پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے پرندے جنگلات میں آگ لگاتے ہیں۔ تحقیق

loading...

ہم نے جنگلات میں آگ بھڑکنے کا تو سنا ہی ہے۔ اور یہ بھی سن رکھا ہے کہ شدید گرمی میں آگ خود بخود بھڑک اٹھتی ہے۔ اور پاکستان کے حوالے سے ہم یہ بھی سنتے رہتے ہیں کہ ٹمبر مافیہ بھی جنگلات میں آگ لگاتا ہے تاکہ بعد میں جلے ہوئے درختوں کو بیچا جا سکے۔

لیکن  ایک  تحقیق سے  میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آسڑیلیا کے جنگلات میں کچھ شکاری پرندے بھی آگ لگاتے ہیں۔

یہ تحقیق ایتھنو بایولوجی نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے ۔ جس میں دعوایٰ کیا گیا ہے کہ آسڑیلیا  کے جنگلات میں کچھ شکاری پرندئے جیسا کہ  مِل وس مائگرینس (سیاہ چیل)  یا بھورا شکرا  قسم کے شکاری پرندے بھی جنگلات میں آگ لگاتے ہیں ۔ یہ پرندے آگ اس لیے لگاتے ہیں تا کہ  آگ سے  جنگلات میں بسنے والے دیگر چھوٹے حشرات یا کیڑئے مکوڑے اپنی بلوں سے باہر نکل  آئیں ۔ جس سے آگ لگانے والے شکاری پرندوں کو ان کیڑوں کا شکار کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

اس سے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ پرندے آگ کیسے لگا لیتے ہیں۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ  آسڑیلیا کے جنگلات میں آسمانی بجلی گرنے سے یا  کسی اور وجہ سے جب آگ  بھڑک اٹھتی ہے۔ تو یہ پرندے اس بھڑکتی آگ میں سے سلگتی لکڑی وغیرہ کو چونچ میں اٹھا کرخشک گھاس پر  پھینکتے ہیں ۔ جس سے باقی کی گھاس میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔  اس  سے یہ پرندے اپنی پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔  اور رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پرندے آسڑیلیا کے 73 لاکھ مربع میل میں پھیلے جنگلات میں آگ بھڑکا سکتے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں