امریکہ، آئی ایم ایف اور سی پیک

امریکہ، آئی ایم ایف اور سی پیک

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ چین کے قرضوں کی تفصیلات آئی ایم ایف کو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آئی ایم ایف جانے کی بڑی وجہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔پاکستان کا کرنٹ اکانٹ خسارہ 180ارب ڈالرزہے، جس میں ہر ماہ 2ارب ڈالرز کا اضافہ ہورہا ہے۔کبھی نہیں کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، ایسا لگ رہا ہے جیسے آئی ایم ایف کے پاس جا کر کوئی انوکھا کام کر دیا ہے۔پاکستان 18بار اس سے قبل آئی ایم ایف کے پاس قرضے لینے کیلئے جا چکا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط ماننے والی نہ ہوئیں تو نظرثانی کر سکتے ہیں۔

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ قرضوں کی واپسی کو چین کے ساتھ جوڑنے کا امریکی الزام درست نہیں ، قرض شفاف طریقے سے لیا گیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان اٹھارہ بار آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے، سات بار فوجی اور گیارہ بار سویلین حکومتیں آئی ایم ایف سے قرضے لینے گئیں، کبھی نہیں کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو ارب ڈالر بڑھ رہا ہے، بیل آؤٹ پیکج معیشت کیلئے ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوارٹ نے گزشتہ روز کہا تھاکہ چینی قرضوں کے بوجھ کے سبب پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔ پاکستان کی پوزیشن کو ہر زاویئے سے دیکھا جائے گا۔ واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان کا کہنا تھا ممکن ہے نئی حکومت کا خیال ہو کہ بیل آؤٹ کے لیے یہ قرض اتنا بوجھل نہیں ہو گا مگر اب سخت تر ہوتا جارہا ہے۔ ہیدر نوارٹ نے کہا معاملے کا پاکستان کے موقف سمیت تمام پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں، یہ بات واضح نہیں کہ اگرآئی ایم ایف قرض دے گا تو کن شرائط پر دے گا اورآیا انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گایا نہیں۔ ہیدر نوئرٹ نے کہا کہ پاکستان قرضوں میں جکڑاہوا ہے۔ یہ قرضہ جات پاکستان کیلئے مشکل تر ہو گئے ہیں۔

سیاست اور سفارت کے میدانوں میں کوئی بات بلیک اینڈ وائٹ میں نہیں ہوسکتی۔یہ گرے ایریاز سمجھے جاتے ہیں۔ یہاں ذاتی تعلقات کی طرح کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ مستقل دشمن ۔ تاہم پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کا مہار ان کی نزاکتوں سے نابلد لوگوں کے ہاتھ میں رہتا ہے یا پھر عملًا وہ لوگ ڈرائیونگ سیٹ پر رہتے ہیں جو ہر معاملے کو بلیک اینڈ وائٹ انداز میں دیکھتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ہم کبھی ایک انتہا پر نظر آتے ہیں تو کبھی دوسری پر ، کہیں ایک الجھن کے شکاررہتے ہیں اور کہیں دوسری کے ۔گزشتہ عشرے میں امریکہ اور چین کی مخاصمت شروع ہوئی اور امریکہ نے اس کے تناظر میں ہندوستان کو خطے میں اپنا اسٹرٹیجک پارٹنر بنانا شروع کیا تو ہمارے پالیسی ساز ناراض ہوگئے ۔ یوں ایک طرف چینی اور روسی کیمپ میں جانے کا فیصلہ ہوا تو دوسری طرف افغانستان میں امریکہ کے ساتھ اندھے تعاون کی پالیسی پر نظرثانی کی گئی ۔ ہم سوچے سمجھے بغیر ایک انتہا سے دوسری انتہا پر چلے جاتے ہیں، اسی طرح ہم نے چین کے ساتھ تعلقات اور معاہدوں کو بھی ایک تقدس فراہم کیا اور اس حوالے سے تنقیدی جائزے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ۔

دوسری طرف سی پیک اور چین کے ساتھ اپنے اسٹرٹیجک تعلقات کا ڈھنڈورا اس قدر پیٹاکہ امریکہ اور ہندوستان جیسے حریف ضرورت سے بھی زیادہ شاکی اور متحرک ہوگئے ۔اس دورا ن بدقسمتی یہ ہوئی کہ پاکستان اقتصادی بحران کا شکار ہوگیا جس سے نمٹنے کے لئے آئی ایم ایف سے رجوع کرنا مجبوری بن گئی ۔ اس دوران حکومت تبدیل ہوئی اور جب امریکہ نے دیکھا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس جانا مجبوری ہے تو اس کے سیکرٹری خارجہ پومپیو نے واضح کردیا کہ مغرب کے زیراثر عالمی ادارے پاکستان کو سی پیک کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے قرض نہیں دیں گے ۔ اس کا واضح پیغام یہ تھا کہ قرض لینا ہے تو چین کے ساتھ معاملات کھول دو اور ان پر نظرثانی کرلو ۔

چنانچہ تحریک انصاف کی نئی اور ناتجربہ کار حکومت نے سی پیک معاہدوں پر نظرثانی کا اعلان کیا جبکہ اس کے مشیر عبدالرزاق داؤو نے ایک سال تک کام رکوانے کا بیان داغ دیا۔ ان ابتدائی اقدامات سے چینی مزید تشویش میں مبتلا ہوگئے۔ پاکستان کی عسکری قیادت نے کسی حد تک چینی قیادت کے خدشات رفع کئے لیکن اب پاکستان کی مجبوری یہ تھی کہ آئی ایم ایف سے بچنے کے لئے سعودی عرب سے رجوع کیا جائے۔ حکومت نے سعودی عرب کی اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کی بات کی تو چین اور ایران وغیرہ تشویش میں مبتلا ہوگئے۔

چنانچہ پاکستان کو اسٹرٹیجک پارٹنرشپ کے اعلان سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ یوں سعودی عرب کی طرف سے کسی بڑے اقتصادی ریلیف کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ چنانچہ واحد آپشن آئی ایم ایف ہی کا رہ گیا۔ اب ظاہر ہے کہ امریکہ ایم ایف کے ذریعے سخت سے سخت شرائط منوائے گا جن میں سے ایک سی پیک کے معاہدوں کو ری اوپن کرنے اور ان پر نظرثانی کرنے کا بھی ہوسکتا ہے۔یوں ملک کو ایسے دوراہے پر کھڑا کردیا گیا کہ اگر چین کے خدشات دور کرتے ہیں تو امریکہ اور آئی ایم ایف ناراض ہوتے ہیں اور اگر قرضے کے لئے ان کی سخت شرائط تسلیم کی جاتی ہیں تو عوام کے ساتھ ساتھ چین کی ناراضی کا بھی خطرہ ہے۔دوسری طرف امریکہ کا مطالبہ صرف چین کے حوالے سے نہیں بلکہ اس وقت وہ افغانستان میں پاکستان سے حسب منشا کردار چاہتا ہے۔

پاکستان اگر وہاں حسب منشا کردار ادا نہیں کرتا تو امریکہ سفارتی اور اقتصادی محاذوں پر دباؤ بڑھائے گا۔ پھر جب چین اور سعودی عرب سے بھی ریلیف نہیں مل سکتا تو پھر ہمیں یا تو اس دباؤ کے آگے جھک کر افغانستان میں امریکہ کے حسب منشا کردار ادا کرنا ہوگا یا پھر اگر وہاں اپنے مطالبات پر اصرار جاری رکھتے ہیں تو معاشی اور سفارتی محاذوں پر نتائج بھگتنا ہوں گے۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں