آزادانہ اور شفاف ضمنی الیکشن ایک روشن مثال

ضمنی انتخابات

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 36 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں پارٹی پوزیشن جاری کر دی۔ پی ٹی آئی نے مجموعی طور پر 15،مسلم لیگ (ن) نے 11 جبکہ پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ( ق )اور اے این پی نے دو دو نشستیں حاصل کیں، 3 آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے۔الیکشن کمیشن نے 36 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا، سندھ اسمبلی کی دونوں نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ۔

انتخابی فارمولے کی روشنی میں دیکھا جائے تو ضمنی انتخابات میں عموماً حکمران جماعت ہی کامیاب ہوا کرتی ہے، لیکن 14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات چونکہ عام انتخابات کے محض 80 دن بعد ہی منعقد ہوئے۔ اس لئے ضروری نہیں کہ ان پر بھی وہی فارمولا نافذ ہو لیکن اتنا ضرور ہے کہ ووٹرز کا ٹرینڈ تو کم از کم وہی ہونا چاہئے تھا جو عام انتخابات میں دیکھا گیا۔ وزیراعظم عمران خان سے بات شروع کی جائے تو سمجھنے میں آسانی رہے گی۔ وہ غالباً واحد رہنما تھے جنہوں نے بیک وقت قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں سے کامیابی حاصل کی لیکن اب ضمنی انتخاب میں پارٹی کے ہاتھ سے عمران خان کی جیتی ہوئی دو نشستیں نکل گئیں۔

ایک تو بنوں کی نشست ہے جہاں عمران خان نے سابق وفاقی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی کو بھاری اکثریت سے ہرایا، لیکن اب ضمنی انتخاب میں اکرم درانی کے صاحبزادے زاہد درانی نے یہ نشست جیت لی۔ عام انتخابات میں بنوں سے اکرم درانی کی ہار پر حیرت کا اظہار کیا گیا تھا، اب جبکہ ان کے بیٹے نے یہ نشست جیت کر واپس لے لی ہے تو ان لوگوں کی حیرت بجا نظر آتی ہے، جن کا یہ خیال تھا کہ اکرم درانی ہی یہاں سے جیتیں گے۔دوسرا حلقہ جہاں سے تحریک انصاف کو بڑا دھچکا لگا ہے وہ لاہور کا حلقہ این اے 131 ہے۔جہاں عام انتخابات میں عمران خان اور خواجہ سعد رفیق کا مقابلہ ہوا تھا، اور عمران خان بہت کم ووٹوں سے یہ نشست جیت پائے تھے۔ اس حلقے کے نیچے صوبائی اسمبلی کی نشست سعد رفیق نے جیت لی تھی۔ اب جب دوبارہ انتخابات ہوئے تو عمران خان کی چھوڑی ہوئی نشست پر ہمایوں اختر خان تحریک انصاف کے امیدوار تھے جبکہ مسلم لیگ کی طرف سے دوبارہ مقابلہ خواجہ سعد رفیق نے کیا۔

اگرچہ لوگ اس پر حیران ہیں کہ ہمایوں اختر خان اتنے زیادہ ووٹ کیونکر لے گئے، لیکن دوسری جانب یہ بھی دیکھنے والی بات ہے کہ جس نشست پر ایک پارٹی کا پاپولر سربراہ محض 680 ووٹوں سے جیتا اس پر خواجہ سعد رفیق زیادہ مارجن سے جیت گئے۔ عام انتخابات میں یہ شکایت عام تھی کہ پولنگ ایجنٹوں کو فارم 45 پر مصدقہ نتیجہ نہیں دیا گیا، لیکن حیرت ہے کہ اس ضمنی انتخاب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یہ حیران کن انکشاف کر رہے تھے کہ پولنگ سٹیشنوں کے انچارج پریذائیڈنگ افسر ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے حلقے کے 40 پولنگ سٹیشنوں کا دورہ کیا اور وہاں پریذائیڈنگ افسروں کا کنٹرول نہیں تھا۔ کنٹرول کون کر رہا تھا، اس کی وضاحت تو انہوں نے نہیں کی لیکن الیکشن کمیشن کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے بلکہ شاہد خاقان عباسی کو بلا کر پوچھنا چاہئے۔

عام طور پر ایسی شکایات وہ امیدوار کرتے ہیں جو ہار جاتے ہیں یا جنہیں اپنی ہار نظر آرہی ہوتی ہے، لیکن یہاں ایک ایسا شخص یہ شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے جو ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہے اور جسے معلوم ہے کہ کس ادارے کے کیا فرائض ہیں۔ ان ضمنی انتخابات کا فوری طور پر تو پارٹی پوزیشن پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ البتہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تحریک انصاف کی جیتی ہوئی تین نشستوں پر مخالفین قابضین ہوگئے۔ دو نشستیں مسلم لیگ (ن) نے جیت لیں اور ایک ایم ایم اے نے۔ یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے اور مہنگائی کے مارے ہوئے لوگوں نے کیا ان اقدامات کو پسند کیا جو تحریک انصاف کی حکومت کر رہی ہے۔ معیشت ایک ٹھوس حقیقت ہے جس کے ساتھ دل لگی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ایسے کسی مذاق سے لوگوں کے دل بہلتے ہیں۔

ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی جیتی ہوئی نشستوں پر اس کے امیدواروں کو ہرا کر یہی پیغام دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی نشستوں پر مسلم لیگ (ن )کی فتح ایک الارمنگ صورتحال ہے اوراس کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ غیر عوامی پالیسیوں سے پی ٹی آئی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے،غریب آدمی پی ٹی آئی سے ناراض ہو رہا ہے۔یہ بات اب حکومت کے ذمہ داران کو سمجھنی چاہئے کہ کامیابی حاصل کرنا اتنا اہم نہیں جتنا اس کو برقرار رکھنا ہے۔اگر عمران خان کی شخصیت کرزما کی وجہ سے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کا موقع مل ہی گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پی ٹی آئی اب صرف دعوؤں اور نعروں سے ہی حکومت کرتی رہے گی۔

حکومت کو اب ڈیلیور کر نا ہو گااور ان ضمنی انتخابات سے سبق سیکھنا ہو گا۔ملک بھر میں ہونیوالے ضمنی انتخابات میں گو پی ٹی آئی اپنی جیتی ہوئی نشستیں ہار گئی ہے لیکن ان انتخابات کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ ضمنی الیکشن انتہائی شفاف اور پر امن انداز میں منعقد ہوئے۔ماضی کے بر عکس نہ سرکاری مشینری استعمال ہوئی نہ بیوروکریسی کو استعمال کیا گیا اور نہ ہی مقامی پولیس کو ضمنی الیکشن جیتنے کیلئے استعمال کیا گیا۔

ان انتخابات کا نادر پہلو یہ ہے کہ ماضی میں ضمنی الیکشن ہمیشہ حکومتی امیدوار ہی جیتتے تھے تاہم ان انتخابات میں سرکاری امیدواروں کی شکست اس بات کا مظہر ہے کہ موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت نے انتخابات کو اپنے حق میں کرنے کی ناجائز کوشش نہیں کی۔لاہور کے انتخابات میں پی ٹی آئی کا کوئی وزیر ،مشیر یا سرکاری عہدیدار پولنگ اسٹیشن پر نہیں پایا گیا۔اسی طر ح وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی انتخابی عمل سے بالکل لاتعلق رہے اور انہوں نے بھی اپنے اختیارات انتخابی نتائج موڑنے کیلئے استعمال نہیں کئے۔تاہم پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی نشستوں پر مسلم لیگ (ن ) کی فتح ایک الارمنگ صورتحال ہے ۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں