مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب

مجموعی طورپر 54ووٹ ڈالے گئے ٗ عبد القدوس بزنجو نے 41اور سید آغا لیاقت علی نے 13ووٹ حاصل کئے
کوئٹہ:پاکستان مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی عبدالقدوس بزنجو واضح اکثریت کے ساتھ بلوچستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے۔ ہفتہ کو اجلاس کے آغاز میں قصور میں قتل ہونے والی کمسن زینب اور ایئرمارشل (ر) اصغر خان سمیت کوئٹہ دھماکے کے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔اس کے بعد اسپیکر نے اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کا طریقہ کار بتایا جس کے بعد نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے رائے شماری کی گئی۔اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے و الے میر عبدالقدوس بزنجو کے حمایتی ارکان کیلئے اے لابی اور پشتونخوا میپ کے لیاقت علی کے حمایتی اراکن کے لیے بی لابی بنائی گئی جبکہ صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کیا گیا۔اسپیکر اسمبلی راحیلہ درانی نے میر عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے لیے مجموطی طور پر 54 ووٹ ڈالے گئے جس میں سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے عبدالقدوس بزنجو نے 41 اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے امیدوار سید آغا لیاقت علی نے 13 ووٹ حاصل کیے۔اسپیکر اسمبلی نے میر عبدوس قدوس بزنجو کو نیا قائد ایوان منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔خیال رہے کہ بلوچستان اسمبلی میں کل 65 نشستیں ہیں جبکہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے امیدوار کو 35 اراکین کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔یاد رہے کہ 2013 سے موجودہ حکومت کے دوران میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے تیسرے وزیر اعلیٰ ہیں جبکہ ان سے قبل نواب ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ بھی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔بلوچستان اراکین اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے 21 ٗپی کے میپ کے 14 ٗ نیشنل پارٹی (این پی) کے 11 ٗ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 8، مسلم لیگ (ق) کے 5 ٗ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے 2 ٗ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ٗبی این پی عوامی، مجلس وحدت المسلمین کے ایک ایک رکن موجود ہیں جبکہ ایک آزاد رکن اسمبلی بھی ایوان کا حصہ ہیں۔یاد رہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ ضلع آواران سے ہے جبکہ ان کے والد اور سینئر سیاستدان میر عبدالمجید بزنجو بھی بلوچستان اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں۔2013 کے عام انتخابات میں بلوچستان کے حلقہ ’پی بی 41‘ میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ 2 فیصد سے بھی کم رہا تھا اور میر عبدالقدوس بزنجو صرف 544 (ایک فیصد سے بھی کم) ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے۔واضح رہے کہ رواں ماہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف بلوچستان کی اسمبلی سیکریٹریٹ میں مسلم لیگ (ق) کے رکن بلوچستان اسمبلی اور سابق ڈپٹی اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے تحریکِ عدم اعتماد جمع کراتھی۔سابق وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے اپنے
خلاف بلوچستان اسمبلی میں جمع ہونے والی تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کیلئے نواز شریف سے مدد مانگی تھی۔سابق وزیرِاعظم نواز شریف نے وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو سازش قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ سب سینیٹ کے انتخابات کو رکوانے کے لیے کیا جارہا۔مذکورہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت پشتونخواملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے وزیر اعلیٰ کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اپنے اصولوں پر قائم ہیں اور اپنے اتحادیوں سے تعاون کریں گے۔بلوچستان کے سیاسی حالات اس وقت مزید سنگین ہوگئے جب سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کی قیادت میں درجن بھر سے زائد مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ناراض اراکین اسمبلی نے بھی اس تحریک کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والے مسلم لیگ (ن) کے ناراض قانون سازوں کو منانے کیلئے کوئٹہ کا ہنگامی دورہ بھی کیا جو ناکامی سے دوچار ہوگیا تھا۔اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ناراض ارکان کو منانے میں ناکامی کے بعد نواب ثناء اللہ زہری کو وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔خیال رہے کہ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف 9 جنوری کو بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی تاہم انہوں نے اس تحریک کے پیش ہونے سے قبل ہی وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دیا تھا۔بعد ازاں 11 جنوری کو سینئر لیگی رہنما اور سابق سینیٹر سعید احمد ہاشمی کی رہائش گاہ پر اہم اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے ارکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی جہاں نئے وزیر اعلیٰ کے لیے سابق صوبائی ڈپٹی اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کے نام پر اتفاق کرلیا گیا تھا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں