خیبر پختونخواہ میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے قانون تیار

خیبر پختونخواہ
loading...

پشاور: خیبر پختونخواہ میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے قانون تیار کرلیا گیا جس میں تشدد کرنے والے شوہر کو 30 ہزار روپے جرمانے اور 3 ماہ قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ میں گھریلو تشدد کی روک تھام کے لیے قانون تیار کرلیا گیا۔ مجوزہ بل کے مطابق تشدد کرنے والے شوہر کو 30 ہزار روپے جرمانہ اور 3 ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ شوہر بیوی کو کام کرنے کی جگہ یا کسی اور جگہ دھمکانے پر سزا کا مرتکب ہوگا، جبکہ بیوی کے رشتہ داروں کو دھمکانے پر بھی سزا ملے گی۔

بل میں کہا گیا ہے کہ ناچاقی کی صورت میں شوہر کو بیوی کی سلامتی کی ضمانت کا پابند بنایا جائے جبکہ شوہر بیوی اور بچوں کو نان نفقہ اور دیگر اخراجات دینے کا بھی پابند ہوگا۔

بل کے مطابق بیوی کی جانب سے جھوٹا الزام لگانے پر اسے 50 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد ہوگا۔

خیال رہے اس سے قبل خیبر پختونخواہ کی اسمبلی میں خواتین پر گھریلو تشدد، جنسی ہراسمنٹ یا کم عمری کی شادی کی شکایات درج کروانے کے لیے ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔

زما آواز یعنی “میری آواز” نامی یہ ہیلپ لائن خواتین کو سہولت فراہم کرے گی کہ وہ اپنے یا کسی اور پر ہوتے گھریلو تشدد کی شکایت براہ راست خیبر پختونخواہ کی اسمبلی میں درج کروا سکیں۔

شکایت کے بعد مقرر کردہ کمیٹی درج کی جانے والی شکایات کا جائزہ لے کر فوری طور پر متعلقہ حکام کو ان پر کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کرے گی۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں