پروٹھوکھول … قمر بخاری

پروٹھوکول، قمر بخاری

مجھے ”پروٹوکول” دو

(اس نے خالص انگریزی لہجے میں ”پروٹھوکھول” کا لفظ ادا کیا(

مگر آپ ہیں کون ؟

میں نے کہا نا۔۔۔ مجھے پروٹوکول دو۔

مگر آپ کی تعریف ؟

”میں وزیر ہوں، مجھے پروٹوکول دو”

لیکن آپ شکل سے تو نہیں لگتے۔

”اگر شکلیں دیکھ کر مناصب ملتے تو آج بڑے بڑے عہدوں پر فائز اکثر لوگ مزدور ہوتے۔”

مگر میں آپ کو کس قسم کا پروٹوکول دوں ؟

” میں کتنی مرتبہ کہہ چکا ہوں مجھے پروٹوکول دو”

مگر صاحب آپ سے تو میری حالت زیادہ بہتر ہے، جمہوریت کی طرح آپ کا حلیہ خراب ہے، معیشت کی طرح آپ بیمار نظر آ رہے ہیں، میں کیسے مان جاؤں کہ آپ ایک وزیر ہیں۔

”ہاں ہاں میں وزیر ہوں”

لیکن آپ کے پاس کوئی لینڈ کروزر یا مرسیڈیز جیسی لگژری گاڑی بھی نہیں پھر آپ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ آپ وزیر ہیں۔

”مگر میں واقعی وزیر ہوں”

آپ بھی عجیب ہیں نہ کوئی گن مین، نہ کوئی پولیس اسکورٹ، آپ کا لباس بھی عام لوگوں جیسا ہے اور باڈی لینگوئج سے بھی آپ کسی طور وزیر نہیں لگتے۔

”یہ سب کچھ بجا ہے مگر مجھے پروٹوکول دو”

اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے لیے گھر جا کر کوئی اپنی گائے بھینس کھول دوں؟

”جی نہیں، مجھے صرف پروٹوکول دو”

تو کیا میں آپ کو دیکھ کر وزیر صاحب زندہ باد، ساڈا وزیر شیر اے باقی ہیرپھیر اے کے نعرے لگاؤں؟

”تم صرف پروٹوکول دو”

کیا میں وزیر آ گیا میدان میں، ہے جمالو کی دھن پر بھنگڑے ڈالوں؟

مزید پڑھیں۔  کلثوم نواز کا آخری خط ...

”ہرگز نہیں”

کیا میں آپ کی شہ پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالوں؟ لوگوں کو بے عزت کروں؟ انہیں تھانے کچہریوں میں چھتر مرواؤں؟

”بالکل نہیں”

کیا میں آپ کے نام پر لوگوں کو بلیک میل کروں؟

”اس کی بھی ضرورت نہیں”

کیا میں آپ کے کوٹے کی ملازمتوں کے عوض لوگوں سے دولت ہتھیاؤں؟

”نہیں نہیں ہرگز نہیں”

اگر آپ کے پروٹوکول میں یہ سب چیزیں شامل نہیں ہیں تو پھر آپ کیسے وزیر ہیں؟

”فضول بحث چھوڑو، مجھے پروٹوکول دو”

آپ کیسے وزیر ہیں نہ آپ کی شخصیت سے ایسا لگتا ہے، نہ کوئی گاڑی ہے آپ کے پاس، لباس میلا کچیلا ہے جو صاف ظاہر کر رہا ہے کہ آپ وزیر تو کیا ضلع ناظم یا کونسلر بھی نہیں ہو سکتے۔ آپ نے غریب زخمیوں کی طرح گلے میں کپڑا ڈال رکھا ہے اور ایک بازو اس میں لٹکایا ہوا ہے، مجھے تو سرے سے آپ وزیر تو کیا کسی وزیر کے پی ایس او بھی نہیں دکھائی دیتے۔

” بھائی میں واقعی وزیر ہوں، میرا پورا نام وزیر علی ہے، لوگ مجھے وزیر وزیر کہہ کر پکارتے ہیں۔ میں یہاں قریبی فیکٹری میں مزدوری کرنے آیا تھا، ہاتھ پر شدید چوٹ لگ گئی ہے، ایک ہاتھ سے میرے قریب پڑی ہوئی پوٹلی کی گرہ نہیں کھل رہی۔ مجھے سخت بھوک لگ رہی ہے مہربانی کر کے پوٹلی میں بندھا پراٹھا کھول دو”

یوں کہیں نا۔۔۔ میں سمجھتا رہا شاید آپ ٹھیٹھ انگریزی زبان میں کہہ رہے ہیں کہ پروٹھوکھول دو۔۔۔ حالانکہ اب پروٹوکول کے زمانے گئے۔ اب تو تبدیلی آ چکی ہے۔

مزید پڑھیں۔  عمران خان وزیراعظم کے پروٹوکول کے خلاف ہیں،نعیم الحق

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں