آج کل کالم لکھنے کے غلط طریقے……. 1

کالم
loading...

ابھی مجھے اخبار میں کالم لکھتے ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک ای میل موصول ہوئی جس میں ایک عفیفہ نے پوچھا کہ میں اخبار میں کالم لکھنا چاہتی ہوں، بتائیں کیا کروں، میں نے جواب میں لکھا کہ آپ اپنی کوئی تحریر مجھے بھجوا دیں میں پڑھ کر رائے دوں گا۔ محترمہ نے جھٹ سے اپنا ایک مضمون مجھے ارسال کر دیا جس کی لکھائی دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ انہوں نے ہاتھوں کی بجائے پیروں سے لکھا ہے۔ بہ دِقت تمام میں نے وہ مضمون پڑھا اور اپنی دیانتدارانہ رائے دی کہ ابھی یہ تحریر کچی ہے، آپ اس پر مزید محنت کریں اورچونکہ آپ اردو اخبار میں لکھنے کی متمنی ہیں تو بہتر ہوگا کہ انگریزی کی بجائے اردو کے الفاظ زیادہ استعمال کریں۔ان موصوفہ کا جواب مجھے آج تک یاد ہے، انہوں نے لکھا کہ آپ خود ہی یہ مضمون ٹھیک کر دیں اور اسے جلدی سے جنگ میں چھپوا دیں، اور پلیز یہ متمنی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اس دن کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ کسی نئے لکھنے والے کی رہنمائی نہیں کرنی، کسی لکھاری کو اس کی تحریر کے بارے میں رائے نہیں دینی او ر اگر کوئی پوچھے کہ اخبار میں کالم کیسے لکھتے ہیں تو ٹکا سا جواب دینا ہے کہ ایڈیٹر صاحب سے رابطہ کریں۔

کچھ ایسے جی دار بھی ہیں جوسیدھی یہ فرمائش کرتے ہیں کہ بس جھٹ پٹ اِن کا کالم کسی بڑے اخبار میں شروع کروا دیا جائے۔ایسے لوگوں سے جب میں پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے کبھی زندگی میں سکول کالج کے بعد کوئی مضمون لکھا جو کسی چھوٹی موٹی جگہ شائع ہوا ہو، تو جواب ملتا ہے کہ کبھی لکھا ہی نہیں تو شائع کیسے ہوتا

سچی بات ہے کہ میں زیادہ دیر تک اِس فیصلے پر قائم نہیں رہ سکا کیونکہ یہ بات ہی مناسب نہیں کہ اگر کوئی آپ سے رہنمائی مانگے اور آپ اسے گائیڈ نہ کریں اور پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا مجھے پتہ چلاکہ اخبار میں کالم لکھنے کے خواہش مند افراد کی تعداد میں اضافہ اسی شرح سے ہو رہا ہے جس شرح سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے، روزانہ ہمارے ہاں اتنے بچے پیدا نہیں ہوتے جتنے کالم نگار پیدا ہوتے ہیں، لوگو ں کو لکھاری بننے کا اتنا شوق ہے اس کا مجھے اندازہ ہی نہیں تھا، روزانہ ایک آدھ ای میل اور پیغام اس قسم کا موصول ہوتا ہے کہ میں کالم لکھنا چاہتا/چاہتی ہوں بتائیں کیا کروں ؟

کچھ شریف لوگ یقیناً نمونے کی تحریر بھیج کر پوچھتے ہیں کہ بتائیے اس میں کچھ دم ہے یا نہیں مگر کچھ ایسے جی دار بھی ہیں جوسیدھی یہ فرمائش کرتے ہیں کہ بس جھٹ پٹ اِن کا کالم جنگ یا ایسے ہی کسی بڑے اخبار میں شروع کروا دیا جائے۔ایسے لوگوں سے جب میں پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے کبھی زندگی میں اسکول کالج کے بعد کوئی مضمون لکھا جو کسی چھوٹی موٹی جگہ شائع ہوا ہو، تو جواب ملتا ہے کہ کبھی لکھا ہی نہیں تو شائع کیسے ہوتا، میں پوچھتا ہوں کہ ابھی آپ نے کہا کہ لکھنے کا شوق ہے تو پھر لکھا کیوں نہیں، اِس پر مزید جواب ملتا ہے کہ ہمیں پتہ ہے کہ بغیر سفارش کے کہیں چھپنا ہی نہیں تو لکھنے کا فائدہ۔ اب یقیناًیہ منطق ارسطو کو لاجواب کرنے کے لئے کافی ہے میں بھلا کس کھیت کی مولی ہوں۔

نئے لکھنے والے عموما دو سوال کرتے ہیں۔ پہلا، کیسے لکھا جائے؟ دوسرا، کہاں لکھا جائے؟ پہلے سوال کا جواب مشکل ہے اور دوسرے کا اس سے بھی مشکل۔ اخبارات میں روزانہ درجنوں کالم شائع ہوتے ہیں، اگر قومی، علاقائی اور چھوٹے موٹے تمام اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین کو جمع کیا جائے تو یہ تعداد سینکڑوں میں جا پہنچتی ہے۔ کوئی بھی نارمل انسان یہ سب نہیں پڑھ سکتا، اخبارات پڑھنے والوں کی بڑ ی تعداد ایسی ہے جو خبریں پڑھ کر اخبار پرے رکھ دیتی ہے، بہت تھوڑے لوگ ہیں جو ادارتی صفحے تک جاتے ہیں اور اس سے بھی کم ہیں جو اس صفحے پر ایک آدھ کالم سے زیادہ پڑھتے ہیں، وقت کم ہے اور مقابلہ سخت۔ سو آپ کے لکھے ہوئے کالم میں ایسا کیا ہو کہ لوگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اسے پڑھنے پر مجبور ہو جائیں۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ نے اپنی تحریر پڑھ کر خود دینا ہے۔

فرض کریں کہ کوئی کالم ان الفاظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے کہ آج پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے، ہمیں جن مشکلات کا سامنا ہے وہ پہلے کبھی نہیں تھیں، ایک طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے اور دوسری جانب امریکہ، ہمیں چاہئے کہ ہم اغیار کی سازشوں سے ہوشیار ہیں توایسے کالم میں آج کل پکوڑے بھی نہیں بکتے۔

لکھنے کے لئے پانچ باتوں کا دھیان ضروری ہے، موضوع کا چناو، مطالعہ، نیا رخ، مسلسل محنت اور تحریر کی روانی۔ کوشش کریں کہ ایسے موضوع پر لکھیں جس پر باقی لوگ نہ لکھ رہے ہوں، ایسے موضوعات اچھوتے اور مشکل ہوتے ہیں، اخبار کے کالموں میں روزانہ دس میں سے نو سیاسی ہوتے ہیں اور یہ سب بھی لگ بھگ اس ایک موضوع پر ہوتے ہیں جو اس دن گرم ہوتا ہے، اس میں سے باہر نکل کر موضوعات تلاش کریں چاہے اس تلاش میں گھنٹوں ہی کیوں نہ صرف کرنے پڑیں۔ فلسفے، ادب، سائنس اور سماجیات کے موضوع ایسے ہیں جن پر بہت کم لکھا جاتا ہے، ان پر طبع آزمائی کریں۔ (جاری پے).

بشکریہ
یاسر پیرذادہ

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں