بچوں کی اخلاقی تربیت …. والدین کا اولین فرض

بچوں کی اخلاقی تربیت

علامہ پیر محمد تبسم
اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے خانگی تعلقات کا مقصد صرف عمل زوجیت کی تکمیل اور تسکین نفس نہیں رکھا۔ بلکہ اسلام کے نزدیک یہ ایک تمدنی فریضہ ہے جس سے نسلِ انسانی کی حفاظت مطلوب ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ عورت کا کام محض بچے پیدا کرنا نہ ہو بلکہ بچوں کی اخلاقی تربیت ،تعلیم اور ان کی مناسب پرورش بھی ہو ۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے عورت کے لئے حرث یعنی کھیت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔جس طرح ایک کھیت کے دامن سے ایک خاص ترتیب اور عمل سے فصل تیار ہو کر نکلتی ہے ۔اسی طرح صنف نازک کے دامن سے بھی نسل انسانی کو مکمل طور پر تیار ہو کر نکلنا چاہئے۔ چنانچہ والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کا خاص خیال رکھیں اور ان کی ایسی تربیت کریں کہ وہ معاشرے کے معزز فرد بن سکیں۔

حضرت امام غزالی رحمۃ للہ علیہ نے بچوں کی اخلاقی تربیت کے قواعد کو ایک دستور العمل کے طور پر مرتب کیا ہے جس کا خلاص یہ ہے ۔

تربیت کی اصل بنیاد چونکہ بچپن میں پڑتی ہے ۔اس لئے اسی وقت سے اس کی دیکھ بھال رکھنی چاہیے ۔بچے میں سب سے پہلے غذا کی رغبت پید اہوتی ہے ۔ اسے بتانا چاہئے کہ کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کریں ۔دستر خوان پر جو کھانا سامنے اور قریب ہو اسی طرف ہاتھ بڑھائے ۔کھانے کی طرف یا کھانے والوں کی طرف نظر نہ جمائے ۔جلد جلد نہ کھائے ۔نوالہ اچھی طرح چبائے ،ہاتھ اور کپڑے کھانے میں آلو دہ نہ کرے ۔کم کھائے اور معمولی کھانے پر اکتفا کرے اور دوسروں کو بھی کھلائے۔

سفید کپڑے پہننے کا شوق دلایا جائے اور اسے سمجھا یا جائے کہ شوخ رنگ کے کپڑے یا ریشمی یا بھڑ کدار کپڑے پہننا عورتوں کا کام ہے ۔جو لڑکے اس قسم کے کپڑوں کے عادی ہوں ان کی صحبت سے بچایا جائے ۔کاہلی اور آرام پرستی سے نفرت دلائی جائے ۔جب بچے سے کوئی پسندیدہ فعل ظہور میں آئے تو تعریف کر کے اس کا دل بڑھایا جائے اور اُسے انعام دیا جائے ۔ اس کے خلاف کبھی کوئی بات ظاہر ہو تو چشم پوشی کر نا چاہئے تاکہ برے کاموں پر دلیر نہ ہو جائے ۔خصوصاً جب وہ خود اس کا م کوچھپانا چاہتا ہو ۔اگر دوبارہ وہ فعل سرزد ہو تو تنہائی میں اسے سمجھانا چاہئے کہ یہ بہت بری بات ہے لیکن بار بار اس کو ملامت نہ کرنی چاہئے ۔ اس سے بات کا اثر کم ہو جاتا ہے اور بچے میں ڈانٹ ڈپٹ سننے کی عادت پڑجاتی ہے ۔

اس بات کی سخت تاکید کرنی چاہئے کہ بچہ چھپا کر کوئی کام نہ کرے ۔کیونکہ بچہ اسی کام کو چھپا کر کرتا ہے جس کو وہ برا سمجھتا ہے ۔اس لئے جب چھپا کر کام کرنے کی عادت چھوٹ جائے گی تو بچہ بہت سی بری عادتوں سے محفوظ رہے گا۔مجلس میں تھوکنے ،جماہی اور انگڑائی لینے لوگوں کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنے ،پاؤں پر پاؤں رکھنے اور ٹھوڑی کے نیچے ہتھیلی رکھ کر بیٹھنے سے منع کرنا چاہئے۔

loading...

قسم کھانے سے بالکل روکنا چاہئے ۔گو سچی ہو۔ بات خود شروع نہ کرے ۔بلکہ پو چھے تو جواب دے ۔مخاطب کی بات کو توجہ اور غور سے سُنے ۔سکول یا مدرسہ سے پڑھ کر نکلے تو اس کو موقع دیا جائے کہ کوئی کھیل کھیلے کیوں کہ ہر وقت پڑھنے لکھنے میں مصروف رہنے سے دل بجھ جاتا ہے ۔ذہن کند ہو جاتا ہے اور طبیعت اچاٹ ہو جاتی ہے ۔اسی طرح مجددین و ملت اعلیٰ حضرت امام الشاہ احمد رضا خاں حنفی قادری فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:’’بچے کی زبان کھلتے ہی ‘‘اللہ اللہ پھر لاا لہ الا اللہ پھر پور اکلمہ طیبہ سکھایا جائے جب تمیز آئے توقرآن مجید پڑھائے ۔استاد نیک ،صالح، متقی، صحیح العقیدہ اورسن رسیدہ کے سپرد کر دے اور دختر کو نیک پارسا عورت سے پڑھوائے ۔بعد ختم قرآن مجید ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے ۔ عقائد اسلام و سنت سکھائے کہ لوح سادہ فطرت اسلامی و قبول حق پر مخلوق ہے ۔اس وقت کا بتایا پتھر کی لکیر ہو گا۔

حضور اقدس رحمت عالم ﷺ کی محبت و تعظیم ان کے دل میں ڈالے کہ اصل ایمان و عین ایمان ہے ۔حضور پر نور ﷺ کے آل و اصحاب و اولیاء و علماء کی محبت و عظمت تعلیم کرے کہ اصل سنت و زیور ایمان بلکہ باعثِ بقائے ایمان ہے ۔سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دے ۔ علم دین خصوصاً وضو ،غسل، نماز، روزہ کے مسائل ،توکل ،قناعت ،زہد، اخلاص ،تواضع ،امانت ،صدق ،عدل ،حیا، سلامت صدر و لسان وغیر ہا خوبیوں کے فضائل، حرص، طمع ،حب دنیا ،حب جاہ ، ریا، تکبر ،خیانت ،کذب ، ظلم ،فحش،غیبت ،حسد ،کینہ وغیرہا برائیوں کے رذائل پڑھائے ۔پڑھانے سکھانے میں رفق اور نرمی ملحوظ رکھے ۔

ہرموقع پر چشم نمائی تنبیہہ و تحدید کرے ۔مگر بار بار نہ کوسے کہ اس کا کوسنا ان کے لئے سبب اصلاح نہ ہو گا بلکہ زیادہ فساد کا اندیشہ ہے۔ بری صحبت میں نہ بیٹھنے دے ۔ نہ ہرگز ہرگز کتب عشقیہ و غزلیات فسقیہ دیکھنے دے کہ نرم لکڑی جدھر جکائے جھک جاتی ہے ۔جب دس برس کا ہو تونماز مار کر پڑھائے ۔خاص لڑکی کے حقوق سے ہے کہ اس کے پیدا ہونے پر افسردہ نہ ہو بلکہ نعمت الہٰیہ جانے ۔سینا پرونا ، کاتنا ،کھانا پکانا سکھائے ،بیٹوں سے زیادہ دلجوئی اور خاطر داری
رکھے کہ ان کا دل بہت تھوڑا ہوتا ہے ۔ اور جو چیز دے پہلے انہیں دے کر بیٹوں کو دے۔

جہاں ناچ گانا ہو ہر گز نہ جانے دے ۔اگر چہ خاص اپنے بھائی کے یہاں ہو کہ گانا سخت سنگین جادو ہے اور ان نازک شیشوں کو تھوڑی ٹھیس بہت ہے بلکہ بیگانوں میں جانے کی مطلقاً بندش کرے ۔(مشعلۃ الارشاد)مذکورہ بالا اقوال سلف صالحین سے اولاد کی تعلیم و تربیت بارے ہمیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ والدین کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے ۔کیونکہ آج کے بچے کل کے بڑے ہیں۔والدین جس طرح اپنی اولاد کی تربیت کریں گے کل کو یہ بھی اپنے بچوں کی تربیت انہیں خطوط پر استوار کریں گے ۔ہمارے معاشرے میں فتنہ و فساد ،بے راہ روی ، لڑکوں اور لڑکیوں کی حیاء باختہ حرکتیں اور والدین کی نا فرمانی اسی لئے پائی جاتی ہے کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت اسلامی سانچے کے مطابق کرنے کی بجائے میڈیا اور اغیار سے عادات و اطوار عاریتاً لیتے نظر آتے ہیں۔ہمیں ہر معاملہ میں بحیثیت مسلمان قرآن حکیم اور تعلیمات نبوی سے ہی اصول و ضوابط اخذ کر کے اپنی اولاد کی تربیت کرنی چاہئے۔تاکہ وہ ملک و ملت کے لئے ممدو معاون ثابت ہوں ۔

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کریم ﷺ کے صدقہ سے ہمیں تربیت اولاد کا فریضہ قرآن و سنت کے مطابق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین !

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں