ٹیسٹ سیریز: نیوزی لینڈ کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

نیوزی لینڈ

ابوظہبی: نیوزی لینڈ نے پاکستان کے خلاف تین میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر پہلے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کو نیوزی لینڈ کی صورت میں ایک اور مشکل آزمائش کا سامنا ہے۔ چھ ہفتے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کو ٹیسٹ سیریز میں ایک صفر سے شکست دی تھی۔

اس حوالے سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سرفراز احمد کہتے ہیں کہ سیریز جیتنا آسان نہیں ہوگا۔ پاکستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف آٹھ سال بعد پہلی ٹیسٹ سیریز کی جیت کا انتظار ہے۔ 2011 میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ایک صفر سے شکست دی تھی۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ جمعے سے ابوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن گروئن انجری سے صحت یاب ہوکر ٹیسٹ میچ کیلئے فٹ قرار دے دیئے گئے ہیں۔ پاکستانی کپتان سرفراز احمد پر امید ہیں کہ لیگ اسپنر یاسر شاہ اور فاسٹ بولر محمد عباس کی بولنگ کے ساتھ پاکستان نیوزی لینڈ کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے گا۔

ٹی ٹوئینٹی اور ون ڈے سیریز میں نیوزی لینڈ نے پاکستان ٹیم کا سخت مقابلہ کیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان چار سال پہلے امارات میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اب تک 55 ٹیسٹ میچز ہوئے ہیں جن میں سے پاکستان نے24 اور نیوزی لینڈ نے 10 جیتے جبکہ 21 میچ ڈرا رہے۔

توقع ہے کہ میچ میں پاکستان 6 بیٹسمینوں،ایک وکٹ کیپر، دو اسپنرز یاسر شاہ اور بلال آصف جبکہ دو فاسٹ بولروں محمد عباس اور حسن علی کے ساتھ کھیلے گا۔

اننگز کا آغاز امام الحق اور محمد حفیظ کریں گے۔ مڈل آرڈر بیٹنگ میں اظہر علی، حارث سہیل، اسد شفیق اور بابر اعظم شامل ہیں۔ محمد عباس نے گذشتہ سال اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ وہ دس ٹیسٹ میچوں میں59 وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔

یاسر شاہ آسٹریلیا کے خلاف دو ٹیسٹ میں 8 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں لیکن سرفراز احمد کو یاسر سے بہتر کارکردگی کی توقع ہے۔ سرفراز احمد نے کہا کہ ہماری بولنگ بہت اچھی ہے۔عباس بہت اچھی فارم میں ہیں۔ لیکن مجھے یاسر سے مزید اچھی بولنگ کی توقع ہے۔

سرفراز احمد کہتے ہیں کہ ہم نیوزی لینڈ کو آسان حریف تصور نہیں کرتے۔

پاکستان نے ٹیسٹ ٹیم میں نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو شامل کیا ہے لیکن وہ میچ نہیں کھیلیں گے۔ سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ انہیں تجربہ فراہم کرنے کیلئے ٹیم میں شامل کیا گیا ہے تاکہ جنوبی افریقا کی سیریز تک وہ تیار ہوسکیں لیکن اگر کہیں ضرورت پڑی تو شاہین کو ٹیسٹ کیپ دی جاسکتی ہے۔

پاکستان کے پاس ریگولر چار بولروں کے علاوہ محمد حفیظ، حارث سہیل اور اظہر علی کے اسپین آپشن موجود ہیں۔

کیوی کپتان کین ولیمسن کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم اس فارمیٹ میں نا تجربہ کار ہے، ہمیں سب سے زیادہ خطرہ عباس اور یاسر شاہ کی بولنگ سے ہے۔

توقع ہے کہ نیوزی لینڈ ٹیسٹ میں اسپنراعجاز پٹیل کو ٹیسٹ کیپ دے گا۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے شروع ہونے والے میچ میں آسٹریلیا کے بروس آکسنفورڈ اور انگلینڈ کے ای این گولڈ امپائرنگ کریں گے جبکہ آسٹریلیا کے پال رائفل تھرڈ امپائر اور ڈیوڈ بون میچ ریفری ہوں گے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں