برطانوی وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار کی حوالگی پر مشروط رضامندی ظاہر کردی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

اسحاق ڈار

اسلام آباد : سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکی وطن واپسی کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ برطانوی وزارت داخلہ نے اسحاق ڈارکی حوالگی پر مشروط رضامندی ظاہر کردی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اسحاق ڈار کا وطن واپس نہ آنے میں بیماری کا ایشو کم ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ برطانوی وزارت داخلہ نے اسحاق ڈارکی حوالگی پر مشروط رضامندی ظاہر کردی ہے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ برطانیہ پاکستان میں ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ ہوگیا ہے، برطانوی وزارت داخلہ نے ستائیس سوالوں پرمشتمل سوالنامہ بھیجا ، یہ سوالنامہ نیب کے حوالے کردیا ہے، نیب نے ان سوالوں کےجواب دینے ہیں، سوالوں کے جواب کے بعد بر طانوی وزارت داخلہ فیصلہ کرے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا اسحاق ڈارکا وطن واپس نہ آنے میں بیماری کا ایشوکم ہے،، اسحاق ڈارکہتےہیں جب انصاف ملے گا تب پاکستان آؤں گا، لیکن پاکستان میں تو عدالتیں انصاف کررہی ہیں، پتہ نہیں ان کے نزدیک انصاف کا کیا معیارہے؟ ٹھیک ہےاس معاملے پرایک مہینے کا وقت تو لگ ہی جائے گا۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ طویل فاصلے پر بیٹھ کرانصاف نہیں ہوسکتا، جس کے بعد کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی گئی۔

loading...

یاد رہے اسحاق ڈارکی وطن واپسی کے لئے وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو خط لکھا تھا اور برطانوی جواب سے سپریم کورٹ کو آگاہ کرنا تھا، عدالت کی جانب سے اٹارنی جنرل، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری خارجہ، سیکریٹری اطلاعات، سیکریٹری خزانہ، اور پراسیکیوٹر نیب کو نوٹس جاری کرکے طلب کیا گیا تھا جبکہ ڈی جی ایف آئی اے اور اسحاق ڈار کو بھی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

خیال رہےآمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس کے اشتہاری ملزم اسحاق ڈار نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے تاہم اہل خانہ کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست کی تردید سے گریز بھی کیا گیا تھا۔

واضح رہے قومی احتساب بیورو (نیب) نے اثاثہ جات ریفرنس میں اشتہاری اور مفرور ملزم و سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان کا پاسپورٹ بھی بلاک کردیا تھا۔

قومی احتساب بیورو نے اسحاق ڈارکو انٹرپول کے ذریعے لندن سے گرفتار کرکے وطن واپس لانے کے لیے ریڈ وارنٹ بھی جاری کیے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اسحاق ڈار سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اسحاق ڈار واپس نہیں آتے تو عدالت ان کے خلاف فیصلہ سنا دے گی۔

سابق وزیر خزانہ اور مفرور ملزم اسحاق ڈار گزشتہ کئی ماہ سے لندن میں مقیم ہیں اور سپریم کورٹ کے متعدد بار طلب کرنے کے باوجود پیش نہیں ہوئے ، جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی جائیداد قرق کرنے کے احکامات بھی جاری کئے تھے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں