پنجاب کے پٹوار خانے یا جنگل، واش روم قارون کا خزانہ۔۔۔

عمر حسین چوہدری:
لاہورجسے پنجا ب کا دل کہا جاتاہے اس شہر کی تاریخ بھی بہت پرُانی ہے یہ وہ تاریخی خطہ ہے جس پر بہت سے نیک اور ظالم بادشاہوں نے حکمرانی کی ، اور بھی ہمارے نام نہاد سیاستدان ظالم حکمرانوں کی عکاسی کرتے ہوئے پٹواریوں کے سرپرست بنے دکھائی دیتے ہیں۔کیونکہ یہی بے چارے پٹواری ان کے جلسے جلوس کے میدان سجانے سے لے کر عوام الناس کا جمِ غفیراکٹھا کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں ۔ لیکن بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے ، آئیے دیکھتے ہیں کچھ تصاویر۔۔


جی ہاں یہ کسی جنگل بیاں با ن کی نہیں بلکہ زندہ دلانِ لاہور کے ایک مشہور پٹوار خانے کی تصوریں ہیں ۔ جہاں عوام توکیا خود بیچارے پٹواریوں کا آنے کو جی نہیں کرتا ،پھر بھی جو ں توں کرکے پٹواریوں نے اپنی مد د آپ کے تحت یہ سب خود بنایا ہے۔یہ وہی پٹواری ہیں جن کو عوام اور ایک خاص طبقہ ہر وقت تنقید کا نشانہ بنائے رکھتاہے۔

مزید برآں یہ کہ پٹوارخانے میں ایک ہی واش روم ہے جسے عوام کی نظروں سے چھپا کر رکھا ہواہے سونے پر سہاگہ اس پر ایک تالہ بھی نصب ہے جیسے اندر کوئی قارون کا خزانہ ہے ،جسے کھول دیا تو غریب عوام اسے لوٹ نہ لے۔

رائے عامہ: حکمران جیسے تیسے کرکے عوام کا خون نچوڑ رہے ہیں اور بے بس ولاچار عوام خون دینے پر مجبور ہے ۔
ظالم حکمرانوں کے لئے عوامی گزارش یہ ہے کہ جاتی امراء ، بلاول ہاؤس یا بنی گالا نہ سہی کم از کم ایک صاف ستھری عمارت مہیا کردیں جو اٹھنے بیٹھنے کے قابل ہو، تاکہ نہ صرف پٹواری حضرات بلکہ ان کے پاس آنے والے سائلین جو صبح سے شام تک ان کا انتظار کرتے ہیں ان کی دادرسی ہو سکے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں