عوام ہیلمٹ کیسے خریدیں گے؟

ہیلمٹ

چیف ٹریفک آفیسر صاحب کا خصوصا ہیلمٹ کے متعلق ا نٹر ویو:
سوال نمبر 1 : سی ٹی او صاحب آپ نے ہیلمٹ کو پہننا کیوں لازمی قرار دیا ہے؟
جواب:سی ٹی او صاحب نے کہا کہ لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لئے ہیلمٹ پہننا ضروری قرار دیا ہے، تاکہ لو گوں کو کوئی جانی نقصان نہ اٹھنا پڑے۔ اور اگر آپ کا روڈ پر ٹریفک حادثہ ہو جائے تو آپ کی جان نہ جائے، اس لئے ہیلمٹ پہننا ضروری قرار دیا ہے۔
سوال نمبر 2 : حا لانکہ انار کلی، مال روڈ اور جیل روڈ پر تو ٹریفک ہی بہت زیادہ ہوتی ہے، وہاں تو بائیک کی سپیڈ 30 یا 40 سے تو اوپر نہیں جاتی ہے، پھر ان جگہوں پہ ہیلمٹ پہننا کیوں لازمی قرار دیا ہے؟
جواب:جی ہاں، انار کلی، مال روڈ اور جیل روڈ پرٹریفک تو بہت زیادہ تو ہوتی اور وہاں بائیک کی سپیڈ 30 یا 40 سے تو اوپر نہیں جاتی ہے، اگر آپ کا اتنی ہی سپیڈ پرٹریفک حادثہ ہو جائے تو آپ کی جان کو نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ حالانکہ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے دفعات 89 میں بھی یہ لکھا ہے کہ بائیک چلاتے وقت ہیلمٹ پہننا لازمی ہے۔ اور اگر آپ کا روڈ پر ٹریفک حادثہ ہو جائے تو آپ کے دماغ کو چوٹ بھی لگ سکتی ہے، جس سے آپ کی جان بھی جاسکتی ہے۔ یہ قانون آج سے نہیں ہے کہ ہیلمٹ لازمی پہنا جائے۔ بلکہ 1965 سے ہیلمٹ کو پہننا ضروری قرار دیا گیا ہوا ہے۔
سوال نمبر 3 : دنیا میں تو صرف دو ایسے ملک ہیں، جہاں ہیلمٹ پہننا ضروری ہے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ اور ان کے علاوہ کسی اور ملک میں ہیلمٹ پہننا ضروری نہیں ہے، کیا آپ ویسا ملک ہیں؟
(یہ دعوی غلط ہے۔ یورپی یونین کے تمام ممالک اور امریکہ کی بیشتر ریاستوں میں ہیلمٹ پہننا لازم ہے۔ بعض امریکی ریاستوں میں 50 سی سی تک کی موٹرسائیکل پر چھوٹ دی جاتی ہے اور بعض میں صرف ڈرائیور کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے۔ مدیر)
جواب: بالکل پاکستان ویسا ملک نہیں ہے، لیکن ہم لوگ پاکستان کو ویسا ملک بنا سکتے ہیں، اگر ہم لوگ موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے دفعات 89 کے اس قانون پر عمل کریں گے، یعنی ہیلمٹ کو پہنا اپنا فرض سمجھیں گے تو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان ومال کا بھی تحفظ کریں گے۔

loading...


سوال نمبر 4 : ہیلمٹ کو ضروری قرار دینے سے پہلے اس کا فروخت ریٹ کیا تھا اور اب اس کا ریٹ کیا ہے، اور اس کے پچھے امپورٹر کون ہے؟
جواب: ہیلمٹ کو ضروری قرار دینے سے پہلے اس کا ریٹ عام طورپر 700 یا 800 تھا۔ لیکن جب کسی چیز کی مانگ بڑھ جاتی ہے تو اس کا ریٹ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے ہم نے اس کا ریٹ 500 سے 1100 سو مقرر کر دیا تھا۔ آپ ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیں اور جب موٹر بائیک خریدتے ہیں تو اس ہی وقت ہیلمٹ خریدیں، اور اس قانون کے نافذ ہونے کا انتظار نہ کریں۔ یہ قانون آپ لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کے لئے نافذ کیا گیا ہے۔ اور اس کے پچھے کوئی امپورٹر نہیں ہے۔
سوال نمبر 5 : عوام کا ردعمل کیا ہے، ہیلمٹ کے بارے میں کہ ہیلمٹ پہننا صحیح ہے یا غلط؟
جواب:عوام کا ردعمل مکس ہی ہے، کسی کے مطابق یہ اقدام مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ مثبت اس لئے ہے کہ ہیلمٹ پہنے سے لوگوں کی جان ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ منفی اس لئے بھی ہے کہ عوام یا غریب لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ مہنگا ہیلمٹ خرید سکیں۔ حالانکہ لوگوں کے پاس بائیک خریدنے کے پیسے تو ہیں لیکن ہیلمٹ خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔ خدانخواستہ ٹریفک حادثہ میں سرپر چوٹ لگ جائے توآپ لوگ ایم آر آئی پر 5,000 سے 10,000 ہزار اورسی ٹی سکین پر 15,000 سے 20,000 ہزار خرچ کر سکتے ہیں، لیکن 1,000 کا ہیلمٹ نہیں خرید سکتے۔ ٹریفک حادثہ سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ سب لوگ بیشک وہ امیر ہوں یا غریب وہ ہیلمٹ خریدیں اور اس کو لازمی پہنیں۔ ہم اس قانون کو نافذ کر رہے ہیں اور اس پر عمل بھی ضرور کروائیں گے۔ تاکہ آپ کی اور دوسروں کی بھی جان ومال کا تحفظ ہوسکے۔ انشا اللہ۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں