہتی اس اس تجدید عہد کے ساتھ منایا جارہا ہے کہ جب تک کشمیر بھارت کے جابرانہ تسلط سے آزاد نہیں ہوتا ہماری پرامن جمہوری خود رو پودوں کی طرح اگنے والی تحریک آزاد ی آخری کشمیری آخری سانس تک جاری رہے گی ،13جولائی 1931 ء کو سرینگر جیل میں مقدمے کی سماعت کے دوران اللہ اکبر کی صدا ء میں شروع ہونے والے مقدس مشن کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے عام ہڑتال ہو گی کاروباری مراکز بند رہیں گے ، تمام ضلعی ، تحصیل ، سٹی مقامات پر جلسے جلوس ریلیاں ، احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ،جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ قابض بھارتی افواج کے مظالم ، بدترین ریاستی دہشت گردی ۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، کرفیو کے نفاذ ، پیلٹ گن کے استعمال ، کالے قوانین کے نفاذ پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو احتجاجی یاداشت ارسال کی جائے گی ۔

یوم شہدائے کشمیرکے موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے میڈیاکے نمائندگان کو پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری ریکارڈ شوکت جاوید میر نے بتایا  تھاکہ اقوام متحدہ کے دیرینہ حل طلب عالمی مسائل میں مسئلہ کشمیر کا باوقار منصفانہ حل چارٹر آف ڈیمانڈ سیکیورٹی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق یک از ہے جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی قوتیں با اثر ممالک ثالثی کا کردار ادا نہیں کرتیں تب تک دوطرفہ مذاکرات سے اس کا حل جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ، جس کی زندہ مثالیں انڈس واٹر ٹیرٹری، سیاہ چین سرکریک ، بگلہار ڈیم کے تنازعات دوطرفہ مذاکرات کے بجائے تیًسرے فریق کی مداخلت تک جا پہنچے ہیں ، تو اتنا بڑا مسئلہ جس کے لئے لاکھوں انسانوں کی زندگیاں لقمہ اجل بن چکی ہیں وہ کیسے حل ہو سکتا ہے۔

شوکت جاوید میرکاکہنا ہے کہ اقدامات برائے بحالی اعتماد ،کمپوزٹ ڈائیلاگ دو طرفہ تجارت ، وفود کے تبادلے ، کشمیریوں کی خون ریزی روکنے ، جان و مال کی تباہی کے تحفظ میں بری طرح پٹ چکے ہیں ، پاک بھارت ڈیڈ لاک نیوکلیئر وار چھڑنے کا سبب بن سکتا ہے اس لئے لازم ہے کہ عالمی برداری مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لئے بھارت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے کشمیریو ں کو شمولیت کا ٹائم فریم دینے میں سنجیدگی کا کلیدی کردار ادا کریں ۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  کترینہ کیف کو کینیڈا میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا

اپنا تبصرہ بھیجیں