موچی گیٹ کی تاریخی اہمیت

موچی گیٹ کی تاریخی اہمیت

لاہور کے بارہ دروازوں میں موچی دروازہ کو انفرادی مقام حاصل ہے ۔ موچی دروازہ کی جلسہ گاہ  شہر کی تاریخی جلسہ گاہ ہے ۔ اس جگہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں برصغیر کی نامور شخصیات نے مختلف اوقات میں منعقد ہونے والے جلسوں سے خطاب کیا۔ ان نامور شخصیات میں قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ اقبال ؒ ،لیاقت علی خان ، جواہر لعل نہرو شیخ مجیب الرحمن ،خان عبدلغفار خان ، ذولفقارعلی بھٹو اور دیگر نامور سیاستدان شامل ہیں۔ موچی دروازے کا یہ نام کیوں رکھا گیا ؟اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں پر جوتے مرمت کرنے ، جوتے بنانے والے لوگوں کی بہت زیادہ د کا نیں تھیں اور چونکہ جوتے مرمت کرنے والوں کو موچی کہا جاتا ہے ۔اس لئے اس دروازے کا نام موچی دروازہ پڑ گیا

اس بات کی تقویت اس لئے ملتی ہے کہ آج بھی موچی دروازے کے سامنے والے بازار میں (چمیبرلین روڈ)جوتا بنانے ،مرمت کرنے کے اوزار اور جوتا سازی میں استعمال ہونے والے سامان کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ اس نام کی دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مغلیہ دور عہد میں بننے والے ان دروازوں کی دیکھ بھال کے لئے باقاعدہ عملہ متعین کیا جاتا تھا۔

جس پر ایک نگران آفیسر ہوتا تھا ۔ اس دروازے کی دیکھ بھال کے لئے جس آفیسر کی ڈیوٹی لگائی تھی ۔ اس کا نام موتی رام تھا جس کی ناپسندیدہ عادات و حرکات کی وجہ سے لوگ اسے اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے۔نفرت کے اظہار کے لئے اسے موتی رام کے بجائے موچی رام کہا جاتا تھا۔ اسی نام کی مناسبت سے اس دروازے کا نام بھی موچی دروازہ پڑ گیا ۔ موچی دروازہ میں آج کل دروازہ نا م کی کوئی چیز نہیں ۔ ایک چھوٹا سا بازار اندرون شہرکو جاتا ہے ۔

موچی دروازہ

اس بازار کے سرے پر خشک میوہ جات کی بہت سی دکانیں ہیں ۔ جہا ں سردیوں کے موسم میں خریداروں کا کافی رش ہوتا ہے۔ بادام اخروٹ ،مونگ پھلی ، کاجو، پستہ، ریوڑیاں ، خشک انجیر ، چلغوزے اور بھنے چنے خریدنے کے لیے لوگ یہاں پر دور دور سے آتے ہیں ۔

موچی دروازہ کے عقب میں وہ مشہور باغ ہے جو نہ صر ف لاہور بلکہ پاکستان میں اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی ایک ماہ بعد میں بھی یہ باغ اکبری جلسہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے ۔ ملک کی سیاست میں اس باغ کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ان دنوں یہ کہا جاتا تھا کہ جس سیاست دان نے موچی دروازہ کے باغ میں تقریر نہیں کی وہ سیاستدان ہی نہیں ہے کوئی بھی تحریک ہو یا ملک کے الیکشن ہر پارٹی کا سب سے بڑا جلسہ اسی جگہ ہوا جس میں ہر پارٹی کے نامور اور بڑ ے بڑے لیڈر پر جوش تقریر یں کرتے تھے ۔ان جلسوں میں شامل ہونے والے لوگوں کی تعداد دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا تھا کہ کون سی جماعت الیکشن جیتے گی ۔

loading...

موچی دروازہ کے اس باغ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بعد میں اسے مستقل جلسہ گاہ کی شکل دیدی گئی۔ مگر افسوس کہ یہ جگہ ناجائز قابضین کی دسترس سے دورنہ رہ سکی ۔ آج کل یہاں ٹرانسپورٹر حضرات نے قبضہ کر رکھا ہے یہاں پر منی ٹرک ،لوڈ ر گاڑیاں اور ویگنیں کھڑی کرکے ٹرکوں کا اڈا بنا دیا گیا ہے

موچی دروازہ کے  بائیں طر ف کونے پر ایک مسجد نظر آتی ہے ۔ جس کا نام مسجد محمد صالح کمبوہ ہے۔ محمد صالح کمبوہ سلفی مغلیہ دور میں شہنشاہ ہند اورنگ زیب عالمگیر کے استاد تھے ۔ مسجد کے پہلو میں بائیں جانب والا بازار چوک رنگ محل کی طر ف جا نکلتا ہے۔ جبکہ دائیں جانب والا چوک نواب صاحب کو جاتاہے ۔آتش بازی پر پابندی لگنے سے پہلے اس سارے بازار میں آتش بازی کا سامان فروخت ہوتا تھا۔خاص کر شب برات اور شب معراج کے موقع میں ہروقت خرید اروں کا ہجوم لگا رہتا تھا۔

اسی بازار میں گڈی ڈور اور پتنگوں کی فروخت ہوتی تھی ۔ گڈی ڈور کی دکانیں تو چوک نواب صاحب سے بھی آگے خرادی محلہ تا جا پہنچی تھیں ۔ پاکستان میں پتنگوں کی یہ سب سے بڑی مارکیٹ تھی،بسنت پر پابندی لگنے کے بعد یہ کاروبار ختم ہوکر رہ گیا ۔ موچی گیٹ سے چوک نواب صاحب کی طرف چلیں تو راستہ میں لال کنواں آتا ہے ۔ جہاں کی مٹھائی بڑی مشہور ہے 1970ء کی دہائی میں لال کنواں سے تھوڑاآگے دائیں ہاتھ بڑے بڑے تھالوں میں گاجر کا حلوہ ایک چھوٹی سی دکان میں سجا ہوتاتھا ۔ یہ چاچا فضل کی مٹھائی کی دکان تھی۔ چاچافضل کے بائیں ہاتھ سیڑھی نما اسٹینڈ پر چھوٹے تھالوں میں باداموں والی برفی میسو، گلاب جامن اور نشاستے کی پنیاں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں ۔عام سموسوں کے علاوہ یہ کھوئے والے پیٹھے سموسے بھی بناتا تھا جسے لوگ رغبت سے کھاتے تھے۔ یہ وہی چاچا فضل ہے جس کی آج سارے لاہور میں فضل سویٹس کے نام کی دکانیں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہیں۔چاچا فضل کا ایک شاگرد رفیق تھا۔ جس نے بعد میں لال کھوہ کے بلکل سامنے رفیق سویٹس کے نام سے مٹھائی کی دکان کھولی ، باداموں والی برفی اسکی خاص آئٹم تھی۔فضل سویٹس کے بلکل سامنے سائیں کبابوں والے کی دکان ہے جس کے کباب بڑے مزے کے ہوتے تھے ۔

موچی دروازے جانے والے یہ کباب ضرور کھاتے تھے ۔ اس کی دکان چھوٹی سی تھی ۔ بمشکل چار پانچ آدمی اندر بیٹھ پاتے تھے جبکہ باہر بازار میں گاہکوں ہجوم لگا رہتا تھا۔اب تو اس نے بھی دکان بڑی کرلی ہے ۔ اس سے آگے چوک نوا ب صاحب آتا ہے جوکہ لاہور میں اہل تشیع کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اردگر د کی آبادی زیادہ تر انہی لوگوں پرمشتمل ہے۔ جنہوں نے اپنے چھوٹے بڑے گھروں میں امام بارگاہیں بنائی ہوئی ہیں ۔ ماہ محرم میں یہاں بڑی گہماگہمی ہوتی ہے

خاص کر پہلے عشرے میں نواسہ رسول حضرت امام حسینؓکی شہاد ت کی یاد تازہ کرنے کیلئے تعزیہ علم اور ذوالجناح کے جلوس نکالے جاتے ہیں ۔چوک نواب صاحب سے دوراستے نکلتے ہیں

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں