کیلاش کی پُراسرار ویلی اور چلم جوشی فیسٹیول۔

نوید نسیم

وادی کیلاش کی بمبوریت ویلی میں رات کیمپ میں سلیپنگ بیگ میں گزار کر جب صبح اُٹھے۔ تو 20 گھنٹے کے سفر کی تھکن تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ کیلاش ویلی دیکھنے اور اس ویلی کے پراسرار لوگوں سے ملنے اور ان کی زندگیوں میں جھانکنے کی جستجو نے ناشتہ کئے بغیر ہی کیلاش کی بل کھاتی اونچی نیچی سڑکوں پر گامزن کردیا۔

وادی کلاش کی بمبوریت ویلی میں مسکراتے چہرے اور ان کی خوش آمدید کہتی آنکھوں کو دیکھ کر دل میں ان کی زندگیوں کو قریب سے جاننے کی طلب بڑھنے لگی۔ ہر گلی اور ہر نوکر پر کھڑی مسکراتی بچیوں اور ان کے رنگین دیدہ زیب ملبوسات کیلاش وادی کو پاکستان کے دیگر شمالی علاقوں سے مختلف کرتے ہیں۔

وادی کیلاش میں پہاڑیوں کے اوپر دو منزلہ گھر بنانے کا رواج ہے۔ جنھیں لکڑیوں، پتھروں اور مٹی کے استعمال سے تیار کیا جاتا ہے۔

چھتوں کو مضبوط بنانے کے لئے لکڑی کے گارڈر استعمال کئے جاتے ہیں۔

پہاڑ کی اونچائی پر قائم ایک روائتی کیلاشی گھر۔

وادی کیلاش کی بمبوریت وادی کی گزرگاہیں۔

اس حسین وادی کی حسین ترین بچیوں اور خواتین کو اپنی منفرد خوبصورتی کا باخوبی اندازہ ہے۔ جس کی وجہ سے جب بھی کوئی سیاح ان کی تصویر اتارنے کی کوشیش کرتا ہے تو وہ اپنے چہرہ چھپا لیتی ہیں اور پچاس یا سو کا نوٹ لینے پر تصویر اتارنے دیتی ہیں۔

 

ویسے تو پورا سال ہی دنیا بھر سے سیاح اس وادی نزیر کو دیکھنے آتے ہیں۔ مگر گرمیوں میں ہونیوالے تہوار چلم جوشی کو دیھنے کے لئے آنیوالوں کی تعداد قدرے زیادہ ہوتی ہے۔

کیلاشی قوم سال میں تین تہوار مناتی ہے۔ جسے چلم جوشی، چاؤمس اور پھوّر کہا جاتا ہے۔

موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کے لئے ہر سال مئی کے مہینے میں چلم جوشی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ جسے مقامی آبادی عید بھی کہتی ہے۔

چلم جوشی کی چار روزہ تقریبات کے دوران بچوں کو خوش قسمتی کے طور پر بکری کا دودھ پلایا جاتا ہے۔ بکری کے دودھ سے بنی تازہ پنیر کھیلائی جاتی ہے۔

مقامی خواتین اور مرد روائتی گیتوں پر روائتی رقص کرتے ہیں۔

loading...

چلم جوشی کے دوسرے دن بمبوریت ویلی میں چلم جوشی کا سب سے بڑا تہوار سٹیڈیم میں منایا جاتا ہے۔ جس میں خواتین ہاتھوں کی زنجیر بناتی ہیں اور کیلاشی قوم کے بزرگ خواتین کے درمیان اپنے خدا کی حمدوثنا کے گیت گاتے ہیں۔

کیلاشیوں کے اس تہوار کو دیکھ کر ان کے مزہب کو جاننے کی جستجو مزید تقویت پکڑجاتی ہے۔

جیسا کہ اس وادی کو کافرستان بھی کہا جاتا ہے۔ جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہاں کے لوگ کافر ہیں۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں۔ اس علاقے کے کافرستان کہلائے جانے کی ہر گز وجہ یہ نہیں کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ بلکہ کافر ان کا قبیلہ ہے۔

آثاِ قدیمہ کی تحقیق اور حقائق کے مطابق سکندِ اعظم کی آمد سے پہلے  ہی اس علاقے میں کلاشہ قوم کی موجودگی کے آثار بھی ملتے ہیں۔

کیلاشی قوم میں فوتگی کی صورت میں بھی سُر اور ساز گونجتے ہیں۔ کیلاشی قوم کا ماننا ہے کہ یہ دنیا گناہوں کا گڑھ ہے۔ جس کی وجہ سے جب بھی کوئی وفات پاتا ہے تو ان کا ماننا ہے کہ چونکہ وفات پانے والا اس دنیا سے رخصت ہورہا ہے۔ جہاں اس سے گناہ سرزد ہوتے تھے۔ اس لئے وہ اس کی وفات پر جشن مناتے ہیں۔

فوتگی کے موقع پراہلِ گاؤں مل جل کر بکرے کے گوشت ، دیسی گھی اور پنیر سے بنے پکوان تیار کرتے ہیں ۔

قضائے الہی سے انتقال کرجانے والے کو دو دنوں کے لئے “راجھستان” نامی کمیونٹی ہال میں رکھا جاتا ہے۔ جس کےدرو دیوار بکرے کے خاکوں سے تراشے کئے گئے جو انکی بکروں سے مذہبی  عقیدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

قدیم کیلاشی قوم اپنے مردوں کو دفناتی نہیں تھی بلکہ مردے کو اس کے سازوسامان سمیت قبرستان میں لکڑی کے صندوقوں کے اوپر چھوڑ آتے تھے۔

لیکن بعد ازاں مرحوم کے سازوسامان میں شامل قیمتی اشیااور انسانی ہڈیاں چوری ہوجانے کی وجہ سے اب کیلاشی قوم مردوں کو دفناتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیلاشی قوم کی زندگیوں میں تبدیلیاں تو آئی ہیں۔ لیکن آج بھی کیلاشی عورتیں قدیم رسم و روایات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ آج بھی کیلاشی پر عورتوں کو گھر کی چھت اور مویشی خانے میں جانے پر پابندی برقرار ہے۔ آج بھی مخصوص ایام میں خواتین اپنے  گھروں سے دور باشا لینی نامی جگہ میں وقت گزارنے پر مجبور ہیں۔

کلاشہ ثقافت  3000 سال پرانی ہے۔ جس کی آبادی 4000  کے قریب رہ گئی۔ مذہب، تعلیم، بیرونی کلچر، معاشی ترقی اور کئی دیگر عوامل کلاشہ کلچر کے زوال کا سبب بن رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع کیلاش میں بسی کیلاشہ آبادی کی بقا اسی میں ہے کہ سرکاری سطح پر اس قبیلے کی سرپرستی کی جائے۔ تاکہ صدیوں سے اس علاقے میں آباد قبیلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ناپید ناہو۔

Spread the love

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  چیئرمین کے پی ٹی نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے دیدی

اپنا تبصرہ بھیجیں