سینیٹ کی خالی ہونے والی دو نشستوں پر ضمنی انتخاب کل ہو گا

سینیٹ
loading...

اسلام آباد: سینیٹ کی خالی ہونے والی دو نشستوں پر ضمنی انتخاب کل ہو گا۔ جس میں پنجاب اسمبلی کے 369 اراکین اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

پنجاب سے سینیٹ کی خالی ہونے والی دو نشستوں پر پنجاب اسمبلی کی اراکین 15 نومبر کو اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ جس کے لیے پنجاب اسمبلی کو ہی پولنگ اسٹیشن بنایا گیا ہے جس کا کنٹرول الیکشن کمیشن نے سنبھال لیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب سے سینیٹ کی خالی دونوں نشستوں پر کاغذات نامزدگی 31 اکتوبر کو جمع کرائے گئے تھے جب کہ انتخاب میں صوبائی الیکش کمشنر ظفر حسین ریٹرننگ افسر ہوں گے۔

دونوں نشستوں کے لیے دس امیدوار میدان میں موجود ہیں جب کہ ایک امیدوار جمشید اقبال کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے گئے تھے۔

سینیٹ کی جنرل نشست کے لیے تین جب کہ خواتین کی مخصوص نشست پر سات امیدوار مد مقابل ہیں۔ جنرل نشست پر ولید اقبال، سعود مجید اور شیخ عابد وحید میدان میں موجود ہیں جب کہ خواتین کی مخصوص نشست پر سیمی ایزدی، تنزیلہ عمران خان، عشرت اشرف، زرقا تیمور، عاصمہ شجاع، سائرہ افضل اور روبینہ شاہین حصہ لے رہی ہیں۔
پنجاب سے سینیٹ کی دونوں نشستیں مسلم لیگ نون کی سعدیہ عباسی اور ہارون اختر کی نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھیں۔ سینیٹ انتخاب کے حوالے سے تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بدھ کی شام وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس پنجاب میں ہو گا۔

جس میں سینیٹ انتخاب کے حوالے سے حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ انتخاب کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے اور اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون نے آزاد اور سیاسی جماعتوں کے اراکین کو ٹارگٹ کر لیا ہے۔

سینیٹ انتخاب کے لیے حکمراں جماعت کو عددی اکثریت حاصل ہے تاہم خفیہ رائے شماری کی وجہ سے دونوں جماعتوں کو اپنے اپنے اراکین کی فکر ہو گئی ہے۔

371 کے ایوان میں 369 اراکین اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جب کہ چوہدری نثار علی خاں نے تاحال بطور رکن پنجاب اسمبلی حلف نہیں اٹھایا ہے اور خواجہ سعد رفیق کی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب ہونا باقی ہے۔

ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کی 180، مسلم لیگ نون کی 167، مسلم لیگ ق کی دس، پیپلز پارٹی کی سات، چار آزاد اراکین اور ایک راہ حق پارٹی کی نشست ہے جب کہ مسلم لیگ ق کی حمایت سے پی ٹی آئی کے ووٹوں کی تعداد 190 ہو گئی ہے جب کہ پیپلزپارٹی کی سات نشستوں کے ساتھ مسلم لیگ نون کے پاس 174 ووٹ ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں