وکلاء ان کی فوری رہائی کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے، جنرل سیکرٹری جی این شاہین

جنرل سیکرٹری جی این شاہین

مقبوضہ کشمیر‘ ساتھی وکیل کی گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کاعدالتی بائیکاٹ

سرینگر:مقبوضہ کشمیر میں ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن سے وابستہ وکلاء نے اپنے ساتھی وکیل کی گرفتاری کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیاہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری جی این شاہین نے سرینگر میں صحافیوں کو بتایا کہ شبیر احمد بخاری کو آئی جی پی کشمیر نے 12مئی کو ٹیلیفون پر کال کرکے ان کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہااور مذکورہ وکیل نے رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس حکام کے سامنے پیش کیاجب سے اس کاکوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔

جنرل سیکرٹری جی این شاہین نے کہا وکلاء ان کی فوری رہائی کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے۔ شبیراحمد بخاری کی گرفتاری کو غیر ضروری ،غیر قانونی اور عدلیہ اور وکلاء پر حملہ قراردیاہے۔ بخاری انسانی حقوق کے کارکن ہیں اور ان کی گرفتاری عدلیہ کی آزادی پر حملہ اورپیشہ ورارنہ فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے بھارتی فورسز کی طرف سے اسلامی یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی اونتی پورہ کے طلباء پر بار بار حملوں اور جارحیت کی بھی مذمت کی۔

جنرل سیکرٹری جی این شاہین بار ایسوسی ایشن بڈگام نے بھی احتجاج کی حمایت کی ہے۔ دریں ا ثناء جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چےئرمین محمد یاسین ملک نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں شبیر احمد بخاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک قراردیا ہے۔ جنرل سیکرٹری جی این شاہین نے مزید کہا کہ شبیر احمد بخاری کو پولیس نے بلاکر جیل میں ڈال دیا ہے۔

مزید پڑھیں۔  ’مسٹر پلاسٹک‘ کے نام سے جانا جانے والا امریکی شخص پلاسٹک جیسی جسامت رکھتا ہے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں