کیا مرحومہ کلثوم نواز کو نواز شریف اور مریم نواز کو ہونے والی سزا کا پہلے ہی معلوم تھا؟۔

پانامہ

پانامہ عروج پر تھا جے۔ آئی۔ ٹی بن چکی تھی پیشیاں ہو رہی تھیں ہم ڈونگہ گلی مری والے گھر میں ٹیرس میں کرسیاں ڈالے بیٹھے تھے بس دو چار لوگ ہی تھے گرمیوں کے دن تھے لیکن اُس روز ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بیگم صاحبہ بولی ”مریم مجھے ٹھنڈ سی لگ رہی ہے اندر سے کوئی چادر لے آؤ ‘‘اندر جانے میں شاید کچھ دیر لگ جاتی مریم نے اپنی شال اتار کر ماں کے کندھوں پر ڈال دی بات چل رہی تھی کہ پانامہ لیکس کا کیا بننا ہے۔

loading...

ایک وکیل صاحب بھی تھے میاں صاحب توجہ سے ان کی بات سُن رہے تھے اُن کا کہنا تھا کہ کسی جگہ آپ کا نام نہیں، کہیں کرپشن کا نام ونشان نہیں، کہیں ثبوت ہے نہ شہادت۔ کیسے سزاد یں گے۔ زیرک خاتون خاموشی سے سنتی رہیں۔

خوش گمانیوں کی برکھا تھمی تو بولیں ” نواز ایک لمحے کے لئے بھی مت سوچو کہ یہ تمہیں چھوڑیں گے یا کلین چٹ دیں گے جنہوں نے یہ سب کچھ کیا ہے وہ تمہیں بری کرنے کے لئے نہیں کیا پانامہ تو بس بہانہ ہے تمہیں اپنے اصل جرم اور قصور کا علم ہے یہ ضرور تمہیں سزا دیں گے کچھ ملے نہ ملے‘‘ اور ایک سناٹا چھا گیا ڈان لیکس کا آتش فشاں دہک رہا تھا جب بیگم صاحبہ نے ایک فیصلہ کن مرحلے پر تاریخ ساز کردار ادا کیا۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  اسلام اور پاکستان کیلئے مجھے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں ہے ٗنواز شریف

اپنا تبصرہ بھیجیں