قانون سازی کے بغیر اصلاحات ناممکن

چیف جسٹس

وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدارت وزارتوں اور ڈویژنز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں 26 وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ کے خصوصی اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا وفاقی کابینہ کا اجلاس 9 گھنٹے جاری رہا۔

فواد حسین نے بتایا کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا موجودہ حکومت نے ایک نہایت مشکل وقت میں حکومت سنبھالی، آج ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، پاکستان آج خطہ کے دوسرے ممالک کے مقابلہ میں بھی بہت سارے شعبوں میں پیچھے رہ گیا ہے، ایسے حالات میں کچھ نہ کرنا یا معمول کے مطابق کارروائی آپشن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں غریب کی حالت زار کی بہتری کی بات اکثر ہوتی رہی ہے لیکن سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں یہ فرق ہے کہ ہم نے ملک اور عوام کی حالت کی بہتری کی بات محض ووٹ حاصل کرنے کیلئے نہیں کی بلکہ ہم دل سے اس پر یقین رکھتے ہیں۔ان حالات میں ہم پر یہ ذمہ داری ہے ہم موجودہ حالات کو ٹھیک کریں۔ وزیرِاعظم نے کہا وزارتوں کی کارکردگی کا ہر تین ماہ بعد باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور ہر وزارت کو مزید ٹارگٹ دیئے جائیں گے۔

وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے پہلے چہ مگوئیاں جاری تھیں کہ اس اجلاس میں اچھی کارکردگی نہ دکھانے والے وزراء کو فارغ کردیا جائے گا یا پھر ان کے قلمدان تبدیل کردئیے جائیں گے ،لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ عمران خان نے اپنے سب وزراء کو اچھے نمبر دے کر پاس کردیا بلکہ ایک وزیر مملکت کو تو خوش ہوکر وفاقی وزیر بنانیکا اعلان بھی کردیا۔دوسری طرف قومی اسمبلی کا ایک اور اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہو گیا یہ اس اسمبلی کا چھٹا اجلاس ہے،جس نے اپنا قائد ایوان 18اگست کو منتخب کیا تھا۔ اس ایوان کے لئے ضروری تھا کہ یہ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں ایک مہینے کے اندر اندر تشکیل دے تاکہ ہاؤس بزنس ہموار طریقے سے آگے بڑھ سکے۔

لیکن شاید اسمبلیوں کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ ابھی تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت کوئی ایک کمیٹی بھی نہیں بن سکی۔ دس سال سے طریق کار یہ چلا آ رہا تھا کہ قائد حزب اختلاف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جاتا تھا۔ پیپلزپارٹی کے دور میں چودھری نثار علی خان اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں سید خورشید شاہ اس کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ لیکن اس مرتبہ حکومت کی ضد ہے کہ حکومت نے طے کر رکھا ہے کہ شہباز شریف کو جو قائد حزب اختلاف ہیں اس کا چیئرمین نہیں بننے دینا۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے دور کا احتساب کیسے کریں گے، حالانکہ اس کمیٹی نے آڈٹ پیپروں کو نپٹانا ہوتا ہے کسی کا احتساب نہیں کرنا ہوتا۔ حکومت اگر اپنے موقف پر ڈٹ گئی ہے تو اپوزیشن بھی اپنے مطالبے پر اڑ گئی ہے ۔ اس فیصلے پر پیپلزپارٹی اور ایم ایم اے ، مسلم لیگ (ن)کے ساتھ ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اب تک ایوان کمیٹیوں کے بغیر ہی کام کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی نے اب تک ایک ہی بل منظور کیا ہے جو بجٹ میں ترمیم کا بل تھا، اس کے علاوہ کوئی بل نہ پیش کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی سرگرمی دکھائی دی۔ قومی اسمبلی اگر کوئی بل منظور کر لے تو پھر یہ سینیٹ میں جاتا ہے جہاں حکومت اقلیت میں ہے اور ارکان کی تعداد کے حساب سے اس کا نمبر تیسرا ہے۔

اس کا بہترین حل تو یہ تھا کہ تحریک انصاف کچھ ایسا اہتمام کرتی کہ چور ڈاکو اسمبلی میں پہنچ ہی نہیں پاتے لیکن یہ شاید اس کے بس میں نہیں تھا کیونکہ اس کے اپنے ارکان اسمبلی نے چوروں ڈاکوؤں سے پیسے لے کر انہیں سینیٹ کا ممبر بنا دیا تھا اور اس کی پاداش میں عمران خان نے ووٹ بیچنے والوں کو پارٹی سے نکال دیا تھا۔تحریک انصاف کی قیادت نے اس مسئلے کا حل یہ سوچا کہ اپوزیشن کے بغیر ہی کمیٹیاں بنا دی جائیں لیکن سپیکر نے حکومت کو مشورہ دیا کہ یوں حزب اختلاف کو بے اثر کرنا ٹھیک نہیں چنانچہ اس مشورے پر صرف اتنی نرمی کی گئی کہ حکومت سردار ایاز صادق کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے کے لئے تیار ہے لیکن حزب اختلاف نے یہ دانا نہیں چگا اور اپنا یہ موقف دہرایا کہ اگر شہباز شریف کو چیئرمین نہ بنایا گیا تو کسی کمیٹی کی رکنیت قابل قبول نہیں۔ اب دیکھنا ہو گا کہ رواں سیشن میں بھی بات آگے بڑھتی ہے یا نہیں۔ جنرل ایوب خان کے زمانے میں قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے ارکان چند ایک ہی ہوتے تھے اور ایوب خان کے حقیقی بھائی سردار بہادر خان قائد حزب اختلاف تھے۔

شاید اس سے پریشان ہو کر وزیر اعظم نے اعلان کر دیا تھا کہ قانون سازی کے لئے صدارتی آرڈی نینسوں کا سہارا لیا جائیگا۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ صدارتی آر ڈی نینس بھی تو کبھی نہ کبھی اسمبلی میں پیش کرنا پڑتا ہے، پھر اس کی مدت بھی محدود ہوتی ہے اور یہ صرف اسی وقت جاری ہو سکتا ہے جب قومی اسمبلی کا اجلاس نہ ہو رہا ہو۔ اجلاس جاری ہو تو صدر آرڈی نینس نافذ نہیں کر سکتا۔ پارلیمنٹ کی موجودگی میں آرڈی نینسوں کے ذریعے حکومت چلانے کا نادر نسخہ ماضی میں کسی حکمران کے ذہن میں نہیں آیا ورنہ جنرل ضیا الحق غیر جماعتی الیکشن کے لئے اتنے پاپڑ بیلنے پر مجبور نہ ہوتے۔ وہ تو خود صدر تھے اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی، لیکن انہوں نے بھی، غیر جماعتی ہی سہی ایک اسمبلی کی ضرورت محسوس کی۔ تحریک انصاف کی حکومت کو شاید ایک آئینی اور قانونی نکتہ اب تک سمجھ نہیں آرہا کہ اگر آر ڈی نینسوں سے حکومت چلتی تو جنرل ایوب ، یحییٰ ، ضیا الحق اور پرویز مشرف طوعاً و کرہاً انتخابات کرانے پر مجبور نہ ہوتے۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں