عرب میں کئی سال بین رہنے والی فلم اب عرب سینما کی زینت کیسے؟

عرب

غیرملکی میڈیا کے مطابق ہدایت کار مصطفیٰ اکاد کی اس فلم میں ظہور اسلام کے وقت کی عکاسی کی گئی ہے جس نے دنیا بھر میں خوب کامیابی حاصل کی۔

مصری فلم “دی میسیج”  نے اسلام کی کہانی پوری دنیا میں کروڑوں لوگوں تک پہنچائی ہے، مصطفیٰ عکاد کی اس فلم پرابتدا میں کئی ممالک میں پابندی لگائی گئی ،اب یہی فلم عرب سنیما کا ایک ستون سمجھی جاتی ہے۔

1976میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو اس وقت سعودی عرب میں بین کر دیا گیا تھا۔

loading...

دی “میسیج” نامی اس فلم کی کہانی عرب میں اسلام کے ظہور، مکہ کے حالات، اور مدینہ ہجرت، کفار و مشرکین کی جانب سے مسلمانوں کو دی جانے والی تکالیف اور خطبہ حجتہ الوداع پرمبنی ہے۔
مصطفیٰ عکاد کی اس فلم پر ابتداء میں بہت سے ممالک میں پابندی لگا دی گئی اور اس فلم کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہوگئے اور انہیں ملک سے نکال دیا گیا۔

اب یہی فلم عرب سنیما کا ایک ستون سمجھی جاتی ہے اور یہ فلم مشرق وسطیٰ میں ایک سے دوسری نسل تک پہنچائی جاتی ہے جس نے کروڑوں لوگوں کو اسلام سے روشناس کرایا اور اسلام کی تعلیم دی۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  اسلام آباد میں فٹ سال ٹورنامنٹ،اور کرکٹ چمپئن شپ میں پنجاب کلب، وارئرز کلب اور ینگ کیپٹل کلب کی ٹیموں نے اپنے اپنے میچز جیت لئے

اپنا تبصرہ بھیجیں