ایم کیو ایم منی لانڈرنگ کیس: وفاقی وزیر فروغ نسیم ایف آئی اے کے سامنے پیش

ایم کیو ایم

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں نامزد وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم سے ایف آئی اے نے کم و بیش ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر قانون ایف آئی اےکی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے جن کے ہمراہ وفاقی وزیر انفارمیشن اور ٹیکنالوجی خالد محمود صدیقی بھی تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فروغ نسیم پر خدمت خلق فاونڈیشن کے فنڈ میں 2 لاکھ 68 ہزار روپے جمع کرانے کا الزام ہے اور ان سے اس حوالے سے سوال و جواب کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق خدمت خلق فاؤنڈیشن میں ایک ارب روپے سے زائد جمع کرائے گئے تھے اور جن افراد کو نوٹسز جاری کیے گئے ان پر خدمت خلق فاؤنڈیشن کے فنڈ میں خطیر رقوم جمع کرانے کا الزام ہے۔ فروغ نسیم کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے جو مرکز میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ نے11 نومبر کو ایم کیو ایم کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں 726 افراد کو نوٹسز جاری کیے تھے جو مختلف تنظیمی عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جن افراد کو نوٹسز جاری ہوئے ان پر خدمت خلق فاؤنڈیشن کے فنڈ میں خطیر رقوم جمع کرانے کا الزام ہے اور انہیں ایف آئی اے اسلام آباد سے رابطے کا کہا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ اور خدمت خلق فاؤنڈیشن کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ 2017 میں کراچی میں درج کیا گیا تھا مگر بعد میں اسے ایف آئی اے انسداد دہشت گردی ونگ اسلام آباد میں منتقل کردیا گیا تھا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں