ایل او سی پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ

DGMO,s-line-of control-aajkal

ایل او سی میں آزاد کشمیر کے لیپا سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 4 افراد شدید زخمی ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایل اوسی کے لیپا سیکٹر میں بھارتی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔شدید زخمی ہونے والے افراد کی شناخت ظہیر، نصیر، منیر اور شوکت کے نام سے ہوئی ۔پاک فوج نے موثر جواب دیتے ہوئے بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر میں ایل او سی سے ملحق علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی ہے اور 2003 میں پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان لائن آف کنٹرول پر ہونے والے جنگ بندی کے تاریخی معاہدے کی بھی خلاف وزری کی جاتی ہے۔قبل ازیں 3 نومبر کو بھارتی فوج سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی تھیں۔

گزشتہ روزلائن آف کنٹرول کے تھب سیکٹر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ کے نتیجہ میں پاک فوج کا سپاہی ظہیراحمد شہید ہوگیا۔پاک فوج نے اس بھارتی بلااشتعال فائرنگ کا موثر جواب دیا اور بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال مسلسل ابتر ہوتی جارہی ہے۔ معصوم کشمیریوں کوشہید کیا جارہا ہے کشمیریوں کی تحریک آزادی دبانے کیلئے بھارت انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے کارکنوں کے مقبوضہ کشمیر میں یونٹ قائم کررہا ہے ۔ ان کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرناہے تاکہ وہ تحریک میں حصہ نہ لیں۔ دو سو کے قریب طالب علموں کو گرفتار کیا گیا اور پرامن احتجاج پر تشدد کیا جا تا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کی ہے۔ اس کیلئے اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر ہمیشہ آواز اٹھائی ہے جس کی وجہ سے آج دنیا کی توجہ کشمیر کی طرف مبذول ہو چکی ہے۔ اسی آواز کو دبانے کیلئے بھارت آئے دن پاک سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے بہت سا جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے۔

loading...

بھارتی فوج کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کا سپاہی ظہیر احمد شہید ہوگیا۔ شہید سپاہی ظہیر احمد کا تعلق سلطان پور بھمبر سے تھا۔بھارتی کارروائی کے جواب میں پاک فوج نے موثر کارروائی کی جس میں دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جوابی کارروائی کے بعد بھارتی فوج کی توپیں خاموش ہوگئیں۔ بھارتی فوج مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارت رواں سال 2312 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔اس سے قبل 2 نومبر کو بھی بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر اسی قسم کی اشتعال انگیزی کی گئی تھی۔ فائرنگ سے دو بچوں کی ماں منزہ بی بی شہید ہوگئیں تھیں۔ جس پر پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

آج کل بھارت کی بربریت اور جارحیت میں جس رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس کا نوٹس نہ لیا تو فقط خطے کا امن ہی نہیں وہ اپنے ساتھ اور بہت کچھ لے کر ڈوب جائے گا۔ بھارتی فوج ایل او سی کے قریب پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارت جارحیت میں اتنا پاگل ہو چکا ہے کہ اسے اب نہ تو کسی سرحد کی فکر ہے اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کی اور نہ ہی عالمی اداروں کی قراردادوں کی۔ وحشت و بربریت کا یہ عالم ہے کہ رواں سال بھارت کی پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ سے 35 شہری شہید اور 135 زخمی ہوئے۔یہ اعدادو شمار بھارت کی بدنیتی اور امن دشمنی کا بہت بڑا ثبوت ہیں۔ اگر پاک فوج بھارتی اشتعال انگیزیوں کے جواب میں تحمل و برداشت کامظاہرہ نہ کرے تو خوفناک تصادم کے رونما ہونے میں کون سی کسر باقی رہ جاتی ہے۔

بھارت جان بوجھ کر شعلوں کو ہوا دے رہا ہے یا حقائق کوسمجھنا نہیں چاہتا۔ایل او سی پر بھارتی فائرنگ اور ہمارے واویلا کرنے پر بھارت معصوم بن کر مغربی خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے اپنی بے گناہی کا موقف دنیا بھر میں پھیلا دیتا ہے جبکہ ہم دبی زبان میں تردیدیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں حالانکہ ہمارے پاس لاشوں اور زخمیوں کی صورت میں ٹھوس ثبوت بھی موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں سرحدی خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر بھی آواز اٹھانی چاہیے اور بھارت کے ساتھ بھی پر زور احتجاج کرنا چاہیے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان تو خطے میں قیام امن کے لیے بھارت کو مسلسل مذاکرات کی دعوت دیتا چلا آ رہا ہے مگر یہ نریندر مودی ہی ہیں جو ہر بار کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر پاکستان کی دعوت کو مسترد کرتے اور ہرزہ سرائی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کبھی وہ پینترابدلتے ہوئے پاکستان کو اس خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں تو کبھی دھمکیاں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں