نیب کو خواجہ سعد اور سلمان رفیق کی ممکنہ گرفتاری سے روک دیا گیا

سعد رفیق

ہائیکورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانت قبل از وقت گرفتاری منظور کرتے ہوئے نیب کو انہیں 24 اکتوبر تک ممکنہ گرفتاری سے روک دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلے میں دونوں بھائی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ نیب انہیں ہراساں کررہی ہے اور گرفتار کرناچاہتی ہے، ان پر جو الزامات ہیں اس سے متعلق نیب میں تمام ریکارڈ فراہم کردیا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل امجد پرویز نے کہاکہ نیب نے ایک وطیرہ بنالیا ہے، سیاستدانوں کو انکوائری کے بہانے بلاکر انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے لہٰذا درخواست گزاروں پر کوئی ایسا الزام نہیں جس سے گرفتاری کا جواز پیدا ہو

loading...

امجد پرویز نے مزید مؤقف اپنایا کہ نیب سے مکمل تعاون کررہے ہیں، نیب نے 16 اکتوبر کو طلب کیا ہے اور خدشہ ہےکہ مؤقف سنے بغیر گرفتار کرلیا جائے گا۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ انہیں صفائی کا موقع دینے کے بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے اور عدالت قبل از وقت گرفتاری ضمانت منظور کرے۔

عدالت نے درخواست گزاروں کا مؤقف سننے کے بعد ان کی ضمانت قبل از وقت گرفتاری منظور کرتے ہوئے نیب کو 24 اکتوبر تک ممکنہ گرفتاری سے روک دیا۔

عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے خلاف مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔

واضح رہےکہ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کے خلاف نیب میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کی تحقیقات جاری ہیں اور اس میں ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیےانہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Spread the love
  • 11
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں