روس کو برائی کی جڑ بنا کر پیش کرنا درست نہیں، مقاصد کے حصول تک امریکا شام سے رخصت نہیں ہو گا

انہوں نے
loading...

شام پر فضائی حملے کے بعد امریکا اور روس کے درمیان براہ راست چپقلش کا امکان بڑھ گیاہےدوسری جانب ہی امریکی نِکی ہیلی کا بیان ہےکہ شام میں رہنے کا مقصدکیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنا، داعش کوشکست ،ایران کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنا ہے، انٹرویوز

برلن:جرمنی کے صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے روس کو برائی کا منبع بنا کر پیش کرنے کے سلسلے کو ترک کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں اشٹائن مائر نے کہا تھا کہ شام پر فضائی حملے کے بعد امریکا اور روس کے درمیان براہ راست چپقلش کا امکان بڑھ گیا ہے۔صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے یہ بھی کہا کہ ان دونوں ملکوں کے تعلقات میں خرابی کے منفی اثرات کا جرمنی کو سامنا ہو سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ روس اور مغرب کے درمیان پیدا ہونے والی دوری باعثِ تشویش ہےمقاصد کے حصول تک امریکا شام سے رخصت نہیں ہو گا۔
نیویارک:اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نِکی ہیلی کا کہنا ہے کہ مقاصد کے حصول تک امریکا شام سے رخصت نہیں ہو گا۔ امریکی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہےکہ امریکا کے بنیادی تین مقاصد میں ایک کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال روکنا، دوسرا داعش کی مکمل شکست اور تیسرے ایران کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنا ہے۔ امریکی سفیر نے یہ بھی کہا کہ یہ اْن کی حکومت کا مقصد ہے کہ امریکی فوجی شام سے واپس اپنے وطن لوٹ آئیں، لیکن یہ اْسی صورت میں ممکن ہو گا جب مقاصد حاصل ہو جائیں گے۔ شام میں امریکا کے دو ہزار کے قریب فوجی موجود ہیں۔

مزید پڑھیں۔  امریکہ اسکاٹس ڈیل میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ 6افراد ہلاک
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں