ضمنی انتخابات: مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف قومی اسمبلی کی 4،4 نشستوں پر کامیاب

ضمنی انتخابات

ملک میں قومی اسمبلی کی 11 اور صوبائی اسمبلی کی 24 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج آگئے ہیں، جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ(ن) قومی اسمبلی کی 4، 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کے تحت موصول ہونے والے نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو 4، مسلم لیگ (ن) کو 4،مسلم لیگ(ق) کو 2 اور متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کو ایک نشست ملی ہے۔

صوبائی اسمبلیوں کی بات کی جائے تو پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) 6، پی ٹی آئی 5 اور 2 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف نے 9 میں سے 6 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی نے 2 اور مسلم لیگ (ن) نے ایک نشست حاصل کی۔

سندھ اسمبلی کی نشستوں پر ہونے والا ضمنی انتخاب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نام رہا اور دونوں نشتوں پر انہیں کامیابی ملی۔

بلوچستان اسمبلی کی نشستوں کے ضمنی انتخاب کے نتائج کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کو ایک اور آزاد امیدوار کو ایک نشست حاصل ہوئی۔

قومی اسمبلی کے حلقوں کے غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق این اے 35 بنوں سے ایم ایم اے کے زاہد اکرم درانی 54 ہزار 2سو 11 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے نسیم علی شال 33 ہزار 8سو11 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 53 اسلام آباد سے تحریک انصاف کے علی نواز اعوان 50 ہزار 9سو43 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ مسلم لیگ(ن) کے وقار احمد 32 ہزار 3سو13 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 56 اٹک میں مسلم لیگ (ن) کے سہیل خان ایک لاکھ 17 ہزار 9 سو 10 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ پی ٹی آئی کے ملک خرم خان 81 ہزار 8 سو 75 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔

راولپنڈی کے این اے 60 پر تحریک انصاف کے شیخ راشد 44 ہزار 4 سو 83 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے جبکہ ن لیگ کے ساجد خان 43 ہزار 8 سو 36 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ 

این اے 63 راولپنڈی سے تحریک انصاف کے منصور حیات خان 71 ہزار 7سو82 ووٹ کے ساتھ جیت گئے جبکہ ان کے مد مقابل ن لیگ کے عقیل ملک 45 ہزار 4سو90 ووٹ لے کر ہار گئے۔

این اے 65 چکوال میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک حسین ایک لاکھ 9 سو 17 ووٹ لے کر آگے رہے جبکہ تحریک لبیک کے محمد یعقوب 32 ہزار 3 سو 26 ووٹ لے کر دوسرے نمبر آئے۔

این اے 69 گجرات میں مسلم لیگ (ق) کے مونس الہیٰ 65 ہزار 7 سو 59 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ن لیگ کے عمران ظفر 14 ہزار 9 سو 56 ووٹ لے کر دوسرے نمبر آئے۔

این اے 103 فیصل آباد سے مسلم لیگ(ن) کے علی گوہر خان 68 ہزار 159 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے محمد سعد اللہ 59 ہزار 111 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے۔

لاہور کے حلقے 124 میں مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی 78 ہزار 6 سو 91 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے غلام محی الدین 32 ہزار 3 سو 92 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 131 لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے سعد رفیق 60 ہزار 3 سو 52 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے ہمایوں اختر 50 ہزار ایک سو 55 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پررہے۔

این اے 243 کراچی سے تحریک انصاف کے عالمگیر خان نے 31 ہزار 8سو94 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے عامر چشتی 13 ہزار 383 ووٹ لے سکے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی ہدایات کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کی 35 نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا تھا جس کے لیے سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے جبکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی ووٹنگ کے عمل میں آئی ووٹنگ کے ذریعے حصہ لیا تھا۔

ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایات کے اندراج کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا تھا اور چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے کنٹرول روم کا دورہ بھی کیا جہاں ترجمان الیکشن کمیشن ندیم قاسم نے انہیں انتخابی شکایات سے متعلق بریفنگ بھی دی تھی۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں قومی اور پنجاب اسمبلی کے 11، 11 حلقوں کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 9، سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے 2، 2 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی اور 600 سے زائد امیدوار مدمقابل آئے۔

ای سی پی نے سعد رفیق کا نتائج سے قبل جیت کے اعلان کا نوٹس لے لیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خواجہ سعد رفیق کے حتمی نتائج آنے سے قبل فتح کے اعلان کا نوٹس لے لیا۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے اپنے حلقے این اے 131 کے حتمی نتائج آنے سے قبل ہی اپنی جیت کا اعلان کردیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ’خواجہ سعد رفیق کے ریمارکس کا نوٹس لے لیا گیا ہے‘۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی امیدوار کو حق حاصل نہیں کہ الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کرے، الیکشن کمیشن اپنے آئینی فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہے‘۔

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقے

قومی اسمبلی کے جن حلقوں پر ضمنی انتخابات ہوئے، ان میں این اے 35 بنوں، این اے 53 اسلام آباد، این اے 56 اٹک، این اے 60 راولپنڈی، این اے 63 راولپنڈی، این اے 65 چکوال، این اے 69 گجرات، این اے 103 فیصل آباد، این اے 124 لاہور، این اے 131 لاہور، این اے 243 کراچی شامل تھے۔

صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی بات کی جائے تو پنجاب میں پی پی 164 لاہور، پی پی 165 لاہور، پی پی 103 فیصل آباد، پی پی 118 ٹوبہ ٹیک سنگھ، پی پی 3 اٹک، پی پی 27 جہلم، پی پی 201 ساہیوال، پی پی 222 ملتان، پی پی 272 مظفرگڑھ، پی پی 264 رحیم یار خان، پی پی 292 ڈی جی خان پر ضمنی انتخابات ہوئے۔

سندھ میں پی ایس 30 خیر پور جبکہ پی ایس 87 کی نشستیں شامل ہیں، اس طرح بلوچستان کی بھی 2 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پی بی 35 مستونگ اور پی بی40 خضدار پر بھی ضمنی انتخابات ہوئے۔

خیبرپختونخوا میں پی کے 3 سوات، پی کے 7 سوات، پی کے 44 صوابی، پی کے 53 مردان، پی کے 61 نوشہرہ، پی کے 64 نوشہرہ، پی کے 78 پشاور، پی کے 97 ڈی آئی خان اور پی کے 99 ڈی آئی خان پر ضمنی انتخابات کا انعقاد ہوا۔

قومی و صوبائی اسمبلی کے 35 حلقوں میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 7 ہزار 4 سو 89 تھی جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 92 لاکھ 83 ہزار سے زائد تھی۔

قومی اسمبلی کی 11 میں سے 4 نشستیں وزیراعظم عمران خان نے چھوڑی تھیں، جنہوں نے مجموعی طور پر قومی اسمبلی کے 5 حلقوں سے انتخاب لڑا اور کامیاب ہونے کے بعد این اے-35 بنوں، این اے-53 اسلام آباد، این اے-131 لاہور اور این اے-243 کراچی کی نشست خالی کردی جبکہ میانوالی کی نشست محفوظ رکھی۔

قبل ازیں ضمنی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دی اور انتخابی سامان کی ترسیل متعلقہ حلقوں میں کردی گئی۔

پولنگ اسٹیشن پر پاک فوج کے جوان بھی سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں جو پیر تک تعینات رہیں گے، انتخابی عمل دوران فوجی جوان پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر خدمات سرانجام دیں گے تاہم انہیں ووٹنگ کی گنتی کے عمل سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے 35 حلقوں کے ایک ہزار 727 پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے تھے، سب سے زیادہ 195 حساس پولنگ اسٹیشنز این اے 35 بنوں کے تھے جبکہ این اے 56 اٹک کے 186 پولنگ اسٹیشنز کو بھی حساس قرار دیا گیا تھا۔

اسی طرح گجرات میں قومی اسمبلی کے این اے 69 میں 96 اور کراچی کے این اے 243 میں 92 پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا تھا۔

انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان ندیم قاسم کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے واضح کیا تھا کہ پولنگ اسٹیشن کے اطراف میں ایک خاص حدود میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور ووٹرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ہمراہ اصلی شناختی کارڈ لے کر آئیں جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ندیم قاسم نے کہا کہ آئی ووٹنگ سسٹم کے تحت اب تک بیرون ملک مقیم 7 ہزار 3 سو 16 ووٹرز کی رجسٹریشن ہوئی ہے اور اوورسیز ووٹرز کو 14 اکتوبر کو صبح 8 سے شام 5 بجے تک ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی۔

Spread the love
  • 3
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں