پولیس اور انتظامیہ کو بتانا چاہتا ہوں کے وقت ایک جیسا نہیں رہتا، شہباز شریف

شہباز شریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا  ہے کہ انتظامیہ اور پولیس کوبتانا چاہتا ہوں کہ ظلم و زیادتی روک دیں، وقت ایک جیسا نہیں رہتا، جب ہماری حکومت آئے گی توہم آپ کوانصاف کے کٹہرے میں لے کر آئیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ پولیس نگران حکومت اور دیگر کی ہدایت پرہمارے کارکنان کو گرفتارکیا جارہا ہے ، یہ گرفتاریاں انتخابات سے قبل دھاندلی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف اہلیہ کی شدید بیماری کے باوجود پاکستان آرہے ہیں جن کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا۔ تاہم اس سے قبل راولپنڈی میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اور کارکنوں کو ایم پی او کے تحت بند کیا گیا، یہ سب الیکشن کو داغدار کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، ذمے دار کان کھول کر سن لیں، وقت ایک سا نہیں رہتا، جتنی بھی دھاندلی کرلیں ہم 25 جولائی کا انتخاب جیت رہے ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ نواز شریف پاکستان نہیں آرہے، کوئی پرواز منسوخ نہیں ہوئِی، نواز شریف اپنی بیٹی کے ہمراہ کل لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے، گرفتاریوں اور تشدد سے ہمیں ڈرایا نہیں جا سکتا۔ ہمارا کل کا پروگرام پرُامن ہے، اس کے باوجود کارروائیوں کا مطلب ہے دال میں کچھ تو کالا ہے جب کہ عمران خان لاہور میں جلسہ کر رہے ہیں اور ہمارے لیے دفعہ 144 نافذ ہے۔

مزید پڑھیں۔  شامی صدرکی زندگی پر نئی کتاب کی’’بشارالاسدنے یوں کہا‘‘کی اشاعت

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کی خدمت کرنے والے معمار ہیں، ملک کو دھرنوں سے تباہ کرنے والی دیگر جماعتیں ہیں، ہمارا مشن پاکستان کی تعمیر کرنا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کے استقبال کے لیے کارکنوں کے ہمراہ 13 جولائی کو ایئرپورٹ پہنچوں گا اور کارکن دوران استقبال سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پرامن طریقے سے نواز شریف کا استقبال کریں گے جب کہ کارکنوں کی گرفتاریاں الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھا رہی ہیں اور پارٹی صدر کی حیثیت سے کارکنوں کی گرفتاریوں پر خاموش نہیں بیٹھوں گا۔شہبازشریف نےکہا کہ شفاف انتخابات وقت کی ضرورت ہیں اور تمام جماعتوں کو برابری کی بنیاد پر انتخابی مہم چلانے کا موقع ملنا چاہیے۔انہوں نےمطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن لیگی کارکنان کی گرفتاری کا نوٹس لے، پولیس حنیف عباسی کو بھی گرفتار کرنا چاہتی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں