حضرت نظام الدین اولیا کا خواتین سے پردہ؟

’کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم تب تک کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک ان کے ساتھ کھانے کے لیے کوئی اور نہ بیٹھا ہو۔ کئی بار تو ساتھ کھانے والے کی تلاش میں میلوں دور تک سفر کرتے۔ ایک بار انہیں ایسا شخص ملا جو کئی مختلف مذاہب کو مانتا تھا۔ اسے کھانے کے لیے پوچھنے میں حضرت ابراہیم ذرا ہچکچائے۔ تبھی انھیں ایک الہامی آواز سنائی دی، کہ ’ابراہیم! اگر ہم اس شخص کو زندگی دے سکتے ہیں، تم اسے کھانا نہیں دے سکتے؟‘

اب آپ ہی بتائیے جب خدا بندوں میں فرق کرنے سے منع کرتا ہے تو کیا مرد اور عورت میں فرق کرنا ٹھیک ہے؟ بالکل نہیں۔ اور اسی لیے ہم نے مفاد عامہ کی ایک درخواست دائر کر دی۔‘

پونے سے دلی آنے والی تین سہیلیوں نے حضرت نظام الدین اولیا کے روضے تک خواتین کو رسائی نہ دیے جانے کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر مرد اندر جا سکتے ہیں تو خواتین کیوں نہیں؟

ایک طرف ان لڑکیوں کی دلیلیں ہیں، تو دوسری طرف درگاہ اپنی کئی سو سال پرانی روایات کا حوالہ دیتی ہے اور اسے جائز قرار دیتی ہے۔

شوانگی کماری، دیبا فریال اور انوکریتی سُگم پونے کے بالاجی لا کالج میں بی اے (ایل ایل بی) کے چوتھے سال کی طالبات ہیں۔ تینوں کا تعلق انڈیا کی ریاست جھارکھنڈ سے ہے۔ تینوں انٹرن شِپ کرنے کے لیے دلی آئی تھیں۔

دیبا اور انوکریتی تو اب واپس پونے چلے گئی ہیں، تاہم شِوانگی اب بھی دلی میں ہے۔ انھوں نے بتایا، ’ہم تو یوں ہی گھومنے چلے گئے تھے۔ ہمیں تو خود اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا۔‘

درگاہ میں کیا ہوا؟
شوانگی کہتی ہیں کہ ’27 نومبر کو دوپہر کا وقت تھا۔ ہم تینوں اپنے دو اور دوستوں کے ساتھ درگاہ گئے تھے۔ ہم نے درگاہ پر چڑھانے کے لیے چادر خریدی اور پھولوں والی تھیلی بھی۔۔ لیکن چڑھا نہیں سکے۔

ہم جیسے ہی درگاہ کے اندر جانے لگے تو سامنے ایک تختی پر لکھا دکھ گیا کہ عورتوں کا اندر جانا منع ہے۔‘

ہم نے دیبا سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا: ’ہمیں اندر جانے سے روک دیا گیا۔ یہ بہت ہی برا تھا۔ میں حاجی علی درگاہ گئی ہوں، اجمیر شریف گئی ہوں لیکن وہاں تو کبھی نہیں روکا گیا پھر یہں کیوں روکا جا رہا ہے؟ یہ غلط ہے۔ کوئی ہمیں عبادت سے کیسے روک سکتا ہے؟‘

دینا کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شوانگی نے کہا، ’میں ہزاری باغ کی رہنے والی ہوں، وہاں بھی ایک مزار ہے لیکن وہاں کبھی بھی اندر جانے سے نہیں روکا گیا۔‘

وہ کہتی ہیں، ’سوچ کر دیکھیے کتنا برا لگتا ہے کہ چڑھانے کے لیے پھول، چادر آپ خریدیں لیکن چڑھائے کوئی اور۔۔‘

درگاہ کی اپنی دلیلیں ہیں۔۔
درگاہ کا خیال رکھنے والے کہتے ہیں کہ یہ ایسی جگہ ہی نہیں ہے جہاں کسی کے ساتھ تعصب برتا جائے۔ یہ ایسی جگہ ہے جہاں جتنے مسلمان آتے ہیں اتنے ہی ہندو، سِکھ، مسیحی اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی آتے ہیں۔

درگاہ سے تعلق رکھنے والے التمش نظامی کہتے ہیں، ’پہلی بات تو یہ کہ یہاں خواتین سے ساتھ کوئی تعصبانہ برتاؤ نہیں کیا جاتا۔ بلکہ خواتین بیٹھ کر فاتحہ پڑھ سکیں اس کا خیال رکھتے ہوئے ایک بڑے حصے کو صرف خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں، ’یہاں عبادت کا جو طریقہ ہے وہ نیا تو ہے نہیں، بلکہ سات سو سال سے بھی پرانا ہے۔ چاہے کوئی بھی درگاہ ہو وہاں ایسا انتظام ہوتا ہے کہ ولی کی قبر سے سوا میٹر یا دو میٹر کی دوری سے ہی لوگ دیدار کریں۔‘

آپ اجمیر کی بات کرتی ہیں، لیکن وہاں بھی تو لوگ دو میٹر کے فاصلے سے ہی دیدار کرتے ہیں۔

التمش کے ساتھ بیٹھے ایک شخص نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا، ’دیکھیے ہر جگہ کی اپنی روایات ہوتی ہیں۔ اپنے طریقے ہوتے ہیں اور اپنا پروٹوکول ہوتا ہے۔ بہت سی درگاہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں عورت ہو یا مرد کوئی اندر نہیں جا سکتا، بہت سی ایسی ہوتی ہیں جہاں دونوں جا سکتے ہیں اور کچھ ایسا بھی ہیں جہاں مرد نہیں جا سکتے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ خواجہ بختیار کاکی کی درگاہ کے پیچھے بی بی صاحب کا مزار ہے جہاں مرد تو کیا لڑکے بھی نہیں جا سکتے۔

التمش کہتے ہیں کہ ’حضرت نظام الدین اولیا خواتین سے پردے کے پیچھے سے ملتے تھے۔‘

ایسے میں ان کی دلیل ہے کہ درگاہ پر عبادت کی یا دیدار کی جو روایات ہیں وہ کسی نے یوں ہی نہیں بنا دیں۔ یہ کئی برسوں سے ہیں اور ان کے پیچھے ٹھوس وجوہات ہیں، جنھیں غلط نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘

تاریخ دان رعنا صفوی بھی اس بات کی حمایت کرتی ہیں کہ نظام الدین اولیا کی درگاہ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عورتیں اندر جائیں۔ یہ صحیح ہے یا غلط، اس پر وہ کچھ نہیں کہتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، تو عدالت کو ہی فیصلہ سنانے کا حق ہے۔

لیکن شوانگی، دیبا اور انوکریتی کی درخواست کے مطابق خواتین کو رسائی نہ دینے کو حقوق کی پامالی اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے اپنی درخواست میں حاجی علی اور سبریمالہ مندر کو دلیل کے طور پر رکھا ہے۔

حاجی علی میں بھی خواتین کے داخلے پر پابندی تھی جسے دو خواتین نے ممبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اس پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا، ’حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلے پر پابندی انڈیا کے آئین کی شق 14، 15، 19 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔‘

اس کے بعد سے حاجی علی میں یہ پابندی ہٹا لی گئی۔

ان تین سہیلیوں کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ درگاہ میں جن روایات کا نفاذ کیا جا رہا ہے وہ درگاہ ٹرسٹ کی بنائی ہوئی ہیں۔ جبکہ التمش کہتے ہیں کہ درگاہ کا کوئی ٹرسٹ ہے ہی نہیں۔

’درخواست دائر کرنے سے پہلے ڈر تھا‘
شوانگی کہتی ہیں، ’جب ہم واپس آئے تو بہت عجیب محسوس ہو رہا تھا۔ بہت دیر تک اس بارے میں بات کرتے رہے۔ اس کے بارے میں پڑھائی کی کہ یہ کوئی مذہبی قانون تو نہیں، کیونکہ ایسا کسی مذہبی کتاب میں نہیں لکھا۔‘

وہ کہتی ہیں، ’جب پی آئی ایل دائر کرنے کے بارے میں سوچا تو ڈر بھی لگا کہ کہیں ہمارے ساتھ کچھ غلط نہ ہو جائے، دھمکیاں نہ ملنے لگیں۔۔ پھر لگا کہ ہم غلط تو کچھ نہیں کر رہے، پھر ڈریں کیوں۔۔‘

ویسے جب ہم نے درگاہ کے باہر پھول خرید رہی روشن جہاں سے پوچھا کہ کیا انھیں بھی عجیب لگتا ہے کہ مزار پر خواتین کو نہیں جانے دیا جاتا تو انھوں نے کہا، ’اس میں عجیب لگنے والا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ مزار ہے، یعنی قبر۔ کیا کبھی دیکھا ہے کہ کوئی عورت قبرستان جاتی ہو، پھر یہاں کیوں جائیں؟‘

سمرن بھی درگاہ میں موجود تھی، انھوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، ’میں یہاں فاتحہ پڑھنے آتی ہوں، قانون پڑھنے نہیں۔‘

فی الحال اس مسئلے پر ہائی کورٹ کے دلی سرکار سمیت سبھی پارٹیوں سے جواب طلب کیا ہے اور اگلی پیشی 11 اپریل 2019 کو ہو گی۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں