سی پیک کو متنازع بنانے کی کوشش۔۔۔ اداریہ

سی پیک

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سی پیک کے حوالے سے پاکستانی ترجیحات سرفہرست ہونگی۔ مستقبل اور تعاون کا تعین مشورے سے ہوگا۔ دونوں ممالک نے رفتار بڑھانے پر اتفاق اور دفاعی و سکیورٹی سمیت تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین قومی مفادات کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرتا رہے گا۔

ادھر پاکستان نے بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ سی پیک منصوبہ ہماری قومی ترجیح ہے۔ قبل ازیں برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرثانی کر رہی ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے سی پیک سے متعلق برطانوی اخبار کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔ پاک چین تعلقات ناقابل تسخیر ہیں اور دونوں ممالک میں سی پیک کے مستقبل پرمکمل یکسوئی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو سے متعلق وضاحتی بیان میں کہا کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی کے حالیہ دورہ میں پاکستان میں چین اور پاکستان کے مابین ہر طرح کے حالات میں اسٹرٹیجک تعاون جاری رکھنے اور سی پیک منصوبوں کو مکمل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں۔  ملک بھر میں71 واں یوم آزادی آج ملی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ دو ملکوں ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی خوشحالی کا ضامن ثابت ہوگا۔ اس امر کے واضح شواہد موجود ہونے کے باوجود بعض بین الاقوامی حلقے اس تشویش کا شکار چلے آرہے ہیں کہ یہ دنیا پر چین کی بالادستی کا سبب بنے گا۔

loading...

سی پیک کے بیشتر معاملات خفیہ ہیں اور منصوبوں، قرضوں، ان کی شرائط اور پابندیوں کے بارے میں معلومات عام جائزے کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ بظاہر کم شرح سود پر دیے جانے والے قرضے بھی مقابلہ بازی نہ ہونے کی وجہ سے نہایت مہنگے ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ چینی کمپنیاں اپنے کام کے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دام وصول کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان منصوبوں سے ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں ہو پایا لیکن قرضے 62 ارب ڈالر سے بڑھ کر 90 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔

دلچسپ بات ہے کہ موجودہ حکومت بھی مسلم لیگ نواز کی حکومت کی طرح سی پیک کو گیم چینجر قرار دیتی ہے اور نئی معاشی ترجیحات پر کام کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود ملکی معیشت اور سیاست کے لیے سب سے اہم سی پیک منصوبے پر نظرثانی کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ اس کے برعکس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کا دورہ کرنے والے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کو یقین دلایا ہے کہ سی پیک ملک کی نئی حکومت کی بھی اولین ترجیح ہے۔

اس کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کے ماہرین کا معاشی یا سیاسی تجزیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کی طرح اس منصوبہ کو ملکی معیشت کے لیے لازم و ملزوم سمجھنے پر مجبور ہے۔

مزید پڑھیں۔  اشتہاری ملزم کا ریلیف کے لیے عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ضروری ہے ٗ نیب

پاک فوج کے موجودہ اور سابقہ سربراہ متعدد بار اعلان کرچکے ہیں کہ سی پیک منصوبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے پر میرٹ کی بنیاد پر مباحث کی حوصلہ افزائی نہیں ہو سکی۔ نہ ہی یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکہ سے دوری اور دیگر معاشی مجبوریوں کی وجہ سے پاکستان اگرچہ سی پیک سے استفادہ کرسکتا ہے لیکن اس منصوبے کے حوالے سے چین کو حتمی اختیار دینا بھی کسی طرح قومی مفاد میں نہیں ہو سکتا۔

چین کو پاکستان سے بھی زیادہ سی پیک مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر اس کا ون روڈ ون بیلٹ کا منصوبہ تشنہ تکمیل رہے گا۔ چین اور پاکستان نے گزشتہ روز دونوں ملکوں کے مشترکہ دوستوں کو بھی ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے پر اتفاق کر کے شکوک و شبہات کا دروازہ بند کرنے کی مؤثر کوشش کی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں