سب سے پہلے عمران خان کا گھر ریگولرائز ہوگا جس کے لیے وہ جرمانہ ادا کریں گے، چیف جسٹس

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ وزیرِاعظم عمران خان کا گھر پہلے ریگولرائز ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی دیگر گھر ریگولرائز ہوجائیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بنی گالا میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ بوٹینیکل گارڈن کے تحفظ کے لیے دیوار تعمیر کی جارہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بوٹینکل گارڈن میں اسلام اباد کی 7 یونین کونسل شامل ہیں اس کے علاوہ کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز بھی بنی ہیں جنہوں نے ماحولیاتی ایجنسی سے کلیئرنس نہیں لی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بنی گالا کے تحفظ کے لیے پہلا قدم عمران خان نے درخواست دے کر اٹھایا، ریگولرائزیشن کا معاملہ حل ہونے تک نئی عمارتوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سب سے پہلے عمران خان کا گھر ریگولرائز ہوگا جس کے لیے وہ جرمانہ ادا کریں گے۔

چیف جسٹس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی نہ سمجھا جائے، کیونکہ عمران خان کے بعد باقی شہریوں کو اپنی تعمیرات ریگولرائز کروانے کا کہا جائے گا۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے بنی گالا میں تجاوزات کو ریگولرائز کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل دینے کا بھی حکم دے دیا۔

مذکورہ کمیٹی میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) حکام سمیت سیکریٹری داخلہ پلاننگ اور ماحولیات شامل ہوں گے جو تمام تجاوزات کو ریگولرائز کرکے 3 ہفتوں میں رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔

عدالتِ عظمیٰ نے بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے بنی گالہ میں غیرقانونی کمپنیوں کی لیز منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جو کمپنیاں لیز کے طے کردہ قواعد و ضوابط پر پورا نہیں اترتیں انہیں بند کردیا جائے، کیونکہ اسلام آباد میں دی گئی لیز اقربا پروری پر دی گئی۔

کورنگ نالہ تجاوزات کیس میں تمام درخواستیں مسترد

سپریم کورٹ نے کورنگ نالہ تجاوزات کیس میں نظر ثانی کے لیے دائر تمام درخواستوں کر مسترد کردیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کورنگ نالہ تجاوزات کیس کی سماعت کی۔

عدالتِ عظمیٰ نے مسماۃ اصغر کو انسانی ہمدردی کے تحت شوہر کے کینسر اور 7 سالہ بچے کی پرورش کی بنیاد 4 ماہ کی مہلت دے دی۔

سماعت کے دوران وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ مسماۃ اصغر کا شوہر کینسر میں مبتلا ہے گھر گرگیا تو وہ بے گھر ہوجائیں گے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی گھر ہے اس نے تو گرنا ہے لیکن ہم ہمدردی کی بنیاد پر 4 ماہ مہلت دے دیتے ہیں۔

متاثرہ خاتون نے عدالت میں کہا کہ مجھے اپنی جائیداد پر ہمدردی نہیں چاہیے جن لوگوں نے ہمیں یہ جائیداد دلائی ہے اور فروخت کی ہے ان افراد کو کیوں نہیں پکڑا جاتا جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ چاہیں تو ان کے خلاف مقدمہ درج کروادیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں یہاں پر کچھ کہتا ہوں تو صبح شہ سرخیاں لگ جاتی ہیں، افسوس کہ اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان پٹواریوں نے پہنچایا اور اس کے اوپر کے عملے کے کھانچوں کی وجہ سے غیر قانونی تعمیرات ہوئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے کسی شخص کے لیے قانون تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے تجاوزات کو ہٹانے کے حکم پر نظر ثانی کے لیے دائر تمام درخواستوں کو مسترد کردیا جبکہ ایک درخواست کو منظور کرلیا۔

Spread the love
  • 15
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں