ڈٰیجیٹل کرنسی، بٹ کوائن دراصل ہے کیا؟

ڈٰیجیٹل کرنسی بٹ کوائن آج کل گردش میں ہے اور اس کی قدر میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ ایک کریپٹو کرنسی ہے۔ مرکزی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے
اس کی قدر اور پائے داری کے حوالے سے سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا کیا کریپٹو کرنسی موجودہ کرنسی کی جگہ لے پائے گی یا نہیں یا بحثیت ڈیجیٹل کرنسی ہی اپنا مقام بنا پائے گی۔ اس کے بارے میں ہتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔ بٹ کوائن اس وقت بھاری قیمت پر بیچا اور خریدا جا رہا ہے۔ لیکن بہت سارے لوگ اب بھی نہیں جانتے کہ بٹ کوائن کیا ہے اور کیسے وجود میں آیا۔
بٹ کوائن کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ کریپٹو کرنسی کیا ہے؟
کریپٹو کرنسی وجود کیسے پاتی ہے؟ کریپٹو کرنسی ایسی کرنسی ہے جس میں انکریشن یعنی اشارتی زبان یا خفیہ کوڈز کا استعمال کیا جاتا۔ اور انہیں خفیہ کوڈز کو کریپٹو کرنسی کہا جاتا ہے۔ یہ وجود کیسے پاتی ہے؟ مثال کہ طور پر ایک کمپنی ہے جو ایک ائیر لائنز کے کاروبار سے متعلق کام کرتی ہے اور ایک ڈیٹا بیس بنانا چاہ رہی جو ایک موبائیل ایپ کے ذریعے مسافر، ایوی ایشن اتھارٹی اور ائیرلائن کو آپس میں جوڑ دے گی، کمپنی کے پاس اس اتنے بڑھے پراجیکٹ کے لیے سرمایہ دستیاب نہیں ہے۔ وہ کمپنی اپنے کل سرمایہ جو پراجیکٹ مکمل کرنے لیےچاہئے مثال کے طورپر 10 لاکھ ڈالر ہے، میں سے کچھ لاکھ ڈالرز کے ٹوکن جاری کرتی ہے اس کی ٹوکن کی کچھ قیمت مثال کے طور پر ایک ڈالر مقرر کرتی ہے۔ تا کہ اسے بیچ کر پراجیکٹ کے لیے سرمایہ اکٹھا کیا جائے۔ یہ ٹوکن ایک کوڈ بھی ہو سکتا ہے۔ اور لوگوں کو اس سے متعلق آگاہ کرتی ہے اور انہیں قائل کرتی ہے کہ وہ اس کو آن لائن خرید سکتے ہیں اور محفوظ کر سکتے ہیں اور جب ایپ لانچ ہوگی تو اس سے فلاں فلاں سہولیات اس ٹوکن کو استعمال کرتے ہوئے حاصل کر سکتے ہیں۔ یا چاہیں تو اس ٹوکن کو آگے کسی کو بھی بیچ سکتے ہیں۔ لہذا اس طرح سے ایک کریپٹو کرنسی وجود میں آتی ہے۔ اسے قدر کمپنی کی گڈ ول نے دی ہے۔ اور دوسرا لوگوں کے اعتماد نے جو انہوں نے ایک ڈالر میں ٹوکن خرید کر اس کو بخشا۔
اب یہ سمجھنا زیادہ آسان ہوگا کہ بٹ کوائن کیا ہے اور کیسے وجود میں آیا۔ بٹ کوائن بھی ایک کریپٹو کرنسی ہے۔ یہ کوئی دھاتی سکہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک کچھ ہندسوں پر مشتمل ایک کوڈ ہوتا ہے۔ جسے ہم بٹ کوائن کہتے ہیں۔ بٹ کوائن 2008 میں اس وقت وجود میں آیا جب “سا تشوی نکاموٹو” کے نام سے ایک آن لائن ایک وائیٹ پیپر “بٹ کوائن” جاری کیا۔ بٹ کوائن کو ایک شخص نے جاری کیا یہ کچھ لوگوں نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں۔ یہ ایک شخص سے دوسرے شخص کے درمیان ایک الیکڑونک ٹرانزیکشن ہے۔ بٹ کوائن کی ٹرانزیکشنز اکاونٹنگ میں استعمال ہونے والے لیجر (ledger)کی طرح درج ہوتی ہیں۔ یہ ٹرانزیکشنز ایک ایسے کمپیوٹر سسٹم کے ذریعے کی جاتی ہیں جو پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے یعنی اس کا کوئی مرکزی کنڑول نہیں ہے۔ اسی سسٹم کو مائینگ کہتے ہیں۔ جب بٹ کوائن مارکیٹ میں آیا تو اس کو قیمت چھ سینٹ تھی۔ لیکن جسیے جیسے اس کی طلب میں اضافہ ہوا اور مختلف کمپنیاں اسے میڈیم آف ایکسچینج کے طور پر قبول کرنے لگیں تو اس کی قیمت بڑھتی گی۔ اور آج ایک بٹ کوائن کی قیمت ہزاروں ڈالر ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ بٹ کوائن کتنا محفوظ ہے اور کیا اس کو آن لائن سسٹم کے علاوہ بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے؟
بٹ کوائن کو محفوظ رکھنے کے لیے والیٹس(بٹوے، wallets) کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ والیٹس پرائیویٹ کوڈزیا خفیہ نمبرز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جس سے بٹ کوئین کو ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور یہی کوڈز بٹ کوائن کو محفوظ بناتے ہیں تب تک جب تک ہم انہیں محفوظ رکھیں۔ ان کوڈز کو ایک کمپیوٹروالیٹ میں بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔ یا ان سب میں سے سب سے سستا ترین اور محفوظ ترین والیٹ یا بٹوہ پیپر والیٹ ہے۔ بٹ کوائن کے خفیہ کوڈز کو ایک کیو آر کوڈ میں ایک کاغذ پر بھی محفوظ کر سکتے ہیں۔ (جیسے نیچے دی گی تصویر میں نظر آ رہا ہے)

اس کو کولڈ سٹوریج کہتے ہیں۔ اور کمپیوٹر خراب ہونے کی صورت میں یہ خفیہ نمبر یا کوڈز استعمال کر کے ایک نیا والٹ بنایا جا سکتا ہے اور اس سے بٹ کوائن کی ملکیت پر یا قدر پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ پیپر والیٹ کے علاوہ موبائیل والٹ، آن لائن والٹ اور دیگر بہت سارے ذرائع ہیں جس سے بٹ کوائن کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لہذا بظاہر یہ کہنا درست ہے کہ کریپٹو کرنسی کو محفوظ بھی ہے اور مستقبل میں آن لائن کامرس کے بڑھنے سے اس کے استعمال میں اضافہ بھی ہوگا۔ تاہم بٹ کوائن کی قیمت کے حوالے سے ماہرین کی رائے میں فرق ہے کچھ لوگ اسے مستقبل میں ایک کامیاب کریپٹو کرنسی کے طور پر دیکھ رہے ہیں لیکن کچھ ماہرین جیسا کہ دنیا کے امیر ترین شخص warren buffett کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کا اختتام بہت برا ہوگا۔
اے بی علیم

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں