پاکستانی ڈاکٹرز کا مصنوعی جلد تیار کرنے کا دعویٰ

مصنوعی جلد تیار

پاکستانی ڈاکٹرز نے مقامی سطح پر بیالوجیکل مصنوعی جلد تیار کرنے کا دعویٰ کر دیا، مقامی طور پر تیار کی جانے والی جلد کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپے سے کم ہے۔

جلد کو18 مریضوں پر کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ایسے افراد میں اموات کی شرح نسبتاً زیادہ ہے جن کا جسم 50فیصد سے زیادہ جل جاتا ہے،اس کی ایک وجہ سہولیات کی کمی ہے۔

جس میں سب سے اہم انسانی جلد کا نعمل بدل یا مصنوعی جلد ہے۔تقریباً ایک مربع انچ درآمد شدہ بیالوجیکل مصنوعی جلد کی قیمت 900 امریکی ڈالر یعنی تقریباً ایک لاکھ پاکستانی روپےسےزیادہ پڑتی ہے۔

لیکن پاکستانی ڈاکٹرز نے مقامی سطح پر بیالوجیکل مصنوعی جلد تیارکرنے کا دعوٰی کیا ہے، مقامی طور پر تیار جلد کی پیوند کی قیمت ایک ہزار پاکستانی روپے سے کم ہے۔

وائس چانسلر یو ایچ ایس ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے جلد کو منظور ہوچکی ہے جبکہ 18 مریضوں پر استعمال کی گئی ہے۔

پاکستان میں اب تک”اے سیلولر ڈرمل میٹرکس” یا انسانی جلد کا بائیولوجیکل نعم البدل تیار نہیں کیا جا رہا تھا اور اسے درآمد کرنا پڑتا تھا، پاکستانی جلد میں ایسے کیمیکلز استعمال کیے گئے ہیں جو کام بھی بہتر دیں اور سستے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں