طاہر داوڑ کے قاتل جہاں بھی ہوں انجام تک پہنچائیں گے، شہریار آفریدی

شہریار آفریدی

اسلام آباد : وزیرمملکت داخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے طاہر داوڑ کے قاتل جہاں بھی ہوں انجام تک پہنچائیں گے، پاکستان مخالف قوتیں حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہیں، ملک دشمن قوتیں پھرمتحرک ہیں ہمیں مل کرکام کرنا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت برائےداخلہ شہریارآفریدی نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ایس پی طاہرداوڑ کا قتل انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے، پولیس کو ایک اعلیٰ مقام پر پہنچایا تھا لیکن آج اس پر سوالیہ نشان لگا ہے، ایس پی طاہر داوڑ شہید پر ماضی میں2 خود کش حملے ہوئے اور  وہ محفوظ رہے، ان بھائی اور بھابھی کو بھی شہید کیا جاچکا ہے۔

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہراسلام آبادمیں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کیلئےپہنچےتھے ، ان کو 28اکتوبرکواسلام آباد سے اغوا کیا گیا، 28 اکتوبرسے  13 نومبرتک ایس پی طاہر کو ٹریس کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد 13 نومبرکو ایس پی طاہر کی فوٹیج منظرعام پرآئیں۔

وزیر مملکت برائےداخلہ نے کہا وزیراعظم نے واقعے کا نوٹس لیے اور فوری تحقیقات کا حکم دیا، افغان حکومت سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں، پاکستان مخالف قوتیں حالات خراب کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کےنام پراربوں روپےلگائےحقیقت بتانا چاہتا ہوں، سیف سٹی پروجیکٹ میں لگےکیمرے نمبر پلیٹ تک ٹریس نہیں کرسکتے۔

loading...

ایس پی طاہر کو اسلام آباد سے اغوا کرنے کے بعد پنجاب کےراستے فاٹالےجایا گیا، فاٹا کے راستےایس پی طاہرداوکو افغانستان منتقل کیا گیا۔

شہریار آفریدی نے کہا افغان سرحد پران کی جانب سےپیٹرولنگ نہ ہونےسے اغواکاروں کو فائدہ ہوا، افغان حکومت کو کئی بارکہا پٹرولنگ کریں لیکن وہاں سےرسپانس نہیں ملا، ماضی میں بھی ہماری دھرتی کے کئی بیٹوں کواغواکرکےافغانستان میں قتل کیا گیا۔

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے سے متعلق بات کی توماضی میں بڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اداروں کو ٹھیک کرنے جا رہے ہیں، ایف آئی اےآپ کی منسٹری ہے اسے آپ ٹھیک کریں، میں تواپنا کردار ادا کروں گا لیکن کل کوئی پھر یہ نہ کہےکہ ہمیں ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ایوان میں اس لیے بات کی کہ ایس پی طاہر قوم کا بیٹا تھا، مشترکہ بیان جانا چاہیے، طاہرخان داوڑ کے قاتل جہاں بھی ہوں ان کو نشان عبرت بنائیں گے، کچھ لوگ ملک میں پاکستان کو غیر مستحکم کررہے ہیں ملک دشمن قوتیں پھرمتحرک ہیں ہمیں مل کرکام کرناچاہیے۔

یاد رہے اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ایس پی طاہرداوڑ کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ شہریارآفریدی کو تحقیقات کی نگرانی کا حکم دیا اور خیبرپختونخوا کی پولیس کو تحقیقات میں اسلام آباد پولیس سے تعاون کرنے کی ہدایت کی۔

Comments
0 comments

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں