(ن) لیگ الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتی، الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے ‘مشاہد حسین

الیکشن
loading...

جب قیادت پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہوتی ہے تو چوہدری نثار کیوں نہیں پیش ہو سکتے ‘(ن) کے مرکزی رہنما

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن )کے مرکزی رہنما و سینٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ اس وقت وزارت عظمی کیلئے تین امیدوار ہیں، جن میں شہبازشریف عمران خان،اورآصف علی زرداری شامل ہیں، گیلپ سروے ہویا پل ڈیٹ یا وال سٹریٹ جنرل سب نے (ن) لیگ کی بہتر اور مضبوط پوزیشن کی نشاندہی کی ہے۔ا ن خیالات کااظہارانہوں نے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے اعزاز میں دئیے گئے افطار ڈنرکے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سابق وفاقی وزیر پرویز رشید اور پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگ زیب بھی موجود تھیں

مشاہد حسین سید نے کہا کہ عوام پرفارمنس کے بنیاد پر ن لیگ کو دیکھیں نوازشریف یا شہبازشریف کا جلسہ دیکھ لیں دودھ کا دودھ پانی کاپانی ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ الیکشن میں تاخیر نہیں چاہتی بلکہ الیکشن وقت پر چاہتی ہے اور صاف ستھری مہم ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم یکم جولائی سے بھر پور مہم چلائیں گے یہ ہمارے لئے بہت وقت ہے ۔

ریحام خان کی کتاب کے بارے میں عمران خان اور ریحام خان سے ہی پوچھا جائے ۔کہا جا رہا تھا کہ حکومت ختم ہونے اورکیسز سے ساتھی ن لیگ کا ساتھ چھوڑ دیں گے لیکن ایسا نہیں ہواان کے تمام خدشات غلط ثابت ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ جب قیادت پارلیمانی بورڈ کے سامنے پیش ہوتی ہے تو چوہدری نثار کیوں نہیں پیش ہو سکتے جو درخواستیں دیکھی ہیں اس میں چودھری نثار کی درخواست نہیں ہے مفروضوں پر بات نہیں کروں گا تمام قومی ادارے اور سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ الیکشن 25 جولائی کو ہی ہوں۔ نوازشریف کے جیل میں جانے کی باتیں ابھی تک مفروضوں پر مبنی ہے

مزید پڑھیں۔  مصر، یوسف القرضاوی کی بیٹی و داماد کو مزید حراست میں رکھنے کا حکم

پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگ زیب نے اپنی غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے شرائط پر ملک آنے کی حامی بھری ہے ، انصاف سب کیلئے برابر ہونا چاہیے۔

زلفی بخاری کے ابرے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ سب کے سامنے ہے اس کے پاس کیا جادو کی چھڑی ہے زلفی بخارء کا نام ایک گھنٹہ میں ای سی ایل سے نکال لیا گیا کس نے اور کیسے نکالا گیا سب جانتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شریف فیملی ایک ہفتہ لندن میں قیام کرے گی اور عید الفطر کے تین روز کے بعد وطن واپس آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ محاذ پانچ سال خاموش رہا جو یہ بات کررہے ہیں ہر حکومت یہی بات کرتی رہیاب انہوں نے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے اب صوبے کی بات نہیں ہو رہی۔یہ لوگ ہر الیکشن سے پہلے ذاتیات کیلئے جنوبی پنجاب کا نعرہ لگاتے رہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں