فیض آباد دھرنا کیس: حکومت کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے

پاکپتن اراضی کیس

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نومبر 2017 میں فیض آباد دھرنے کے معاملے پر لیے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی غیرموجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کے روبرو کہا کہ ‘اٹارنی جنرل موجود نہیں، لہذا سماعت ملتوی کر دی جائے’۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ ‘اٹارنی جنرل کدھر ہیں؟ ان کی مرضی ہے آئیں یا نہ آئیں’۔

فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس 16 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ ‘اٹارنی جنرل لاہور میں ہیں، انہیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہدایت دی تھی کہ کچھ کیسز کے سلسلے میں وہاں آئیں’۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ‘چیف جسٹس نہیں عدالت ہدایات دیتی ہے، ہم بھی تو عدالت ہیں اور یہ تاریخ بھی اٹارنی جنرل کی خواہش پر دی تھی’۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ‘پاکستان بند ہو گیا، اس سے اہم کیس کیا ہو سکتا ہے’۔

ساتھ ہی انہوں نے استفسار کیا، ‘یہ مذاق نہیں ہے، اٹارنی جنرل کو تنخواہ کون دیتا ہے؟’

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ‘اٹارنی جنرل کو عوام کے ٹیکس سے تنخواہ ملتی ہے’۔

loading...

جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ‘ٹیکس سے تنخواہ ملتی ہے تو وہ جوابدہ ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر حکومت اس کیس کو نہیں چلانا چاہتی تو عدالت کو بتا دے، اسے دفن کر دیں’۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیئے کہ ‘بتایا جائے پاکستان کو فعال ریاست بنانا ہے، اسے قانون کے ذریعے چلانا ہے یا اسٹریٹ پاور سے؟’

فیض آباد دھرنا اور ازخود نوٹس

یاد رہے کہ آئینی ترمیم الیکشن بل 2017 میں حلف نامے کے الفاظ کو تبدیل کیے جانے پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے گزشتہ برس نومبر میں اسلام آباد میں فیض آباد کے مقام پر 22 روز تک دھرنا دیا گیا، مظاہرین کے خلاف ایک آپریشن بھی کیا گیا، جس کے بعد ایک معاہدے کے بعد دھرنا اختتام پذیر ہوا۔

مظاہرین کے مطالبے کے بعد اُس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

فیض آباد دھرنے میں اسلام آباد پولیس کا کُل خرچہ 19 کروڑ 55 لاکھ روپے آیا جبکہ میٹرو اسٹیشن کی توڑ پھوڑ اور بندش کے باعث قومی خزانے کو 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان بھی ہوا۔

جس کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کا ازخودنوٹس لیا تھا۔

مذکورہ کیس کی گذشتہ سماعت پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے تھے کہ تحریک لبیک کو سیاسی جماعت کے طور پر کس طرح رجسٹرڈ کیا گیا جبکہ یہ پر تشدد واقعات میں ملوث ہے۔

دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن سے ٹی ایل پی کی بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن کا ریکارڈ بھی طلب کیا تھا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں