زنجیروں میں جکڑی شہید کی ماں

پشاور کے وارسک روڈ پر واقعہ آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے میں 125 معصوم کمسن بچے دہشتگردوں کی بربریت کا نشانہ بنے۔ جن میں چند شہید ہونے والے بچے اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔

فاہد حسین شہید بھی ان چند بچوں میں سے ایک تھا جو کہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا، تیرہ سالہ فاہد آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا اور باسکٹ بال اور کرکٹ کا دیوانہ تھا۔ فاہد پڑھائی کا شوقین تھا اور اسی وجہ سے فاہد کے والد حوالدار حسین نواب نے اپنے گاؤں سے پشاورمنتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔

فاہد پڑھ لکھ کر ایئر فورس پائیلٹ بننا چاہتا تھا۔ ایک بار جب فاہد کے والد نے اپنے بیٹے سے کہا کہ وہ اس کی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے تو فاہد کا کہنا تھا کہ “بابا آپ بس میرا ساتھ دیں، پڑھنا میرا کام ہے”۔ فاہد کے والد کے بقول شہادت سے تین دن پہلے جب وہ صبح سویرے اپنی ڈیوٹی پر جانے لگے تو فاہد نے خواہش کی کہ وہ نوکری چھوڑ کر ان کے ساتھ رہیں اور فاہد کی والدہ کا خیال رکھیں۔

آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کی خبر بھی فاہد حسین کے والد کو فاہد کی والدہ نے فون پر دی۔ جس پر فاہد کے والد، جو کہ فوج میں حوالدار ہیں اور مالاکنڈ ایجنسی میں تعینات تھے، کہنے لگے کہ پریشان ہونے کی بات نہیں۔ جلد ہی حالات ٹھیک ہوجائیںگے۔ فاہد کی شہادت کی خبر بے بس باپ کو شام 4 بجے کے قریب فاہد کے کزن نے دی، جس وقت وہ مالاکنڈ سے پشاور کے راستے میں تھے۔ فاہد کی شہادت کے بعد فاہد کی مظلوم بے بس ماں تین ماہ تک فاہد کا اسکول بیگ کندھے پر لٹکائے اسکول جاتی رہی اور جب چھٹی ہونے پر فاہد اسکول کے دروازے سے باہر نا آتا تو وہ چیختی چنگھارتی شہید فاہد کے والد کے ہمراہ گھر واپس آجاتی۔

فاہد کی شہادت کے بعد سے اب تک فاہد کی والدہ ذہنی طور پر شدید بیمار ہیں اور فاہد کی یاد آنے پر گھر سے بھاگنے کی کوشیش کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے فاہد کے والد نے انھیں زنجیریں پہنا رکھی ہیں۔ شہید فاہد کے والد کا کہنا ہے کہ شہادت سے تین دن پہلے جیسا کہ فاہد نے خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ نوکری چھوڑ کر گھر پر رہیں اور فاہد کی والدہ کا خیال رکھیں۔ آج جب فاہد نہیں ہے تو وہ نوکری چھوڑ کر گھر پر فاہد کی والدہ کا خیال رکھتے ہیں۔ کیونکہ نا تو وہ خود سے کپڑے بدل سکتی ہے اور نا ہی لیٹرین جا سکتی ہے۔ فاہد کے والد نے فاہد کے قصّے سناتے ہوئے بتایا کہ ایک بار فاہد نے گھر کے باہر کھیلتے بچوں کو دیکھ کر پوچھا کہ اسکے اپنے بہن اور بھائی کیوں نہیں ہیں؟ جس پر فاہد کے والد نے جواب دیا کہ اللہ کو بس یہی منظور ہے۔ جس پر فاہد نے اللہ سے بھائی اور بہن دینے کے لئے دعا کی۔ اب فاہد اس دنیا میں تو نہیں مگر فاہد کی مانگی دعا پوری ہونے کو ہے کیونکہ فاہد کی مظلوم ماں امید سے ہے۔

یہ تصنیف آرمی پبلک اسکول پر حملے میں شہید ہونے والے بچوں سے متعلق ایک سیریز کی تیسری قسط ہے۔ اس سیریز میں چند شہید بچوں کی کہانیاں ایک ایک کر کے پیش کی جائیں گی۔

نوید نسیم

Spread the love
  • 11
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں