سیف علی خان بھی “می ٹو” کے میدان میں کود پڑے

سیف علی خان

جن مرد حضرات نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا ملنی چاہیے، ایسے فلم ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کے ساتھ کام نہیں کروں گا جنہوں نے خواتین کو ہراساں کیا

 گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو اداکارہ تنوشری دتہ نے اداکار نانا پاٹیکر اور بعد ازاں 28 ستمبر کو ہدایت کار وویک اگنی ہوتری سمیت کوریو گرافر اور فلم کی ٹیم میں شامل دیگر افراد پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا کر بھارت میں نئے سرے سے “می ٹو” مہم کا آغاز کیا تھا۔

اسی مہم کے سلسلے میں اب تک کنگنا رناوٹ جیسی اداکاراؤں نے بھی فلم سازوں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اسی مہم کے تحت جہاں وکاس بہل پر الزامات لگے، وہیں ہدایت کار ساجد خان پر بھی الزامات سامنے آئے۔بعد ازاں سبھاش گھائے۔
ٹی سیریز کے مالک بشن کمار اور بھارت کے اسٹیٹ وزیر خارجہ ایم جے اکبر بھی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد ہوئے۔

اسی مہم کے ذریعے جہاں ایک کامیڈین بھارتی اداکارہ کنیز سرکا نے دوسری خاتون کامیڈین اداکارہ ادیتی متل پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔

loading...

اب وہیں بولی وڈ کے چھوٹے خان سیف علی خان نے بھی انکشاف کیا ہے کہ انہیں بھی آج سے 25 سال قبل ہراساں کیا گیا۔ سیف علی خان کے مطابق اگرچہ انہیں جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا گیا۔

تاہم وہ اپنے استحصال پر آج بھی غصے میں ہیں اور اس وقت وہ شدید دباؤ اور تکلیف میں تھے۔ سیف علی خان نے “می ٹو” مہم کے ذریعے اپنی کہانیاں اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو سامنے لانے والی اداکاراؤں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین کا درد بخوبی سمجھتے ہیں۔

سیف علی خان نے کہا کہ جن مرد حضرات نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا یا ان کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کیا، انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا ملنی چاہیے۔ سیف علی خان نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وہ ایسے فلم ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

جنہوں نے خواتین کو ہراساں کیا۔ چھوٹے خان نے اگرچہ اعتراف کیا کہ وہ بھی استحصال کا شکار ہوچکے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس نے اور کیوں ہراساں کیا

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں