بلوچستان، مستونگ میں انتخابی قافلے پر خود کش حملہ سراج رئیسانی سمیت 70 افراد شہید

خود کش حملہ
loading...

مستونگ: انتخابی مہم کے دوران خودکش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 70 افراد شہید اور 120 سے زائد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے مستونگ میں انتخابی قافلے پر ہونے والے خود کش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی سمیت 70 افراد شہید جبکہ 120 سے زائد زخمی ہو گئے۔ سراج رئیسانی سابق وزیرِاعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کے بھائی ہیں۔

خود کش حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور دہشتگردی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈی پی او مستونگ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد حملے میں سراج رئیسانی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب مستونگ دھماکے کے بعد کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ چھٹی پر موجود ڈاکٹروں اور طبی عملے کو واپس طلب کر لیا گیا ہے۔ ترجمان سول ہسپتال کوئٹہ کے مطابق مستونگ دھماکے کے زخمیوں کو ہسپتال  منتقل کیا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔

خیال رہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے اور حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ  رہے تھے۔

ادھر مستونگ واقعہ کے تناظر میں وزیراعلیٰ بلوچستان کے زیرِ صدارت ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، اجلاس میں صوبہ بھر میں امن وامان کی صورتحال اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ ،پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے حکام شریک ہونگے۔

مزید پڑھیں۔  افغان صوبے ننگرہار میں خودکش حملہ

وزیرِاعظم ناصر الملک اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مستونگ بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں سراج رئیسانی سمیت دیگر افراد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امدادی دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں