ظلم و حیوانیت کی ایک اور کہانی۔۔۔

11 نومبر کی شام، 6 سالہ کائنات بتول کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ ایک قریبی دکان سے کچھ خریدنے گئی تھی۔ کائنات کہ گھر واپس نا پہچنے پر اس کے والد اور کچھ پڑوسیوں نے کائنات کی گمشدگی کے متعلق پولیس کو مطلع کیا.

کائنات 24 گھنٹوں بعد کوڑے کے ڈبے سے ملی۔ اس کےکپڑے پٹھے ہوئے تھے اور جسم پر جا بجا زخموں کے نشان تھے۔

کائنات قصور میں زیادتی کے شکار ہونے والے 12 بچوں میں سے واحد بچی ہے جو زندہ بچ گئی۔ اس وقت کائنات کی حالت آپ کے تصور سے بھی بری ہے۔ کائنات کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں، وہ اپنےالدین اور بہین بھائیوں کو پہچان نہیں پا رہی۔

کائنات اس وقت ڈسٹرکٹ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ کائنات کا باپ ایک مزدور ہے جو اس کی دوایوں تک کا خرچہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ کائنات کی فمیلی اس کے علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی۔ اور دوسری طرف ڈاکٹروں کا کہانا ہے کہ بچی کو کسی بہتر نجی ہسپتال منتقل کر دیا جائے یا اسے گھر لے جایا جائے۔

کائنات جب سے ملی ہے تب سے کچھ کھا پی نہیں رہی، وہ اس خوف سے باہر نہیں آ پا رہی، وہ طویل وقت کے لیے کوما میں چلی جاتی ہے اسے جب ہوش آتا ہے تو رونا شروع کر دیتی ہے۔ اسی لیے کائنات کے گھر والے حکومت سے اپیل کر رہےہیں ان کی بچی کے علاج میں انکی مدد کی جائے۔

کائنات کے باپ کا کہنا ہے جس ظالم نے زینب کا قتل کیا ہے، اسی نے ہی کائنات پر حملہ کیا ہے۔ اور حکومت سے اپیل کرتے ہٰیں کہ اس ظالم شخص کو گرفتار کر کے سرِعام پھانسی دی جائے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں