آج بویا کل کاٹے گا !

ن لیگ

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف ، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر احتساب کی چکی سے مکمل طور پر باہرنکلے بھی نہیں کہ قومی احتساب بیورو نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سکیم میں گرفتار کر لیا، یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب ملک میں ضمنی انتخابات میں دس روز رہ گئے ہیں۔

نیب نے شہباز شریف پر حکومت پنجاب کی طرف سے من پسند کمپنی کو ٹھیکہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے،اسی مقدمے میں میان نواز شریف کے پرسنپل سیکریڑی فواد حسن فواد اور لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سر براہ احد چیمہ بھی گرفتار ہیں.

دنوں وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں ۔میاں شہباز شریف کی گرفتاری پر شریف خاندان کے قریبی بیورو کریٹس میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے ،انہیں اپنے سروں پر تلوار لٹکتی نظر آنے لگی ہے ،قانونی

ماہرین کے مطابق آشیانہ اسکینڈل کے مقدمے میں شہباز شریف کو چودہ برس قید کی سزا ہوسکتی ہے ،مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی ہدایت پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن جمع کرا دی گئی ہے، اپوزیشن متحد ہوکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں میں شہباز شریف کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اگرچہ حکومتی ترجمان ایک سانس میں یہ کہتے ہیں کہ میاں شہباز شریف کی گرفتاری قومی احتساب بیورو کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن دوسرے سانس میں نیب کے ترجمان بن کر دیگر گرفتاریوں کی نوید سناتے نظر آتے ہیں۔

میاں شہبازشریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ(ن) کی طرف سے ہی نہیں، دوسری اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے یکطرفہ انتقامی سیاسی کارروائی سے تعبیر کیا جا رہاہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے متنبہ کیا ہے کہ حکومت جو سلوک مخالفین کے ساتھ روا رکھے گی.

اسے کل کو ایسے ہی سلوک کیلئے تیار رہنا چاہئے ،جبکہ پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے باور کرایا کہ حکمرانوں کی یہی روش رہی تو پھر سڑکوں پر جنگ ہوگی۔اس وقت جبکہ ملک میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کی مہم آخری مراحل میں ہے اور ایک ہفتے بعد انتخابات کا انعقاد ہونے والا ہے۔

حکومت مخالف ایک پارٹی کے سربراہ کوجو قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر بھی ہیں، ایک کیس میں بلا کر دوسرے کیس میں گرفتار کرنے سے ملک میں بھی سیاسی بھونچال پیدا ہونا فطری امر ہے ،جبکہ اس اقدام کے ملک کے باہر بھی کوئی خوشگوار اثرات مرتب نہیں ہوں گے اور یہ تصور پختہ ہوگا کہ میاں شہبازشریف کی گرفتاری انتخابی عمل میں ان کی پارٹی کو دیوار سے لگانے اور اس پارٹی کے ووٹروں کا ذہن تبدیل کرنے کیلئے عمل میں لائی گئی ہے۔

قبل ازیں ایسا تاثر عام انتخابات کی مہم کے دوران میاں نوازشریف کی نااہلی اور پھر ان کی اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن(ر) صفدر کی سزاؤں سے بھی پیدا ہوا تھا جس سے نہ صرف مسلم لیگ (ن) کی انتخابی مہم متاثر ہوئی،بلکہ انتخابی نتائج میں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

میاں شہبازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے بھی ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے تو نیب خود کو انتقامی سیاسی کارروائیوں کے الزامات سے نہیں بچاپائے گا، جس کی کارکردگی اور کردار کے بارے میں پہلے ہی سپریم کورٹ سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

فاضل چیف جسٹس باور کرا چکے ہیں کہ نیب کے کسی کیس کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، نیب کو جرم ثابت ہونے سے پہلے کسی کی تذلیل اور اس کا میڈیا ٹرائل نہیں کرنا چاہئے۔ اس تناظر میں اگر سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حکمران پارٹی کے کئی لوگوں کے معاملات بھی تو نیب کے پاس زیر تفتیش ہیں۔

اگر دوران تفتیش کسی کو گرفتار کرنے سے ہی احتساب کے عمل کا بول بالا ہو سکتا ہے تو پھر یہ کارروائی بغیر کسی رو رعائت کے، بلاامتیاز ہونی چاہئے، بصورت دیگر نیب یکطرفہ اور انتقامی سیاسی کارروائی کے الزامات سے خود کو نہیں بچا پائے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ ایسے اقدامات سے حکومت کی بھی کوئی نیک نامی نہیں ہوتی، بلکہ اس سے اپوزیشن کی صفوں میں اضطراب پیدا ہوتا ہے تو وہ بالآخر حکومت مخالف تحریک کے دھارے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ میاں شہبازشریف کی گرفتاری کے تناظر میں میاں نوازشریف اور حمزہ شہباز جوابی اقدامات اور پارٹی کارکنوں کے سڑکوں پر آنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

گزشتہ روز احتساب عدالت لاہور کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی ہنگامہ آرائی ممکنہ حکومت مخالف تحریک کی جانب واضح اشارہ بھی ہے، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین مزید بڑی گرفتاریوں کا عندیہ دے کر پہلے سے گرم سیاسی ماحول کو مزید گرما رہے ہیں۔ اس سے آج کی منتشر اپوزیشن کے لامحالہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے اور حکومت مخالف منظم تحریک شروع کرنے کی فضا ہموار ہوگی۔

حکومت اپنے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں منی بجٹ اور گیس، بجلی، پٹرولیم نرخوں میں کئے گئے اضافہ کے فیصلوں کے باعث پہلے ہی آزمائش سے دوچار ہے، اس فضا میں نیب کی کارروائیوں کی بنیاد پر حکومت مخالف تحریک کی لہر بھی اٹھ کھڑی ہوئی تو وزیراعظم عمران خاں کے نئے پاکستان کے ایجنڈے کو عملی قالب میں ڈھالنا مشکل ہو جائے گا۔

احتسابی عمل پر کسی کو اعتراض نہیں اور کرپشن فری معاشرے کی تشکیل ملک کے ہر شہری کا مطمح نظر ہے، مگر انصاف کے تقاضوں کی عملداری میں احتساب کا عمل بے لاگ اور بلاامتیاز ہوگا اور اس سے کسی کے لیے سہولت اور کسی کے لیے یکطرفہ کڑی سزاؤں کا تاثر پیدا نہیں ہوگا تو ہی عوام کا احتساب کے عمل پر اعتماد قائم ہوگا،بصورت دیگر سیاسی انتقامی کارروائیوں کی کہانیوں سے ہماری تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔

(شاہد ندیم احمد)

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں