ایک خط

لائسنس

تمہارا طویل خط ملا جسے میں نے دو مرتبہ پڑھا۔ دفتر میں اس کے ایک ایک لفظ پر میں نے غور کیا۔ اور غالباً اسی وجہ سے اس روز مجھے رات کے دس بجے تک کام کرنا پڑا۔

اس لیے کہ میں نے بہت سا وقت اس غورو فکر میں ضائع کردیا تھا۔ تم جانتے ہو اس سرمایہ پرست دنیا میں اگر مزدور مقررہ وقت کے ایک ایک لمحے کے عوض اپنی جان کے ٹکڑے تول کر نہ دے تو اسے اپنے کام کی اُجرت نہیں مل سکتی۔ لیکن یہ رونا رونے سے کیا فائدہ! شام کو عزیز صاحب، جن کے یہاں میں آج کل ٹھہرا ہوں۔ دفتر میں تشریف لائے اور کمرے کی چابیاں دے کر کہنے لگا۔

’’میں ذرا کام سے کہیں جا رہا ہوں۔ شاید دیر میں آنا ہو۔ اس لیے تم میرا انتظار کیے بغیر چلے جانا۔ ‘‘

لیکن پھر فوراً ہی چابیاں جیب میں ڈالیں اور فرمانے لگے:

’’نہیں، تم میرا انتظار کرنا۔ میں دس بجے تک واپس آجاؤں گا۔ ‘‘

دفتری کام سے فارغ ہوا تو دس بج چکے تھے۔ سخت نیند آرہی تھی۔ آنکھوں میں بڑی پیاری گدگدی ہورہی تھی۔ جی چاہتا تھا کرسی پر ہی سو جاؤں۔ نیند کے غلبے کے اثر میں میں نے گیارہ بجے تک عزیز صاحب کا انتظار کیا مگر وہ نہ آئے۔ آخر کار تھک کر میں نے گھر کی راہ لی۔ میرا خیال تھا کہ وہ ادھر ہی ادھر گھرچلے گئے ہوں گے اور آرام سے سو رہے ہوں گے۔

آہستہ آہستہ نصف میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد میں تیسری منزل پر چڑھا اور جب اندھیرے میں دروازے کی کنڈی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو آہنی تالے کی ٹھنڈک نے مجھے بتایا کہ عزیز صاحب ابھی تشریف نہیں لائے۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت میرے تھکے ہوئے اعضا سکون بخش نیند کی قربت محسوس کرکے اور بھی ڈھیلے ہو گئے، اور جب مجھے ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا تو مضمحل ہو گئے۔ دیر تک چوبی سیڑھی کے ایک زینے پر زانوؤں میں دبائے عزیز صاحب کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آئے۔ آخر کار تھک ہار کر میں اٹھا اور تین منزلیں اتر کر نیچے بازار میں آیا اور ایسے ہی ٹہلنا شروع کردیا۔ ٹہلتے ٹہلتے پل پر جا نکلا جس کے نیچے سے ریل گاڑیاں گزرتی ہیں۔

اس پُل کے پاس ہی ایک بڑا چوک ہے۔ یہاں تقریباً آدھ گھنٹے تک میں بجلی کے ایک کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا اور سامنے نیم روشن بازار کو اس امید پر دیکھتا رہا کہ عزیز صاحب گھر کی جانب لوٹتے نظر آجائیں گے۔ آدھ گھنٹے کے اس انتظار کے بعد میں نے دفعتاً سر اٹھا کر کھمبے کے اوپر دیکھا، بجلی کا قمقمہ میری ہنسی اڑا رہا تھا۔ جانے کیوں! تھکاوٹ اور نیند کے شدید غلبے کے باعث میری کمر ٹوٹ رہی تھی اور میں چاہتا تھا کہ تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ جاؤں۔

بند دوکانوں کے تھڑے مجھے نشست پیش کررہے تھے مگر میں نے ان کی دعوت قبول نہ کی چلتا چلتا پُل کی سنگین منڈیر پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ کشادہ بازار بالکل خاموش تھا۔ آمدوفت قریب قریب بند تھی، البتہ کبھی کبھی دُور سے موٹر کے ہارن کی رونی آواز خاموش فضا میں لرزش پیدا کرتی ہوئی اوپر کی طرف اُڑ جاتی تھی۔ میرے سامنے سڑک کے دورویہ بجلی کے بلند کھمبے دُور تک پھیلے چلے گئے تھے جو نیند اور اس کے احساس سے عاری معلوم ہوتے تھے۔ ان کو دیکھ کر مجھے روس کے مشہور شاعر میاتلف کی نظم کے چند اشعار یاد آگئے۔ یہ نظم چراغ ہائے سرراہ سے معنون کی گئی ہے۔

میا تلف، سڑک کے کنارے جھلملاتی روشینوں کو دیکھ کر کہتا ہے ؂ یہ ننھے چراغ، یہ ننھے سردار صرف اپنے لیے چمکتے ہیں جو کچھ یہ دیکھتے ہیں، جو کچھ یہ سنتے ہیں کسی کو نہیں بتاتے روسی شاعر نے کچھ درست ہی کہا ہے۔ میرے پاس ہی ایک گز کے فاصلے پر بجلی کا کھمبا گڑا تھا اور اس کے اوپر بجلی کا ایک شوخ چشم قمقمہ نیچے جھکا ہوا تھا۔

اس کی آنکھیں روشن تھیں مگر وہ میرے سینے کے تلاطم سے بے خبر تھا۔ اسے کیا معلوم مجھ پر کیا بیت رہی ہے۔ سگریٹ سُلگانے کے لیے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو تمہارے وزنی لفافے پرپڑا۔ ذہن میں تمہارا خط پہلے ہی سے موجود تھا۔ چنانچہ میں نے لفافہ کھول کر بسنتی رنگ کے کاغذ نکال کر انھیں پڑھنا شروع کیا۔ تم لکھتے ہو:

’’کبھی تم شیطان بن جاتے ہو اور کبھی فرشتہ نظر آنے لگتے ہو۔ ‘‘

یہاں بھی دو تین حضرات نے میرے متعلق یہی رائے قائم کی ہے اور مجھے یقین سا ہو گیا ہے کہ میں واقعی دو سیرتوں کا مالک ہو۔ اس پر میں نے اچھی طرح غور کیا ہے اور جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ کچھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے: بچپن اور لڑکپن میں مَیں نے جو کچھ چاہا، وہ پورا نہ ہونے دیا گیا، یوں کہوکہ میری خواہشات کچھ اس طرح پوری کی گئیں کہ ان کی تکمیل میرے آنسوؤں اور میری ہچکیوں سے لپی ہُوئی تھی۔

میں شروع ہی سے جلد باز اور زُود رنج رہا ہوں۔ اگر میرا جی کسی مٹھائی کھانے کو چاہا ہے اور یہ چاہ عین وقت پر پوری نہیں ہوئی تو بعد میں میرے لیے اس خاص مٹھائی میں کوئی لذت نہیں رہی۔ ان امور کی وجہ سے میں نے ہمیشہ اپنے حلق میں ایک تلخی سی محسوس کی ہے اور اس تلخی کی شدت بڑھانے میں اس افسوسناک حقیقت کا ہاتھ ہے کہ میں نے جس سے محبت کی، جس کو اپنے دل میں جگہ دی، اس نے نہ صرف میرے جذبات کو مجروح کیا بلکہ میری اس کمزوری

’’محبت‘‘

سے زبردستی ناجائز فائدہ بھی اُٹھایا۔ وہ مجھ سے دغا فریب کرتے رہے، اور لُطف یہ ہے کہ میں ان تمام دغا بازیوں کے احساس کے باوجود ان سے محبت کرتا رہا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اپنی ہر نئی چال کی کامیابی پر بہت مسرور ہوتے تھے کہ انھوں نے مجھے بے وقوف بنا لیا اور میری بے وقوفی دیکھو کہ میں سب کچھ جانتے ہوئے بے وقوف بن جاتا تھا۔ جب اس ضمن میں مجھے ہر طرف سے ناامیدی ہوئی۔

یعنی جس کسی کو میں نے دل سے چاہا، اس نے میرے ساتھ دھوکا کیا تو میری طبیعت بجھ گئی اور میں نے محسوس کیا کہ ریگستان میں ایک بھونرے کے مانند ہوں جسے رس چوسنے کے لیے حد نظر تک کوئی پھول نظر نہیں آسکتا لیکن اس کے باوجود محبت کرنے سے باز نہ رہا اور حسبِ معمول کسی نے بھی میرے اس جذبے کی قدر نہ کی۔ جب پانی سر سے گزر گیا اور مجھے اپنے نام نہاد دوستوں کی بے وفائیاں اور سرد مہریاں یاد آنے لگیں تو میرے سینے کے اندر ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔

میرے جذباتی، سرمدی اور ناطق وجود میں ایک جنگ سی چھڑ گئی۔ ناطق وجود ان لوگوں کو ملعون و مطعون گردانتے ہوئے اور گزشتہ واقعات کی افسوسناک تصویر دکھاتے ہوئے اس بات کا طالب تھا کہ میں آئندہ سے اپنا دل پتھر کا بنا لوں اور محبت کو ہمیشہ کے لیے باہر نکال پھینکوں، لیکن جذباتی وجود ان افسوسناک واقعات کو دوسرے رنگ میں پیش کرتے ہوئے مجھے فخر کرنے پر مجبور کرتا تھا کہ میں نے زندگی کا صحیح راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کی نظر میں ناکامیاں ہی کامیابیاں تھیں۔

وہ چاہتا تھا کہ میں محبت کیے جاؤں کہ یہی کائنات کی روحِ رواں ہے۔ تحت الشعور وجود اس جھگڑے سے میں بالکل تھلگ رہا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پر ایک نہایت ہی عجیب و غریب نیند کا غلبہ طاری ہے۔ یہ جنگ خدا جانے کس نا مبارک روز شروع ہوئی کہ اب میری زندگی کا ایک جزو بن کے رہ گئی ہے۔ دن ہو یا رات جب کبھی مجھے فرصت کے چند لمحات میسر آتے ہیں، میرے سینے کے چٹیل میدان پر میرا ناطق وجود اور جذباتی وجود ہتھیار باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور لڑنا شروع کردیتے ہیں۔ ان لمحات میں جب ان دونوں کے درمیان لڑائی زوروں پر ہو، اگر میرے ساتھ کوئی ہم کلام ہو تو میرا لہجہ یقیناًکچھ اور قسم کا ہوتا ہے۔ میرے حلق میں ایک ناقابل بیان تلخی گھل رہی ہوتی ہے۔ آنکھیں گرم ہوتی ہیں اور جسم کا ایک ایک عضو بے کل ہوتا ہے۔

میں بہت کوشش کیا کرتا ہوں کہ اپنے لہجے کو درشت نہ ہونے دوں، اور بعض اوقات میں اس کوشش میں کامیاب بھی ہو جاتا ہوں۔ لیکن اگر میرے کانوں کو کوئی چیز سُنائی دے یا میں کوئی ایسی چیز محسوس کروں جو میری طبیعت کے یکسر خلاف ہے تو پھر میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میرے سینے کی گہرائیوں سے جوکچھ بھی اٹھے، زبان کے راستے باہر نکل جاتا ہے۔

اور اکثر اوقات جو الفاظ بھی ایسے موقع پر میری زبان پر آتے ہیں، بے حد تلخ ہوتے ہیں۔ ان کی تلخی اور درشتی کا احساس مجھے اس وقت کبھی نہیں ہوا۔ اس لیے کہ میں اپنے اخلاص سے ہمیشہ اور ہر وقت باخبر رہتا ہوں اور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں کبھی کسی کو دکھ نہیں پہنچا سکتا۔ اگر میں نے اپنے ملنے والوں میں سے یا کسی دوست کو ناخوش کیا ہے تو اس کا باعث میں نہیں ہوں بلکہ یہ خاص لمحات ہیں جب میں دیوانے سے کم نہیں ہوتا یا تمہارے الفاظ میں

’’شیطان‘‘

ہوتا ہوں، گو یہ لفظ بہت سخت ہے اور اس کا اطلاق میری دیوانگی پر نہیں ہوسکتا۔ جب تمہارا پچھلے سے پچھلا خط موصول ہوا تھا، اس وقت میرا ناطق وجود جذباتی وجود پر غالب تھا اور میں اپنے دل کے نرم و نازک گوشت کو پتھر میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ میں پہلے ہی سے اپنے سینے کی آگ میں پھنکا جارہا تھا کہ اوپر سے تمہارے خط نے تیل ڈال دیا۔ تم نے بالکل درست کہا ہے

’’تم درد مند دل رکھتے ہو، گو اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔ ‘‘

میں اس کو اچھا کیوں نہیں سمجھتا۔ اس سوال کا جواب ہندوستان کا موجودہ انسانیت کش نظام ہے جس میں لوگوں کی جوانی پر بڑھاپے کی مہر ثبت کردی جاتی ہے۔ میرا دل درد سے بھرا ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ میں علیل ہوں اور علیل رہتا ہوں۔ جب تک درد مندی میرے سینے میں موجود ہے، میں ہمیشہ بے چین رہوں گا۔ تم شاید اسے مبالغہ یقین کرو مگر یہ واقعہ ہے کہ درد مندی میرے لہو کی بوندوں سے اپنی خوراک حاصل کررہی ہے، اور ایک دن ایسا آئے گا جب درد ہی درد رہ جائے گا اور تمہارا دوست دنیا کی نظروں سے غائب ہو جائے گا۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ درد مندی کے اس جذبے نے مجھے کیسے کیسے بھیانک دُکھ پہنچائے ہیں۔

یہ کیا کم ہے کہ میری جوانی کے دن بڑھاپے کی راتوں میں تبدیل ہو گئے ہیں اور جب یہ سوچتا ہوں تو اس بات کا تہیّہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ مجھے اپنا دل پتھر بنا لینا چاہیے۔ لیکن افسوس ہے اس درد مندی نے مجھے اتنا کمزور بنا دیا ہے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا، اور چونکہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا اس لیے میری طبیعت میں عجیب و غریب کیفیتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ شعر میں اب بھی صحیح نہیں پڑھ سکتا، اس لیے کہ شاعری سے مجھے بہت کم دلچسپی رہی ہے۔ لیکن مجھے اس بات کا کامل طور پر احساس ہے کہ میری طبیعت شاعری کی طرف مائل ہے۔ شہر میں بسنے والے لوگوں کی

’’وزنی شاعری‘‘

مجھے پسند نہیں۔ دیہات کے ہلکے پھلکے نغمے مجھے بے حد بھاتے ہیں۔ یہ اس قدر شفاف ہوتے ہیں کہ ان کے پیچھے دل دھڑکتے ہوئے نظر آسکتے ہیں۔ تمہیں حیرت ہے کہ میں

’’رومانی حزنیہ‘‘

کیوں کر لکھنے لگا اور میں اس بات پر خود حیران ہُوں۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو اپنے محسوسات کو دوسروں کی زبان میں بیان کرکے اپنا سینہ خالی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ

’’ذہنی مفلس‘‘

ہیں اور مجھے ان پر ترس آتا ہے۔ یہ ذہنی افلاس مالی افلاس سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ میں مالی مُفلس ہوں مگر خدا کا شکر ہے ذہنی مفلس نہیں ہوں، ورنہ میری مصیبتوں کی کوئی حد نہ ہوتی۔ مجھے یہ کتنا بڑا اطمینان ہے کہ میں جوکچھ محسوس کرتا ہوں، وہی اپنی زبان میں بیان کرلیتا ہوں۔ میں نے اپنے افسانوں کے متعلق کبھی غور نہیں کیا۔ اگر ان میں کوئی چیز بقول تمہارے

’’جلوہ گر‘‘

ہے تو میرا بے کل باطن۔ میرا ایمان نہ تشدد پر ہے اور نہ عدم تشدد پر۔ دونوں پر ہے اور دونوں پر نہیں۔ موجودہ تغیر پسند ماحول میں رہتے ہوئے میرے ایمان میں استقلال نہیں رہا۔ آج میں ایک چیز کو اچھا سمجھتا ہوں لیکن دوسرے روز سورج کی روشنی کے ساتھ ہی اس چیز کی ہئیت بدل جاتی ہے۔ اس کی تمام اچھائیاں برائیاں بن جاتی ہیں۔ انسان کا علم بہت محدود ہے اور میرا علم محدود ہونے کے علاوہ منتشر بھی ہے۔ ایسی صورت میں تمہارے اس سوال کا جواب میں کیوں کر دے سکتا ہوں!

’’مجھ‘‘

پر مضمون لکھ کر کیا کرو گے پیارے! میں اپنے قلم کی مقراض سے اپنا لباس پہلے ہی تار تار کر چکا ہوں۔ خدا کے لیے مجھے اور ننگا کرنے کی کوشش نہ کرو۔ میرے چہرے سے اگر تم نے نقاب اٹھا دی تو تم دنیا کو ایک بہت ہی بھیانک شکل دکھاؤ گے۔ میں ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ہوں جس پر میرا قلم کبھی کبھی پتلی جھلی منڈھتا رہتا ہے۔ اگر تم نے جھلیوں کی یہ تہہ ادھیڑ ڈالی تو میرا خیال ہے جو ہیبت تمہیں منہ کھولے نظر آئے گی۔

اسے دیکھنے کی تاب تم خود میں نہ پاؤ گے۔ میری کشمیر کی زندگی، ہائے میری کشمیر کی زندگی! مجھے معلوم ہے تمہیں میری زندگی کے اس خوشگوار ٹکڑے کے متعلق مختلف قسم کی باتیں معلوم ہوتی رہی ہیں۔ یہ باتیں جن لوگوں کے ذریعے تم تک پہنچتی ہیں، ان کو میں اچھی طرح جانتاہوں۔ اس لیے تمہارا یہ کہنا درست ہے کہ تم ان کو سن کر ابھی تک کوئی صحیح رائے مرتب نہیں کرسکے۔ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ کہنے کے باوجود تم نے ایک رائے مرتب کی اور ایسا کرنے میں بہت عجلت سے کام لیا ہے۔

اگر تم میری تمام تحریروں کو پیش نظر رکھ لیتے تو تمہیں یہ غلط فہمی ہرگز نہ ہوتی کہ میں کشمیر میں ایک سادہ لوح لڑکی سے کھیلتا رہا ہوں۔ میرے دوست تم نے مجھے صدمہ پہنچایا ہے۔ وزیر کون تھی۔ اس کا جواب مختصر یہی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دیہاتی لڑکی تھی۔ جوان اور پوری جوان! اس پہاڑی لڑکی کے متعلق جس نے میری کتاب زندگی کے کچھ اوراق پر چند حسین نقوش بنائے ہیں۔ میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں۔ میں نے وزیر کوتباہ نہیں کیا۔ اگر

’’تباہی‘‘

سے تمہاری مراد

’’جسمانی تباہی‘‘

ہے تو وہ پہلے ہی سے تباہ شدہ تھی، اور وہ اسی تباہی میں اپنی مسرت کی جستجو کرتی تھی۔ جوانی کے نشے میں مخمور اس نے اس غلط خیال کو اپنے دماغ میں جگہ دے رکھی تھی کہ زندگی کا اصل حظ اور لطف اپنا خون کھولانے میں ہے، اور وہ اس غرض کے لیے ہر وقت ایندھن چنتی رہتی تھی۔ یہ تباہ کن خیال اس کے دماغ میں کیسے پیدا ہوا اس کے متعلق بہت کچھ کہا جاتا ہے۔ ہماری صنف میں ایسے افراد کی کمی نہیں جن کا کام صرف بھولی بھالی لڑکیوں سے کھیلنا ہوتا ہے۔ جہاں تک میرا اپنا خیال ہے وزیر اس چیز کا شکار تھی جسے تہذیب و تمدن کا نام دیا جاتا ہے۔

ایک چھوٹا سا پہاڑی گاؤں ہے جو شہروں کے شور و شر سے بہت دور ہمالیہ کی گود میں آباد ہے، اور اب تہذیب و تمدن کی بدولت شہروں سے اس کا تعارف کرادیا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں شہروں کی گندگی اس جگہ منتقل ہونا شروع ہو گئی ہے۔ خالی سلیٹ پر تم جو کچھ بھی لکھو گے، نمایاں طور نظر آئے گا۔ اور صاف پڑھا جائے گا۔ وزیر کا سینہ بالکل خالی تھا۔ دنیوی خیالات سے پاک اور صاف لیکن تہذیب کے کھردرے ہاتھوں نے اس پر نہایت بھدے نقش بنا دیے تھے جو مجھے اس کی غلط روش کا باعث نظر آتے ہیں۔ وزیر کامکان یا جھونپڑا سڑک کے اوپر کی ڈھلان میں واقع تھا اور میں اس کی ماں کے کہنے پر ہر روز اس سے ذرا اوپر چیڑ کے درختوں کی چھاؤں میں زمین پر دری بچھا کر کچھ لکھا پڑھا کرتا تھا اور عام طور پروزیر میرے پاس ہی اپنی بھینس چرایا کرتی تھی۔

چونکہ ہوٹل سے ہر روز دری اُٹھا کر لانا اور پھر اسے واپس لے جانا میرے جیسے آدمی کے لیے ایک عذاب تھا، اس لیے میں اسے ان کے مکان ہی میں چھوڑ جاتا تھا۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ مجھے غسل کرنے میں دیر ہو گئی اور میں ٹہلتا ٹہلتا پہاڑی کے دشوار گزار راستوں کو طے کرکے جب ان کے گھر پہنچا اور دری طلب کی تو اس کی بڑی بہن کی زبانی معلوم ہوا کہ وزیر دری لے کر اوپر چلی گئی ہے۔ یہ سُن کر میں اور اوپر چڑھا اور جب اس بڑے پتھر کے قریب آیا جسے میں میز کے طور پر استعمال کرتا تھا تو میری نگاہیں وزیر پر پڑیں۔

دری اپنی جگہ بچھی ہوئی تھی اور وہ اپنا سبز کلف لگا دوپٹہ تانے سو رہی تھی۔ میں دیر تک پتھر پر بیٹھا رہا۔ مجھے معلوم تھا وہ سونے کا بہانہ کرکے لیٹی ہے شاید اس کا خیال تھا کہ میں اسے جگانے کی کوشش کروں گا اور وہ گہری نیند کا بہانہ کرکے جاگنے میں دیر کرے گی۔ لیکن میں خاموش بیٹھا رہا بلکہ اپنے چرمی تھیلے سے ایک کتاب نکال کر اس کی طرف پیٹھ کرکے پڑھنے میں مشغول ہو گیا۔ جب نصف گھنٹہ اسی طرح گزر گیا تو وہ مجبور ہو کر بیدار ہُوئی۔ انگڑائی لے کر اس نے عجیب سی آواز منہ سے نکالی۔ میں نے کتاب بند کردی اور مڑ کر اس سے کہا:

’’میرے آنے سے تمہاری نیند تو خراب نہیں ہو ئی؟‘‘

وزیر نے آنکھیں مل کر لہجے کو خواب آلود بناتے ہوئے کہا:

’’آپ کب آئے تھے؟‘‘

’’ابھی ابھی آکے بیٹھا ہوں۔ سونا ہے تو سو جاؤ۔ ‘‘

’’نہیں۔ آج نگوڑی نیند کو جانے کیا ہو گیا۔ کمر سیدھی کرنے کے لیے یہاں ذری کی ذری لیٹی تھی کہ بس سو گئی۔ دو گھنٹے سے کیا کم سوئی ہوں گی۔ ‘‘

اس کے گیلے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے جو کچھ باہر جھانک رہا تھا، اس کو میرا قلم بیان کرنے سے عاجز ہے۔ میرا خیال ہے اس وقت اس کے دل میں یہ احساس کروٹیں لے رہا تھا کہ اس کے سامنے ایک مرد بیٹھا ہے اور وہ عورت ہے۔ جوان عورت۔ شباب کی امنگوں کا ابلتا ہوا چشمہ! تھوڑی دیر کے بعد وہ غیر معمولی باتونی بن گئی اور بہک سی گئی۔ مگر میں نے اس کی بھینس اور بچھڑے کا ذکر چھیڑنے کے بعد ایک دلچسپ کہانی سنائی جس میں ایک بچھڑے سے اس کی ماں کی الفت کا ذکر تھا۔ اس سے اس کی آنکھوں میں وہ شرارے سرد ہو گئے جو کچھ پہلے لپک رہے تھے۔ میں زاہد نہیں ہوں، اور نہ میں نے کبھی اس کا دعویٰ کیا ہے۔ گناہ و ثواب اور سزا و جزا کے متعلق میرے خیالات دوسروں سے جدا ہیں اور یقیناًتمہارے خیالات سے بھی بہت مختلف ہیں۔ میں اس وقت ان بحثوں میں نہیں پڑنا چاہتا اس لیے کہ اس کے لیے سکون قلب اور وقت درکار ہے۔ برسیبل تذکرہ ایک واقعہ بیان کرتا ہوں جس سے تم میرے خیالات کے متعلق کچھ اندازہ لگا سکو گے۔ باتوں باتوں میں ایک مرتبہ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ حُسن اگر پورے شباب اور جوبن پر ہو تو وہ دلکشی کھو دیتا ہے۔ مجھے اب بھی اس خیال پر ایمان ہے۔ مگر میرے دوست نے اسے مہمل منطق قراردیا۔ ممکن ہے تمہاری نگاہ میں بھی یہ مہمل ہو۔ مگر میں تم سے اپنے دل کی بات کہتا ہوں۔ اس حُسن نے میرے دل کو اپنی طرف راغب نہیں کیا جو پورے شباب پر ہو۔ اس کو دیکھ کر میری آنکھیں ضرور چندھیا جائیں گی۔ مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ اس حسن نے اپنی تمام کیفیتیں میرے دل و دماغ پر طاری کردی ہیں۔ شوخ اور بھڑکیلے رنگ اس بلندی تک کبھی نہیں جا سکتے جو نرم و نازک الوان و خطوط کو حاصل ہے۔ وہ حسن یقیناًقابل احترام ہے جو آہستہ آہستہ نگاہوں میں جذب ہو کر دل میں اُتر جائے۔ روشنی کا خیرہ کن شعلہ دل کے بجائے اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن اس فضول بحث میں پڑنے سے کیا فائدہ۔ میں کہہ رہا تھا کہ میں زاہد نہیں ہوں، یہ کہتے وقت میں دبی زبان میں بہت سی چیزوں کا اعتراف بھی کررہا ہوں لیکن اس پہاڑی لڑکی سے جو جسمانی لذتوں کی دلدادہ تھی، میرے تعلقات صرف ذہنی اور روحانی تھے۔ میں نے شاید تمہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اس بات کا قائل ہُوں کہ اگر عورت سے دوستی کی جائے تو اس کے اندر نُدرت ہونی چاہیے۔

اس سے اس طرح ملنا چاہیے کہ وہ تمہیں دوسروں سے بالکل علیحدہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے اسے تمہارے دل کی ہر دھڑکن میں ایسی صدا سُنائی دے جو اس کے کانوں کے لیے نئی ہو۔ عورت اور مرد۔ اور ان کا باہمی رشتہ ہر بالغ آدمی کو معلوم ہے۔ لیکن معاف کرنا یہ رشتہ میری نظروں میں فرسودہ ہو چکا ہے۔ اس میں یکسر حیوانیت ہے۔ میں پوچھتا ہوں اگر مرد کو اپنی محبت کا مرکز کسی عورت ہی کو بنانا ہے تو وہ انسانیت کے اس مقدس جذبے میں حیوانیت کو کیوں داخل کرے۔ کیا اس کے بغیر محبت کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ کیا جسم کی مشقت کا نام محبت ہے؟ وزیراس غلط فہمی میں مبتلا تھی کہ جسمانی لذتوں کا نام محبت ہے اور میرا خیال ہے جس مرد سے بھی وہ ملتی تھی، وہ محبت کی تعریف انہی الفاظ میں بیان کرتی تھی۔

میں اس سے ملا اور اس کے تمام خیالات کی ضد بن کر میں نے اس سے دوستی پیدا کی۔ اس نے اپنے شوخ رنگ خوابوں کی تعبیر میرے وجود میں تلاش کرنے کی کوشش کی مگر اسے مایوسی ہوئی۔ لیکن چونکہ وہ غلط کار ہونے کے ساتھ ساتھ معصوم تھی، میری سیدھی سادھی باتوں نے اس مایوسی کو حیرت میں تبدیل کردیا۔ اور آہستہ آہستہ اس کی یہ حیرت اس خواہش کی شکل اختیار کرگئی کہ وہ اس نئی رسم و راہ کی گہرائیوں سے واقفیت حاصل کرے۔ یہ خواہش یقیناً ایک مقدس معصومیت میں تبدیل ہو جاتی اور وہ اپنی نسوانیت کا وقارِ رفتہ پھر سے حاصل کرلیتی جسے وہ غلط راستے پر چل کر کھو بیٹھی تھی، لیکن افسوس ہے مجھے اس پہاڑی گاؤں سے دفعتہً پُرنم آنکھوں کے ساتھ اپنے شہر واپس آنا پڑا۔ مجھے وہ اکثر یاد آتی ہے۔

کیوں۔ اس لیے کہ رخصت ہوتے وقت اس کی سدا متبسم آنکھوں میں دو چھلکتے آنسو بتا رہے تھے کہ وہ میرے جذبے سے کافی متاثر ہوچکی ہے اور حقیقی محبت کی ایک ننھی سی شعاع اس کے سینے کی تاریکی میں داخل ہو چکی ہے۔ کاش! میں وزیر کو محبت کی تمام عظمتوں سے روشناس کراسکتا اور کیا پتہ ہے کہ یہ پہاڑی لڑکی مجھے وہ چیز عطا کردیتی جس کی تلاش میں میری جوانی بڑھاپے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ یہ ہے میری داستان جس میں بقول تمہارے لوگ اپنی دلچسپی کا سامان تلاش کرتے ہیں۔ تم نہیں سمجھتے، اور نہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں یہ د استانیں کیوں لکھتا ہوں۔ پھر کبھی سمجھاؤں گا۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں